اے امت مسلمہ بے حسی کی نیندوں کا حصار توڑ کر جیتے جاگتے لمحوں کی اسیر ہو جا!!

اے امت مسلمہ بے حسی کی نیندوں کا حصار توڑ کر جیتے جاگتے لمحوں کی اسیر ہو جا!!

تحریر :خان ام حبیبہ (ممبئی)

جس قوم کو اقراء کا درس دیا گیا تھا آج وہی قوم لکھنے پڑھنے کے معاملات میں دیگر اقوام سے کوسوں دور ہے. جس قوم نے دنیا کو جینے مرنے کا نیا انداز عطا کیا تھا وہی قوم آج مغرب کے اندھیروں میں غرقاب ہوتی جارہی ہے. مشرقی اقدار کے سورج کو مغرب کی چکا چوند نے گہن آلود کردیا ہے. مقدس صحیفے طاقوں کی زینت بن کر رہ گئے ہیں. مسجدوں کو سنگ مرمری پیرہن عطا کردیا گیا ہے. جو قوم گرم چٹانوں پر سجدہ ریز ہوا کرتی تھی اسی قوم کے فرزند مخملی سجدہ ریزی کے محتاج ہو کر رہ گئے ہیں. وضو کے لئے پانی دستیاب نہ ہونے پر مٹی سے تمیم کرنے والی قوم آج سرد موسم میں گرم پانی تو گرمی میں سرد پانی کی محتاج ہو گئی ہے. تلواروں کی جھنکار میں نمازیں ادا کرنے والی قوم ایئر کولر اور اے سی کے دامن میں پناہ لئے ہوئے ہے. ایک خدا ایک پیمبر اور ایک کتاب پر ایمان رکھنے والی قوم مسلم مختلف خانوں میں تقسیم ہو کر تباہی کے دہانوں پر پہنچ گئی ہے. لسانی تعصب, فرقہ بندی اور امیری غریبی کے تفاوت نے قوم مسلم کو اس مقام پر پہنچا دیا ہے جہاں کوئی کسی کا پرسان حال نہیں. طاغوتی طاقتیں منظم سازش کے ذریعے قوم مسلم میں مسلسل تفرقہ پیدا کرتی جارہی ہیں. آج حالت یہ ہے کہ اسلامی ممالک سامراجی ملکوں کے رحم و کرم پر ان کے زیر نگیں ہوتے جارہے ہیں. سلاطین عربیہ دولت کے خمار میں سر تا پا ڈوبے ہوئے ہیں. بیت المقدس پر اسرائیلی قبضہ دراز ہوتا جارہا ہے. امریکہ نے پہلے تو فلسطینی قوم کو ان کی اپنی سر زمین سے بے دخل کرتے ہوئے خانہ بدوشی کی زندگی گزارنے پر مجبور کردیا. آقائے نامدار کی مقدس سرزمین پر صیہونیت نے اپنے ناپاک پنجے گاڑ رکھے ہیں. مسجد قرطبہ میں منبر و محراب کو زنگ آلود کرتے ہوئے صدائے الااللہ سے محروم کردیا گیا ہے.اس مسجدکی مقدس و متبرک سجدہ گاہیں بے لوث سجدوں سےمحروم ماہی بے آب کی طرح تڑپ رہی ہیں.افغانستان کوامریکہ نے تباہ و تاراج کیا پھر اسکے بعد عراق جیسا ملک جہاں کے شہریوں کو پٹرول, بجلی, تعلیم اور طبی سہولیات مفت دی جاتی تھی اسے بھی نیست و نابود کرکے رکھ دیا . افغانستان و عراق کی تباہی کے بعد جب امریکہ کا دل نہیں بھرا تو سامراجی ممالک کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر پلٹ وار کرنے والے لیبیا کے معمر قزافی کے مالدار ترین ملک کو تباہ و برباد کر دیا گیا. پاکستان جیسا اسلامی ملک بھی آج سسک سسک کر دم توڑنے پر مجبور ہے. کھلی آنکھوں سے دیکھنے والی امت مسلمہ اپنے آرام دہ اطلش و کمخواب کے نرم و دبیز بستر پر خواب خرگوش میں گم ہے. اگر کوئی انھیں بے حسی کی نیند سے جگانے کی کوشش کرتا ہے تو یہ امت مسلمہ کے مردہ خوار فرزند اسے بھی نیند کی آغوش میں غرقاب کرنے کی کوشش کرتے ہیں.آج عالم یہ ہے کہ امت مسلمہ تو بے حسی کی نیند میں گم ہے لیکن تعجب خیز امر یہ ہے کہ انھیں نیند سے بیدار کرنے والے خود ساختہ علم برداران بھی بے حسی کی چادر اوڑھے بےحسی کی مزاروں میں بے حسی کی نیندوں میں مست وبےخود ہیں.
نقارہ وقت پر حالات نے اپنی چوب سے منادی کردی ہے کہ جاگ……. جاگ اے امت مسلمہ تیری تباہی کے فرمانوں پر دشمن ممالک نے اپنے خونی دستخط ثبت کردیئے ہیں. بالکل ایسا لگتا ہے جیسے
غنیم آسمانوں میں
دشمن جہازوں کی سرگوشیاں ہیں
اور آنکھوں کے رادار پر
صرف تاریک پرچھائیاں ہیں
جاگ اے دنیا کو جگانے والی اے
امت مسلمہ اب تو جاگ جا. آج اگر تو نہیں جاگی تو وہ دن دور نہیں جب پہاڑ روئی کے گالوں کی طرح اڑ جائیں گے. زمین کا سینہ شق کر دیاجائے گا. آسمان میں شگاف ہو جائے گا اور سورج سوا نیزے پر اتر آئے گا. کیا جب یہ سب ہوگا تبھی تو نیند سے بیدار ہوگی لیکن یہ یاد رکھ اگر ایسا ہوا تو تب تک بہت دیر ہو چکی ہوگی کیونکہ جب ایسا ہوگا تو میدان حشر میں میزان عدل پر خالق ارض و سما ہو گا اور تیرے ہاتھوں میں تیرا اعمال نامہ یہ ثابت کرے گا کہ تجھے جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا کیا جائے یا جہنم کے بھڑکتے شعلوں کی غذا بنا دیا جائے. اس لئے نیند میں غرقاب اے امت مسلمہ اب تو جاگ جا. خدارا کھول اپنی آنکھیں دیکھ
سنو گجر کیا گائے…… سمئے گزرتا جائے
اے امت مسلمہ بے حسی کی نیندوں کا حصار توڑ کر جیتے جاگتے لمحوں کی اسیر ہو جا
ورنہ تیری داستاں تک نہ ہوگی داستانوں میں.