ضیاء الحق صاحب کی وفات ایک بڑا علمی خسارہ

ضیاء الحق صاحب کی وفات ایک بڑا علمی خسارہ

تحریر : ڈاکٹر محمد منظور عالم
(چیئرمین انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیز)

کل یعنی 22 اپریل 2021 کو عشاء سے پہلے اس خبر کو سن کر دل و دماغ پر شدید دھچکہ لگا کہ ہمارے محترم اور دیرینہ رفیق جناب ضیاء الحق اس دنیا سے رخصت ہوگئے. موت تو سب کو آنی ہے. کوئی اس سے مستثنیٰ نہیں ہے، لیکن بعض لوگ اپنی شخصیت، اپنے ذہن اور اپنے علم و فکر کے لحاظ سے اس درجے کے ہوتے ہیں کہ ان کا جانا شدید خلا کا احساس دلاتا ہے. ضیاء الحق صاحب ایسے ہی اصحاب علم و فکر میں تھے. ان کا اصل میدان صحافت تھا. لیکن انہوں نے صحافت کو صرف ایک پیشے کی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک عظیم ذمے داری کی حیثیت سے اختیار کیا. انہیں انگریزی، اردو اور ہندی تینوں زبانوں پر پورا عبور حاصل تھا. اس کے علاوہ ایک بڑے عالم دین کے بیٹے ہونے کی وجہ سے انہیں عربی اور فارسی سے بھی خاصی مناسب تھی. ان دونوں زبانوں کے اشعار، تعبیرات اور محاورات بھی ان کے حافظے میں موجود تھے. یہی وجہ ہے کہ جب وہ لکھتے یا گفتگو کرتے تھے تو پڑھنے یا سننے والے کو گہرائی و گیرائی کا احساس ہوتا تھا. ہر شخص محسوس کرلیتا تھا کہ یہ کوئی علم و تحقیق والا انسان ہے. یہ اپنے میدان میں بہت مضبوط اور پختہ کار ہے. ضیاء الحق صاحب کی پختہ کاری اور اپنے میدان میں میں دانش ورانہ مہارت ہر شخص کو مسلم تھی.

جناب ضیاء الحق کی ایک بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ ایک سطر لکھتے ہوئے یا ایک جملہ بولتے ہوئے بھی اپنی ذمے داری کا احساس کرتے تھے. انہیں ہمیشہ اس بات کا احساس رہتا تھا تھا کہ کہیں ان سے کسی طرح کی علمی خیانت نہ ہوجائے. علمی خیانت کو وہ ایک جرم اور ناجائز کام سمجھتے تھے. ایسے لوگوں سے وہ سخت متنفر رہتے تھے، جو غیر ذمے دارانہ انداز میں بغیر کسی مستند حوالے کے باتیں کر جاتے ہیں. ان حضرات کے خلاف وہ بے باک انداز میں اپنی بات پیش کردیا کرتے تھے.

ضیاء الحق صاحب الجزیرہ سے بھی وابستہ رہے اور ٹائمز آف انڈیا کے لیے بھی لمبے عرصے تک اپنی خدمات پیش کیں. اس کے علاوہ وہ مختلف صحافتی اداروں اور علمی اور تحقیقی مراکز کے لیے بھی جزوقتی طور پر اپنی خدمات پیش کرتے رہے. انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو کے ساتھ بھی ان کی لمبے عرصے تک وابستگی رہی. انسٹی ٹیوٹ کے انگریزی شعبے کو ان کی وجہ سے بہت تقویت حاصل تھی. انسٹی ٹیوٹ سے انگریزی زبان میں شائع ہونے والے اہم علمی و فکری مواد پر وہ نظر ثانی بھی کرتے تھے اور مختلف علمی منصوبوں میں اپنی عالمانہ خدمات بھی پیش کرتے تھے. انسٹی ٹیوٹ میں ہمیشہ اور ہر موقعے پر ان کی شخصیت اور ان کی رائے کا وزن محسوس کیا جاتا تھا. یہ بھی ان کی دیانت داری اور اخلاص کی بات تھی کہ اگر کسی منصوبے پر یا کسی تحریر میں وہ کوئی نقص محسوس کرتے تھے، تو فوراً اس پر اپنا اختلاف درج کراتے تھے. اس سلسلے میں وہ کسی رو رعایت کے قائل نہیں تھے.

کم لوگ جانتے ہوں گے کہ جناب ضیاء الحق کے اندرون پر مذہبی رنگ کی بھی گہری چھاپ تھی. اپنے والد محترم کی تربیت اور مختلف علمائے کرام کی صحبتوں اور مجلسوں نے ان کے مذہبی رنگ کو بہت گہرا کردیا تھا. اپنے لکھنؤ کے زمانہء قیام میں وہ مفکر اسلام مولانا سید ابو الحسن علی حسنی ندوی سے بھی وابستہ رہے. مسلسل ان کی مجلسوں میں شرکت کرتے رہے اور مولانا بھی ان پر شفقت فرماتے رہے. ضیاء الحق صاحب ہمیشہ ان مجلسوں کو یاد کیا کرتے تھے. نماز، روزے اور دیگر دینی و مذہبی امور میں وہ بہت پابندی اور پوری یکسوئی کے ساتھ شرکت کیا کرتے تھے. شاید اسی کا نتیجہ ہے کہ اللہ تعالی نے ان کو اپنے پاس بلانے کے لیے رمضان کے مبارک مہینے میں جمعرات کا مبارک دن منتخب فرمایا. وہ اب اس دنیا سے چلے گئے لیکن اپنے وابستگان، اھل تعلق اور بالخصوص اپنے سے وابستہ نئے اسکالرز اور نوجوانوں کے لیے وہ ایک اچھی مثال قائم کر گئے ہیں. اُن کی وفات کو میں اپنا ذاتی نقصان تصور کرتا ہوں.

دعا ہے کہ اللہ تعالی ضیاء الحق صاحب کی مغفرت فرمائے، جنت الفردوس کو ان کا مسکن بنائے، ان کی خدمات کو قبول فرمائے اور ان کے پس ماندگان کو صبر جمیل کی توفیق عطا فرمائے اور نوجوان نسل کو ان کے طریقے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے. آمین