کورونا  کی واپسی  اور وزیر اعظم کے بول بچن

کورونا  کی واپسی  اور وزیر اعظم کے بول بچن

ڈاکٹر سلیم خان

ملک میں کورونا سے متاثرین کی تعداد نے جب  ایک لاکھ کا عدد پار کیا تو وزیر اعظم  کو اس کا خیال آیا ورنہ تو  وہ انتخابی مٹرگشتیوں   میں ایسے مست  تھے کہ اگر کوئی کہتا کہ  کورونا!  تو پوچھتے کون کورونا ؟ 56؍ انچ کا سینہ  رکھنے والے  اس  سے نہیں ڈرتے ۔ خیر اس جملۂ معترضہ سے قطع نظر یہ بات تشویشناک ہے کہ  4 ؍ اپریل سے قبل 16؍ستمبر کو ملک میں سب سے زیادہ 97 ہزار 860 مریضوں کی تشخیص ہوئی تھی ۔ یعنی ملک ایک دن کے اندر ایک لاکھ یا اس سے زیادہ مریض کبھی نہیں آئے تھے لیکن اب  اس  ریکارڈ کو  1 لاکھ 3 ہزار 794 کی تعداد نے توڑدیا ہے ۔ یہ کوئی معمولی بات  نہیں ہے کیونکہ اس دن ہندوستان دنیا کا واحد ملک تھا جہاں 24 گھنٹوں کے اندر اتنے زیادہ لوگ متاثر ہوئے تھے ۔  اس بات نے غالباً وزیراعظم نریندرمودی کو تھوڑا سا سنجیدہ بلکہ رنجیدہ کردیا اور انہوں ملک میں کووڈ19کی صورتحال کا جائزہ لینے کا ارادہ کیا ۔   ان کی صدارت میں ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ منعقد کی گئی اور   ٹیکہ کاری پروگرام پر  بھی اس نشست میں گفتگو ہوئی   ۔ اس کے ساتھ    کورونا کی واپسی   سے پیدا شدہ صورتحال سے   موثر طور پر نمٹنے کے ساتھ  سماجی  بیداری کی ضرورت کو محسوس کیا گیا ۔

وزیر اعظم ہر موقع پر دو کام ضرور کرتے ہیں ایک تصویر کھنچوانا یا ویڈیو بنوانا  اوردوسرے تقریر یا کم ازکم وعظ و نصیحت کرنا۔ اس موقع کے لیے شاید ان کی تقریر لکھنے والے تیار نہیں تھے اس لیے انہوں نے پرانی  گھسی پٹی تقریر کا مسودہ پکڑا دیا۔ ویسے اتنی ساری تقریریں کرنے والے خطیب کو کہاں یاد رہتا ہے کہ کب کیا کہا تھا ؟  ویسے بھی جن باتوں پر عمل کیا جائے وہی یاد رہتی ہیں  ورنہ تو انسان نسیان کا پتلا ہے۔   وزیر اعظم مودی نے اپنے خطاب میں  کورونا کو  پھیلنے سے روکنے کے لیے عزم و سنجیدگی ،  جانچ، علاج، احتیاط  اورٹیکہ کاری  پر مشتمل ایک  پنج  رخی حکمت عملی نافذکرنے کا مشورہ دیا۔ انہوں  نے بجا طور پر  کووڈ ؍19 سے نمٹنے کے لئے عوامی شراکت داری کی ضرورت   اس کا احساس دلایا اور اس کی خاطر تحریک  چلانے کا مشورہ دیا۔ وزیر اعظم چونکہ مہم جو انسان ہیں اس لیے انہوں نے  100فیصد ماسک کا استعمال اور کووڈ کی روک تھام  کے دیگر  اصولوں پرعمل آوری کے لئے اس ماہ کی6 سے 14 تاریخ تک ایک خصوصی مہم کا اہتمام کا اعلان کیا ۔

 

ویسے کسی مہم کے بغیر بھی وزیر اعظم کے ہر لفظ کو  گودی میڈیا زمین پر گرنے نہیں دیتا بلکہ نہایت سعادتمندی سے چن کر اسے  اپنے اخبار یا ویڈیو کی زینت بنا دیتا ہے اس لیے امید ہے کہ انتخابی مہم کے شانہ بشانہ  ایک ہفتہ تک یہ   کام  بھی زور و شور سے ہوگا  اور کیوں نہ ہو روزی روٹی کا سوال ہے۔

اس  مہم کو سب سے زیادہ خطرہ خود وزیر اعظم کی ذاتِ گرامی سے ہے۔ کہیں انہوں نے ایک ایسا پوسٹر نکال دیا کہ جس میں ٹوپی لگا کر کوئی مسلمان نظر آنے والا نوجوان ان کے کان میں کچھ کہہ رہا ہے تو سوشیل ڈسٹنسنگ یعنی سماجی فاصلے کی نیاّ ڈوب جائے گی  اور اگر 3؍اپریل  کی مانند  بغیر ماسک کے  منہ اور دل کھول   کر  نہ بولنا شروع کردیا تب تو ماسکنگ کے اپدیش کا  بھی جنازہ    اٹھ جائے گا ۔ ویسے    بھکتوں کے لیے ان زبان کا زہر  کورونا کے مضراثرات پر تریاق کا کام کرتا ہےاور وہ بے خوف و خطر پارٹی کے لیے اپنا تن من دھن سب جھونک دیتے ہیں ۔  اسے کہتے ہیں جادو وہی جو سر چڑھ کر بولے اب دیکھنا یہ ہے کہ بنگال کا کالا جادو اس پر غالب ہوپاتا ہے یا نہیں ؟وزیراعظم  کی توجہ انتخاب سے ہٹا کرکورونا کی  سنگین صورتحال کی جانب مبذول کرانے کے لیے منعقدہ   میٹنگ  میں پیش  کیے جانے والے  اعدادو شمار نے   یہ  بات  اجاگرکردی  کہ ملک میں  وبا کے کیس  اور اموات میں اضافے کی شرح تشویش ناک ہے ۔

اس کے علاو یہ  افسوسناک صورتحال  بھی سامنے آئی  کہ  کووڈ کی  کُل اموات میں سے 91 فیصد سے زیادہ کاارتکاذ  جملہ  10ریاستوں میں ہے۔ وزیر اعظم نے پبلک ہیلتھ ماہرین اور طبی ماہرین پر مشتمل مرکزی ٹیموں کو زیادہ معاملات اور اموات کے پیش نظر مہاراشٹر ، پنجاب اور چھتیس گڑھ بھیجنے کی ہدایت کی۔  متاثر صوبوں میں مرکز کی ٹیم روانہ کرنے کے  علاوہ بستروں کی دستیابی، ٹیسٹ کی سہولیات اور بروقت اسپتال میں علاج کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا ۔ وزیر اعظم نے صحت کے بنیادی ڈھانچے، آکسیجن اور وینٹی لیٹرز کی دستیابی میں اضافہ کرکےمشکل  حالات میں مریض کو موت سے بچانے کی ضرورت کا تذکرہ کیا اور تمام اسپتالوں میں طبی علاج کے بندوبست کے پروٹوکو لز کو یقینی بنانے کا یقین دلایا۔

اس طرح کی  بھاشن بازی تو کوئی بھی کرسکتا ہے لیکن  وزیر اعظم سے توقع کی جاتی ہے  کہ وہ  عوام کو راحت پہنچانے کے لیے ٹھوس لائحۂ عمل  پیش کریں  اور ان پر روبہ عمل ہونے  کے لیے ضروری  وسائل مہیا کیے جائیں ورنہ انتخابی وعدوں کی مانند یہ باتیں بھی ہوا میں تحلیل ہوکر غائب ہوجاتی ہیں ۔ فی الحال ملک  سب  سے زیادہ متاثر   ریاستوں میں چونکہ   مہاراشٹر ،پنجاب اور چھتیس گڑھ  سر فہرست ہیں  اور کانگریس کے ما تحت بھی  ہیں اس  لیے  ان کی مدد کرنا مرکزی حکومت  کے لیے ایک بڑا دھرم سنکٹ   ہے۔ ایسے میں وفود کاجائزہ ہوجائے تب بھی معاملہ  شاید ہی   زبانی جمع خرچ سے آگے بڑھ کر  مالی  تعاون کی شکل اختیار کرے ۔ سنگھی نکتۂ نظر سے  جس ریاست کے  لوگوں نے بی جے پی کو ووٹ دینے کی غلطی نہیں کی وہ بھلا   کسی قسم کی ہمدردی و غمخواری  کے مستحق کیسے ہوسکتے ہیں؟

کورونا کی  ویکسین کی طرح  وزیر اعظم کا یہ  پروچن  ان  کی دوسری خوراک  تھی ۔ اس سے قبل انہوں نے 18 مارچ کو جبکہ کورونا کے مریضوں کی تعداد 40 ہزار کو چھونے والی تھی اسی طرح کا ایک بھاشن دیا تھا۔  اس  وقت بھی  انہوں نے ملک کی کچھ ریاستوں میں کورونا وائرس کی واپسی اور تیزی سے پھیلنے پر تشویش کا اظہار کرکے روک تھام کی تلقین کی تھی ۔  کورونا کے خلاف مہم میں اب تک کی حصولیابیوں کو برقرار رکھنے پر زور دیتے ہوئے وزیر اعظم  نے کہا تھا  کہ اب لاپروائی کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔کورونا کی لڑائی میں اب تک کی کامیابی سے  آنے والا اعتماد، لاپروائی میں نہیں بدلنا چاہیے۔ عوام کو ‘پینِک موڈ’ میں لائے بغیر  پریشانی سے نجات بھی دلانی ہے۔ ٹیسٹ، ٹریک اور ٹریٹ کے سلسلے میں بھی اتنا ہی سنجیدہ ر ہنے کی ضرورت ہے  کہ جیسا  گذشتہ ایک برس سے ہیں۔بدقسمتی تقریر کے بعد اپنے ان الفاظ کو بھول  بھال کر وزیر اعظم  خود  انتخابی مہم میں جٹ گئے۔

وزیر اعظم نریندر مودی کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ  انہوں نے نہ صرف بنگال ، آسام ، کیرالہ کا دورہ کیا بلکہ انتخابی مہم چلانے کی خاطر بنگلادیش تک  پہنچ گئے   ۔   ویسے  مودی جی کے لیے یہ کوئی عجیب بات نہیں ہے۔  وہ اگر  ٹرمپ کو  کامیاب کرنے  کے لیے  امریکہ جاسکتے ہیں تو اپنی پارٹی کی خاطر   بنگلادیش کیوں نہیں جاسکتے ؟ انہوں نے نہ صرف ٹرمپ کی خاطر امریکہ کا قصد کیا تھا  بلکہ ہندوستان بلاکر انہیں  نمستے بھی کہا  تھا۔ اس طرح گویا اپنے آدرش گجرات کی  سرزمین پرامریکی سابق صدرکو   انتخابی مہم چلانے کا موقع بھی دیا۔ اس کے باوجود بھی اگر ٹرمپ نا کام ہوگئے  تو اس میں مودی جی کا کیا قصور؟ جہاں تک کورونا کا سوال ہے وزیر اعظم بنگلادیش میں خود  کوسرکاری تقریبات تک کو محدود رکھنے کے بجائے مندروں کے درشن پر نکل پڑے جس  کے دو خطرناک نتائج نکلے۔ ا ول تو ان کے خلاف مظاہروں نے  یہ خوش فہمی دور کردی کہ پورا بنگلا دیش ہنوز ہندوستان کا احسانمند  ہے ۔  اس احتجاج پر سفاکانہ  گولی باری  میں کئی جانیں تلف ہوئیں نیز  کورونا کا زور اس قدربڑھا کہ حسینہ واجد کو ایک ہفتہ کا لاک ڈاون لگانے پر مجبور ہونا پڑا ۔  یہ حسن اتفاق ہے ملک میں کورونا کی پہلی لہر ٹرمپ کی واپسی اور دوسری لہر بنگلادیش سے وزیر اعظم کے لوٹنے پر آئی۔

ملک کی عوام  گزشتہ سال ان دنوں میں  دوہرے عذاب کا شکار تھے ۔ ایک طرف کورونا زخم پر زخم دےرہا تھا اور دوسری جانب وزیر اعظم آئے دن ٹیلی ویژن پر آکران  زخموں پر نمک پاشی فرماتے تھے ۔    اس روایت کو جاری رکھتے ہوئے اس بار بھی وزیر اعظم نے ملک میں کووڈ-19 کے بندوبست کیلئے پچھلے پندرہ مہینے میں کیے جانے والے  اجتماعی اقدام کو بیکار ہونے سے بچانے کا حکم دے دیا۔ ملک کا بچہ بچہ جانتا ہے کہ وطن عزیز میں   سرکاری اقدامات کا آغازصرف 12 ماہ قبل ہوا تھا وہ اچانک 15میں کیسے ہوگئے یہ تو وزیر اعظم ہی بتاسکتے ہیں خیر بڑے بڑے لوگوں سے چھوٹی موٹی غلطیاں ہوتی رہتی ہیں۔  وزیر اعظم  نے جشن ویکسین کا  بھی اعلان کردیا ہے جبکہ مختلف حصوں  مثلاًمہاراشٹر ، بہار، راجستھان کے بعد اب اترپردیش، پنجاب اور دہلی  سے ویکسین کی قلت کا شور بھی سنائی دے رہا ہے۔ ایسے  حزب اختلاف  ویکسین کی برآمد پر سوال اٹھا رہا ہے جس  کورونا کے پھیلنے کی شرح ایک ہفتہ قبل ایک لاکھ تھی اب بڑھ کر  یومیہ ایک لاکھ 44 ہزار تک پہنچ گئی ہے۔  ایسا معلوم ہوتا  ہے کہ کورونا  کے جرثومے نے  وزیر اعظم کے بول بچن  سے بچنے کا ٹیکہ لے لیا ہے۔