دینی،تعلیمی و روحانی درسگاہ جامعہ رحمت گھگرولی سہارنپور میں عظیم الشان “جلسہ اصلاح معاشرہ کا ” انعقاد

سہارنپور 4 اپریل : دینی،تعلیمی و روحانی درسگاہ جامعہ رحمت گھگرولی سہارنپور میں عظیم الشان “جلسہ اصلاح معاشرہ کا ” انعقاد

دینی،تعلیمی و روحانی درسگاہ *جامعہ رحمت گھگرولی* سہارنپور میں اصلاح معاشرہ کمیٹی اترپردیش آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی زیر نگرانی *11ویں رحمت کانفرنس* کے زیر اہتمام ایک عظیم الشان *جلسہ اصلاح معاشرہ کا* انعقاد کیا گیا، پروگرام کا آغاز مولانا منور مہاراشٹر کی تلاوت اورعبدالصمد مغیثی متعلم جامعہ ہذا کی نعت نبی سےہوا جس کی صدارت *آل انڈیا ملی کونسل کے قومی صدر ورکن تاسیسی آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ عاشق ملت مولاناحکیم محمد عبداللہ مغیثی* نے کی۔

نظامت پروگرام کے کنوینر *(مولانا ڈاکٹر) عبد المالک مغیثی ضلع صدر آل انڈیا ملی کونسل سہارنپور* نے انجام دی۔موصوف مذکور نے تشریف لانے والے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔بعد ازاں پروگرام میں تشریف لائے علماء کرام کا تعارف پیش کیا،جلسہ کے اھداف ومقاصد سمجائے اور آغاز میں میں اصلاح معاشرہ کمیٹی اترپردیش آل انڈیا مسلم پر سنل لابورڈ سے حاضرین کو متعارف کرایا اور ان کو اصلاح معاشرہ کی کوششوں کاحصہ بننے کی ترغیب بھی دی۔

آغاز میں طلبہ جامعہ ہذا کا پروگرام پیش کیا گیا جس میں طلبہ نے اپنی تقاریر،نعتیں پیش کیں اور سامعین کے قلوب کو گرمایااور مسحور کیا۔

اپنے کلیدی و صدارتی خطاب میں *مولانا حکیم محمد عبداللہ مغیثی* نے کہا کہ موجودہ زمانہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے وقت سے زیادہ برا نہیں،اس زمانہ میں میں فتنہ،فساد،خرافات اور شرانگیزیاں عام تھیں،53 سال آپ نے وہ تکلیفیں برداشت کی جو آج ہم نہیں کرسکتے ،لیکن آپ نے اللہ تعالی کی طرف توجہ کی اور پھر اللہ تعالی نے آپکی اور آپکی قوم کی حفاظت کی اور سرخ روئی عطا فرمائی۔
اسی طرح انھوں نے نمازوں کی پابندی کے ساتھ ادائیگی کی تاکید کی اور اپنے گھریلو اور معاشرتی نظام کو خوبصورت بنانے پر زور دیا، مولانا نے عوام کو اصلاح معاشرہ کمیٹی کے پلیٹ فارم سے اصلاحی کوششوں کوانجام دینے کی بھی دعوت دی،اپنی گفتگو کےاخیر میں انھوں نے *امیر شریعت مولانا سید ولی رحمانی* کے لئے دعاء مغفرت اور تعزیت مسنونہ پیش کی۔
*مولانا سلمان بجنوری نقشبندی استاذ دارالعلوم دیوبند* نے اپنے فکرانگیز خطاب میں بہت سنجیدگی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج ہم اللہ تعالی کو بھولنے کی وجہ سے اپنے آپ کو بھول گئے ہیں،معاشرے میں جو حماقتیں ہوری ہیں اسے دیکھ کر احساس ہوتا ہے کہ ہمارے اعمال ایسے ہیں کہ اللہ تعالی ہماری حالت کسی طرح نہیں بدل سکتا جسکا نتیجہ یہ ہوا کہ آج ایمان کے خطرے ہمارے گھروں تک پہنچ گئے ہیں،انھوں نے مسلم نوجوانوں میں بڑھ رہی بے راہ روی اور مسلم بچیوں میں پھیلتے ہوئے ارتداد کے اسباب اور ان کے حل پر مختصر طور پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ مسلمان اپنے بچوں کی دینی تعلیم وتربیت کی فکر کریں اور اپنے اور اپنی نسلوں کے دین و ایمان کے تحفظ کے لیے جدوجہد کریں،انھوں نے اپنی گفتگو کے اخیر میں بڑوں کی رہنمائی میں آگے بڑھنے اور نسلوں کی حفاظت کی تلقین کی۔

*عبدالماجد نظامی چیف ایڈیٹر ہند نیوز* نے اپنے پر مغز خطاب میں ملک کے مختلف حالات واقعات کی روشنی میں مکاتب و مدارس کے نظام کو مضبوط کرنے کی بات کہی۔

*مولانا تبریز عالم آرگنائزر کل ہند دارالقضا کمیٹی* نے نکاح کو عبادت قرار دیتے ہؤے عوام کو جہیز کی خرابیوں کی طرف توجہ دلائی۔

*مفتی عاشق قاضی دارالقضا پھلت* نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم،خیرالقرون اور اسلاف کی زندگیوں کی روشنی میں زوجین کے باہمی رشتہ پر گفتگو کی۔
*مولانا انعام اللہ قاسمی رفیق المہد الاسلامی مانک مؤ* نے مسلمانوں میں قرآن کے پیغام کو عام کرنے کی بات کہی اور ان سے گزارش کی کہ وہ اپنی نسلوں کو قرآن کریم سے جوڑیں۔
*مفتی احسان صدر مفتی دارالعلوم وقف دیوبند* نے بھی زوجین کے حقوق اور ذمہ داریوں پر روشنی ڈالی اور میراث میں لڑکی کو اسکا شرعی حق دئے جانے پر زور دیا۔

پروگرام کے درمیان میں جامعہ ہذا کے فارغ التحصیل 45 حفاظ کرام کی دستار بندی کی گئی اور انھیں سند سے نوازا گیا۔

اسی درمیان *(مولانا ڈاکٹر) عبدالمالک مغیثی* نے تمام حاضرین سے درخواست کی کہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی اصلاح معاشرہ کمیٹی کی جانب سے تیار کردہ اقرار نامے میں مذکور باتوں کا اقرار کریں اور ان پر عمل کا مزاج بنائیں کہ یہ شریعت کی پسند اور وقت کی اہم ضرورت ہے اور پھر نکاح کو سادہ اور مسنون بنانے کے سلسلے میں اقرار نامہ پر عہد دلایا اور تمام سامعین نے عہد کیا کہ وہ اپنے بچوں اور عزیزوں کے نکاح کے موقع پر اس کی پابندی کریں گے اور سماج سے مسرفانہ رسوم کے خاتمہ آگے آئیں گے۔

پروگرام میں متعد علمائے کرام اور ممتاز شخصیات کے خطاب ہؤے جن میں خصوصی طور ہر، *مولاناعبدالحمید قاسمی مہاراشٹراخلیفہ پیر ذوالفقار نقشبندی،مفتی عمران قاسمی مہتمم احمدالعلوم خانپور گنگوہ،مولانا عبدالخالق مغیثی ناظم تعلیمات جامعہ ہذا،حاجی فضل الرحمن علیگ ایم پی اور عمر علی خان سابق ایم ایل سی* قابل ذکر ہیں۔

پروگرام کا اختتام صدر محترم *مولانا عبداللہ مغیثی* کی پر سوز دعا پر ہوا۔

اس اجلاس میں کثیرتعداد میں لوگوں نے شرکت کی، نیز اطراف اور قریبی اضلاع کے علماء، ائمہ اور خواص بھی بڑی تعداد میں شریک ہؤے اور جامعہ رحمت کے پلیٹ فارم سے معاشروں میں پھیلی طرح طرح کی خرابیوں کے ازالہ کے لئے ،نیز مسنون نکاح مہم کے حوالہ سے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے پیغام کو سماعت کیا اور اپنے اپنے علاقوں میں اصلاح معاشرہ کی جدوجہد کو تیز کرنے کا عزم کیا۔

پروگرام میں خاص طور پر مولانا محمد طاہر شیخ الحدیث رائے ہور،صوفی معین الدین خانقاہ پٹھیڑ،شاہ عتیق خانقاہ رائے پور،مولانا آصف ندوی ناظم کاشف العلوم چھٹمل پور،مولانا برہان مرزاپور،مولانا طیب عماد پور،صوفی ساجد،ڈاکٹر واصل،قاری ذیشان قادری،بابا اکرام بنگلور،حاجی یامین ٹمکور کرناٹک،حاجی عیاض مہاراشٹرا ،مولانا راشد جمال بہٹ،مولانا مسرور دیوبند،مولانا عارف رشیدی،مولانا عبدالماجد مغیثی،قاری نثار مولانا اسجد،مولانا راشد لوہاری،مولانا سلمان ندوی اور وسیم اکرم تیاگی ،مولانا سالم مظاہری ، قاری عبدالباری مغیثی ، مولانا بلال بجرولوی اشرف ریاض الحسینی، مولانا دلشاد ، مولانا وسیم، مولانا اسرار ، مولانا فروز ، وغیرہ موجود رہے۔

جاری کردہ : *شعبۂ نشر واشاعت جامعہ رحمت گھگھرولی سہارنپور یوپی*