عنوان: سجدہ (آزاد نظم)

عنوان: سجدہ (آزاد نظم)
از قلم رمشا یاسین

میں جھکی تھی دنیا کے آگے،
میں رویئ تھی دنیا کے آگے،
امید تھی مجھ کو دنیا سے ہی،
یقین تھا مجھ کو دنیا پہ ہی،
دنیا نے مجھے ٹھکرادیا،
مجھے چلتے چلتے گرا دیا۔

کر کے خود کو خدا سے غافل،
کر کے خود کو دنیا کے قابل،
آگ کی لپٹوں میں جلتی رہی،
میں دنیا کو خدا سمجھتی رہی،
دنیا نے مجھے ٹھکرادیا،
مجھے چلتے چلتے گرادیا۔

محبت میں مجھ کو ٹھوکر ملی،
رشتوں نے مجھ کو تنہا کیا۔
میں جب سڑک پر آگیئ،
مجھے پھر خدا یاد آگیا۔
میں پھر جھکی خدا کے آگے،
میں رویئ بس خدا کے آگے۔

وہ ایک سجدہ جو میں نے کیا،
سارے گناہوں کو دھو گیا۔
وہ آنسو جو آنکھوں سے بہ گیئ،
میری روح کو وہ چھڑا گیئ۔
میں پھر خدا کی ہو گیئ،
اور خدا بھی میرا ہوگیا۔

پھر چلتے چلتے گری نہیں،
گری تو خود ہی اٹھ گیئ۔
مجہے وہ سبھی کچھ مل گیا،
جو دنیا نے مجھ کو دیا نہیں۔
میری آرزوئیں پوری ہوئیں،
تمناؤں کو منزل ملی۔
رشتوں نے بھی پھر یاد کیا،