حالات کے شکار لوگوں کو حوصلہ چھوڑ کر منشیات کا سہارا نہیں لینا چاہئے:مفتی محمدہارون ندوی

حالات کے شکار لوگوں کو حوصلہ چھوڑ کر منشیات کا سہارا نہیں لینا چاہئے:مفتی محمدہارون ندوی
دھولیہ میں جمعیۃ علماء کے زیر اہتمام جلسہ عام بعنوان نشہ مخالف مہم کا انعقاد
دھولیہ / خاندیش 12/ فروری: اسلام میں نشہ آور چیز حرام ہے۔ اسلام جس کام سے منع کرتا ہے اس میں دنیا و آخرت دونوں کا فائدہ ہوتا ہے۔ آج ہمارا معاشرہ نشہ اور نشہ آور ادویات کی وجہ سے تباہی کے اندھے کنویں کی طرف بہت تیزی سے جارہا ہے۔دنیا پریشانیوں اور مصیبتوں کا دوسرا نام ہے،اگر کوئی حالات کا شکار ہوتا ہے تو اس کو حوصلہ چھوڑ کر منشیات کا سہارا نہیں لینا چاہئے۔ان خیالات کا اظہارمفتی محمدہارون ندوی صدر جمعیۃعلماء ضلع جلگاؤں و ڈائریکٹر وائرل نیوز لائیو جلگاؤں،مہاراشٹر نے جمعیۃعلماء دھولیہ کے زیر اہتمام جلسہ عام بعنوان نشہ مخالف مہم سے خطاب کے دوران کیا۔
تنظیم اصلاح معاشرہ جمعیۃعلماء دھولیہ کے زیر اہتمام منعقدہ جلسہ عام میں ہزاروں مرد و خواتین کے مجمع سے خطاب کرتے ہوئے
مفتی محمدہارون ندوی نے فرمایا کہ نشہ کی عادت معاشرہ کے لئے ایک خطرناک ناسور ہے،اسلام کلی طور پر نشہ کو حرام قرار دیتا ہے خواہ اس کی مقدار کم ہو یا زیادہ………اس لئے ہر طرح کا نشہ نشہ ہوتا ہے اور حرام ہوتا ہے۔نشہ آور غذا اور دوا یا انجیکشن وغیرہ کا استعمال طرح طرح کے مہلک مرض کا سبب بھی بنتے ہیں۔اس لئے ہمیں ان نشہ آور اشیاء کا انفرادی اور اجتماعی طور پر بائیکاٹ کرنا چاہئے۔
مفتی محمدہارون ندوی نے منشیات کی روک تھام کے لئے انتظامیہ اور عوام الناس سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اس گھناؤنے دھندے میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کرکے ان ضمیر فروشوں کو نشان عبرت بنایا جائے۔انتظامیہ کے ساتھ والدین اور اساتذہ کو بھی چاہئے کہ وہ بچوں پر نظریں رکھیں کہ وہ کن لوگوں میں اٹھتے بیٹھتے ہیں اور ان کے مشاغل کیا ہیں۔
مفتی صاحب نے نشہ مخالف مہم کو مؤثر بنانے کے لئے ذرائع ابلاغ خاص طور پرمیڈیا اور سوشل میڈیاکے وسائل کو نشہ مخالف ذہن سازی کے لئے استعمال کرنے پر زور دیا،اس کے علاوہ نوجوان نسل کو صحت مند سرگرمیوں کی ضرورت اور افادیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ نوجوان نسل کو بنیادی سہولیات،کھیلوں کے میدان اور مواقع فراہم کئے جائیں تاکہ وہ اپنی صلاحیتیں مثبت سرگرمیوں میں مصروف کرسکیں
موصوف نے سرپرستوں اور ذمہ داروں کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ نوجوان نسل میں شعور اجاگر کیا جائے کہ وہ نشے کوکبھی شوق میں بھی استعمال نہ کریں اور نہ ہی کسی نشہ کرنے والے یا بیچنے والے شخص کے ساتھ دوستی کریں۔کیونکہ جب کوئی ایک مرتبہ کسی منشیات فروش یا استعمال کرنے والے شخص کے چکر میں پھنس کر نشے کا عادی بن جاتا ہے تو پھر ساری زندگی اس کی بھاری قیمت چکانا پڑتی ہے،جس کا نتیجہ تباہی و بربادی ہے۔
قاری مشتاق احمد اشاعتی(امام مسجد ہدایت،ہرکو،دھولیہ)صدارتی خطاب میں معاشرہ میں پھیلی برائیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے،اصلاح کے چند رہنمااصول کو بیان کرتے ہوئے،اپنی ذات،گھر،خاندا ن اور محلہ سے اصلاح کے آغازکرنے کی طرف توجہ دلائی۔
اس موقع پر مفتی محمد قاسم جیلانی،مفتی مسعود،مولانا عابد،مولانا عبد الواحد،حافظ حفظ الرحمٰن،مولانا ابو الودود،مولوی شکیل،مولانا رضوان اور شہر و اطراف کے علماء کرام و ائمہ کی بڑی تعداداسٹیج پر موجود تھی۔