اردو صحافت کے 200 سال مکمل ہونے پر بہار میں جشن منانے کا فیصلہ

اردو صحافت کے 200 سال مکمل ہونے پر بہار میں جشن منانے کا فیصلہ

اردو صحافت کے 200 سال مکمل ہونے کے موقع پر بہار میں جشن منانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، اس کے لئے قومی سطح کے صحافیوں کو دعوت دی جائے گی اور صحافت کی بہتری کے تعلق سے مذاکرہ و مباحثہ کا انعقاد کیا جائے گا

پٹنہ: اردو صحافت کے 200 سال مکمل ہونے کے موقع پر بہار میں جشن منانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسی سلسلے میں پہلی مشاورتی نشست اتوار کے روز خانقاہ منعمیہ میتن گھاٹ پٹنہ میں بعنوان ’اردو صحافت کے 200 سال‘ منعقد ہوئی جس میں آئندہ سال مارچ میں تین روزہ جشن منانے کا فیصلہ کیا گیا۔ مشاورتی نشست کے دوران کہا گیا کہ اردو صحافت گزرے ہوئے وقت میں کئی نشیب و فراز دیکھنے کے باوجود دو سو سال میں داخل ہونے والی ہے، جس کا جشن منانا ضروری ہے کیونکہ ماضی میں صحافت کی ایک درخشاں اور زریں تاریخ رہی ہے۔

اس موقع پر اردو اخبارات و رسائل کی نمائش، سیمینار، سمپوزیم، مذاکرات و مشاعرہ کا انعقاد کرنے کی تجویز پیش کی گئی۔ یہ تین روزہ جشن قومی سطح کا ہوگا، جس کے لئے قومی سطح کے گمنام صحافیوں کو منظر عام لانے کی کوشش کی جائے گی۔ میٹنگ میں فیصلہ کیا گیا کہ اس میں شرکت کرنے والے تمام صحافی مجلس منتظمہ کے اراکین ہوں گے۔ کمیٹی کی اگلی میٹنگ 7 فروری کو روزنامہ ’پیاری اردو‘ کے دفتر میں منعقد ہوگی۔

س موقع پر اپنی صدارتی تقریر میں مفتی ثناء الہدیٰ قاسمی نے کہا ’’اردو صحافت کو عوامی سطح پر لے جانے کی ضرورت ہے۔ ہمیں اس موقع پر اردو صحافت کے مسائل پر بھی غور کرنا چاہئے۔ یہ جشن پورے جو ش و خروش اور سلیقے سے منایا جانا چاہئے تاکہ اس کے مثبت نتائج برآمد ہوں۔‘‘

اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے ڈاکٹر سید شاہ شمیم الدین احمد منعمی نے کہا کہ اردو صحافت کے دو سو برس مکمل ہونے پر ہم اس بات کا محاسبہ کریں گے کہ اس دوران ہم نے کیا سیکھا، کیا کھویا اور کیا پایا۔ انہوں نے کہا، ’’میں اس میٹنگ میں اردو قاری کے نمائندہ کی حیثیت سے شریک ہو رہا ہوں۔ جشن بغیر احتساب کے نہیں ہوتا۔ ہمیں اس موقع پر اپنا احتساب بھی کرنا ہوگا۔‘‘ انقلاب کے مقامی مدیر احمد جاوید نے کہا اردو عالمی زبان ہے اس لئے، اس جشن کا اہتمام بھی علمی پیمانے کا کیا جانا چاہئے۔

اس موقع پر ’نوکرشاہی ڈآٹ کام‘ کے ارشاد الحق، ’الوطن ٹائمز‘ کے اقبال صبا، ’آنکھوں دیکھی‘ کے بابر عبد اللہ، قلم کار سرفراز عالم، فوٹو جرنلسٹ مشتاق آزاد، روشنی زندگی کے ایڈیٹر نواب عتیق الزماں، آزاد صحافی جاوید حسین، جسارت کے انوار اللہ، آواز بہار کے ایڈیٹر ضیاء الحسن، جدید بھارت کے سید جاوید احمد، تاثیر کے امتیاز کریم، امن چین کے سید مشتاق احمد، سینئر صحافی ریاض عظیم آبادی، سنگم کے ایڈیٹر محمد راشد احمد، قومی آواز دہلی کے نمائندہ نیاز عالم، پندار کے سب ایڈیٹر عتیق الرحمن شعبان، پیاری اردو کے ایڈیٹر ڈاکٹر اظہار احمد، اور اسحاق اثر، راشٹریہ سہارا کے سید ارشاد عالم، گھر گھر کی آواز کے نوشاد عالم، دینک جاگرن کے احمد رضا ہاشمی، ہمارا نعرہ کے انوار الہدیٰ، اور عارف انصار ی سمیت کئی نمائندوں نے مفید مشورے دئے۔ پروگرام کی نظامت سینئر صحافی ڈاکٹر ریحان غنی نے کی۔

پروگرام کی تفصیلات طے کرنے کے لئے خانقاہ منعمیہ میتن گھاٹ پٹنہ سیٹی کے سجادہ نشیں ڈاکٹر سید شاہ شمیم الدین احمد منعمی کی سرپرستی اور ہفتہ روزہ نقیب کے اڈیٹر مفتی محمد ثناء الہدی قاسمی کی صدارت میں ایک انتظامیہ کمیٹی تشکیل دی گئی۔ کمیٹی کے جنرل سکریٹری سینئر صحافی ڈاکٹر ریحان غنی منتخب کئے گئے۔ جبکہ ایس ایم اشرف فرید (مدیر اعلیٰ، قومی تنظیم) ابو ظفر ( فاروقی تنظیم)، احمد جاوید ( مقامی اڈیٹر، انقلاب، پٹنہ) ریاض عظیم آبادی (سینئر صحافی) ڈاکٹر اظہار احمد (مدیر، پیاری اردو) نائب صدور بنائے گئے۔

سید مشتاق احمد (اڈیٹر، امن چین) کو خازن کی ذمہ داری دی گئی۔ جبکہ اقبال صبا (الوطن ٹائمز)، ڈاکٹر انوار الہدیٰ (ہمارا نعرہ)، نواب عتیق الزماں (روشنی زندگی)، ضیاء الحسن (آواز بہار)، انوار اللہ (روزنامہ جسارت)، سید ارشاد عالم (روزنامہ راشٹریہ سہارا) اور راشد نیر وارثی ( جدید بھارت) سکریٹری مقرر کئے گئے۔