کسان الائنس مورچہ نے کی دادر گردوارہ کے ذمے داران سے ملاقات اسلام جمخانہ مرین لائنز میں دوسری میٹنگ جس میں عمائدین شہر نے کی شرکت،

کسان الائنس مورچہ نے کی دادر گردوارہ کے ذمے داران سے ملاقات اسلام جمخانہ مرین لائنز میں دوسری میٹنگ جس میں عمائدین شہر نے کی شرکت، ۱۵ جنوری کے مورچہ کو کامیاب بنانے کی حکمتِ عملیوں پر ہوا غور و خوص

کسان الائنس مورچہ کے وفد نے 6 جنوری بوقت 4 بجے دادر کے گردوارہ جاکر وہاں کے ذمے داران سے ملاقات کی۔الائنس کی سرگرمیوں اور ۱۵ جنوری کے مورچہ کے بارے میں مفصل گفتگو کی۔گردوارہ کے ذمے داران نے اس قدم کو سراہا اور ۱۵ جنوری کو ہونے والے مورچہ کو کامیاب بنانے کے متعلق رہنمائی کی۔
گردوارہ سیکریڑی منموہن سنگھ اور چیئرمین سردار رگھو ویر سنگھ گِل نے الائنس کے موقف کا مکمل خیرمقدم کیا۔ساتھ ہی ساتھ مشورہ دیا کہ محلوں، عبادت گاہوں ، راستوں پر پلے کارڈ لے کر لوگ کوشاں رہیں گے تو بڑے پیمانے پر گھر گھر پیغام پہنچے گا۔ مزید گفتگو میں یہ واضح ہوا کہ کمیٹی فیصلہ کرکے اپنی جانب سے دی جانے والی خدمات کے ضمن میں معلومات پہنچائے گا۔کسان الائنس مورچہ کے وفد میں فرید شیخ،پربھا کر نارکر،عبدالحسیب بھاٹکر،ڈاکٹر سلیم خان،فیروز خان،سلیم بھاٹی،عرفان خان اور دیگر رفقاء موجود تھے۔

دوسری نشست اسلام جمخانہ مرین لائنز میں منعقد ہوئی۔اس نشست میں کسان الائنس مورچہ کی اب تک کی سرگرمیوں اور آنے والے مورچہ کی کامیابی کے لیے حکمتِ عملیوں پر خصوصی طور پر تبادلہ خیال ہوا۔
اِس نشست میں جسٹس كولسے پاٹل،ایڈوکیٹ مجید میمن،مولانا اعجاز کشمیری،فیض باقر ی،حافظ اطہر،سرفراز آرزو، عبد الحسیب بھا ٹکر،فرید شیخ،شاکر شیخ، امول مڈامے،ڈاکٹر عظیم الدین،عابد خان،سنیل ادسولے،فہد،ودیا تائی،فیروز مٹھیبوروالا، یوسف ابرہانی وغیرہ موجود تھے۔ ڈسکشن میں شرکا نے کھل کر وضاحت کی کہ ممبئی کے افراد محض تماش بین نہیں بنیں گے بلکہ اس مورچے کے ذریعے جو ایک بڑی تبدیلی لا سکتا ہے اُس کو مکمل کامیاب بنانے کی پرزور کوشش کریں گے۔ ساتھ ہی ساتھ الگ الگ مذاھب،طبقات کو جوڑنے کے ارادے سے سماج میں ظلم و استحصال کا مقابلہ متحد ہو کر کرنا ہے اس لیے کسان کے ساتھ سارے لوگوں کا ایک ساتھ آنا ضروری ہے۔
کچھ سیاسی لیڈران نے بھی اپنے طور پر شرکت کی جن میں وارث پٹھان موجود تھے۔مزید جس نکتے پر بات ہوئی کہ کسانوں کے متعلق بل محض کارپوریٹس اور سرکار کے اپنے مفاد کی خاطر کسانوں کا استحصال کرنے پر مبنی ہے لہٰذا اب وقت ہے کہ ۱۵ جنوری کے کسان الائنس مورچہ کو کامیاب بنانے کی ہر ممکن کوشش کی طرف ہم سب راغب ہوں۔