میراروڈ میں 15 جنوری کے کسان مورچہ کے تعلق سے بیداری پیدا کرنے کے لئے میراروڈ میں میٹینگ کا انعقاد

میراروڈ میں 15 جنوری کے کسان مورچہ کے تعلق سے بیداری پیدا کرنے کے لئے میراروڈ میں میٹینگ کا انعقاد
کسان الائنس مورچہ ۱۵ جنوری کے مورچہ سے پہلے ممبئی کے سیکڑوں علاقوں میں دورے کرکے مورچہ کو کامیاب بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔مختلف مقررین نے کیا اظہارِ خیال

طاہر شاہ ( سدھ بھاؤنا منچ میراروڈ ) نے کہا ہمیں 15 جنوری کے کسان مورچہ جو ممبئی میں رانی باغ سے نکل کر کالا گھوڑا تک جائے گا میں میراروڈ سے زیادہ سے زیادہ افراد کو شریک کروانا ہے
کسان سردی میں بیٹھے ہوئے ہیں ۔ ان کی حمایت کرنے کی ضرورت ہے ۔ کسان سردی میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ اگر یہ احتجاج ناکام ہوتا ہے تو وطنِ عزیز میں پھر کوئی احتجاج کامیاب نہیں ہوسکے گا۔ ڈاکٹر عظیم الدین صاحب ( ہم بھارتیہ ) نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ کسان تحریک صرف کسانوں کے لئے نہیں ہے۔متنازعہ زرعی قوانین کی مار ہم سب پر پڑے گی۔ سبھی متاثر ہوں گے ستر اور اسی سال کے بوڑھے کسان سردی میں بیٹھے ہوئے ہیں ۔ہم کسانوں کو سلام کرتے ہیں ۔ہر ہندوستانی کو کسانوں کے ساتھ یکجہتی دکھانی چاہیے۔مولانا زکریا ( صدر جمعیتہ العلماء ارشد مدنی گروپ میراروڈ) نے کہا کہ ہمیں اس مورچے کے تعلق سے بیداری پیدا کرنے کے لئے روزانہ محنت کرنے کی ضرورت ہے۔ سوشل ورکر ونود کمار نے کہا کہ جو فاشسٹ ہیں وہ ڈرتے ہیں ۔ آج سرکار جھوٹ پھیلا رہی ہے ۔ عدم تشدّد میں بڑی طاقت ہوتی ہے ۔ ہمیں یہ لڑائی عدم تشدّد کے سہارے لڑنی ہوگی۔ ایڈوکیٹ ثناء دیشمکھ نے کہا کہ این آر سی کے خلاف مظاہروں کو مذہبی رنگ دے کر بدنام کرنے کی کوشش کی گئی مگر کسان آندولن کو مذہبی رنگ نہیں دے پائے ۔
میٹینگ میں ہم بھارتیہ میراروڈ،جماعت اسلامی میراروڈ،سدھ بھاؤنا منچ میراروڈ،بہوجن ونچت اگھاڑی، کے ذمہ داران، حقوقِ انسانی کی کارکن ایڈوکیٹ ثناء دیشمکھ اور دیگر مقامی سماجی کارکنان شریک ہوئے۔ جماعت اسلامی میراروڈ کے امیر مقامی جناب عطاء الحق نے سب شکریہ ادا کیا۔ میٹینگ کی نظامت سدھ بھاؤنا منچ میراروڈ کے سیکریٹری ساجد محمود شیخ نے کی ۔
ساجد محمود شیخ میراروڈ ممبئ