آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ کى تحریک اصلاح معاشرہ مغربى یوپى کے زیر اہتمام بعنوان موجودہ حالات کے تناظر میں علماء کى ذمہ دارى “جامعہ رحمت گھگرولى” میں پروگرام کا انعقاد

آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ کى تحریک اصلاح معاشرہ مغربى یوپى کے زیر اہتمام بعنوان موجودہ حالات کے تناظر میں علماء کى ذمہ دارى *جامعہ رحمت گھگرولى* میں ایک پروگرام کا انعقاد کیا گیا،یہ *پروگرام عاشق ملت مولانا حکیم محمد عبداللہ مغیثى قومى صدر آل انڈیا ملى کونسل* کى زیر سرپرستی منعقد ہواجس میں دور دراز اور قرب و جوار کے علمائے کرام ،ائمہ حضرات اور علاقوں کے ممتاز و ذمہ داران حضرات نے خصوصى طور پر شرکت کى۔
پروگرام کے بنیادى و اساسى مقاصد میں سے متعلقہ علاقوں میں عوام کى اصلاح، امر بالمعروف و نہى عن المنکر کے فریضہ کےانجام دہى، اولاد کى تربیت اور انکى تعلیم پر توجہ،مسلمانوں کے درمیان اتحاد پر زور،اسى طرح تمام مسلم فرقوں کے درمیان مفاہمت و اتفاق جیسى چیزوں پر گفتگو کى گئ۔
پروگرام کا آغاز قارى محمد اسجد جامعى استاذ جامعہ ھذا کى تلاوت کلام اللہ سے ہوا،نظامت کے فرائض مہتمم جامعہ رحمت گھگرولى *مولانا ڈاکٹر عبدالمالک مغیثى* نے انجام دۓ اور اسى کے ساتھ ساتھ پروگرام کے اہداف و مقاصد پر بھى روشنى ڈالى ۔
اپنے کلیدى و صدارتى خطاب میں عاشق ملت مولانا حکیم محمد عبداللہ مغیثى نے علماء و ائمہ حضرات سے خطاب کے دوران کہا کہ
سورج جب ڈوب جاتا ہے تو اندھیرا ہوجاتا ہے اسى طرح سورج جب نکلتا ہے تو روشنى ہوجاتى ہے کسى بھى چیز کو دوام نہیں دوام صرف اللہ تعالى کى ذات کو ہے،لہذا جب دنیا میں اندھیرا ہوجاۓ تو ایسے موقع پر اللہ تعالى اپنے نیک بندوں کو بھیجتا ہے جو اللہ کو یاد کرتے ہیں اور اسکا ذکر کرتے ہیں،انھوں نے اپنے حکیمانہ اسلوب مزید کہا کہ جو اندھیرا نظر آرہا ہے وہ زیادہ دن باقى نہیں رہیگا ،وہ لوگ جو سازشیں کررہے ہیں اور منصوبے بنارہے ہیں وہ زیادہ دن نہیں چلیں گے ،لہذا ہم صبر کریں جلدى نہ کریں،یہ اللہ تعالى کا نظام ہے،یہ اسکى ذمہ داری ہے ،لیکن بس مسلمانوں کى ذمہ دارى یہ ہیکہ وہ اللہ کى عبادت کریں،اسکا ذکر کریں،نمازوں کى فکر کریں، اسکے تمام احکامات کو بجالائیں اور اپنے معاشرے کے اصلاح کى فکر کریں۔
مولانا طاہر شیخ الحدیث راۓپور نے کہا کہ جیسے حالات ہیں مسلمانوں کو ان حالات میں اللہ کى طرف رجوع کرنا چاہئے،تمام ضرورتوں میں اسى سے سوال کرنا چاہئے اور اپنے مستقبل کے لۓ فکرمند رہنا چاہئے۔
مولانا نثار احمد نے موجودہ مسلم معاشروں و علاقوں کى صورت حال کو بیان کرتے ہوۓ کہا کہ آج حالات بہت سنگین ہے،ہمارے بچے جھوٹ،نشہ اور چورى جیسے افعال میں ملوث ہیں لہذا ہمارے اوپر یہ ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے ماحول کو درست بناۓ۔
مولانا انعام اللہ قاسمى نے اپنے خطاب کے دوران کہا کہ تمام باطل طاقتیں اپنے تمام اختلافات کے باوجود متحد ہوچکى ہے،صرف مسلمان ہى الگ تھلگ تقسیم پڑے ہوۓ نظر آرہے ہیں۔اسى لۓ یہ علماء پر ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو بڑا کریں۔
مولانا مختار الحسن نے بھى معاشرے کى اصلاح پر زور دیتے ہوۓ کہا کہ یہ وقت اولاد کى تعلیم و تربیت توجہ دینے کا ہے اور انہیں اس خطرناک ماحول سے بچانے کا ہے۔
پروگرام میں دیگر علماء مولانا عبدالرشید مظاہرى مہتمم مدرسہ فیضان رحیمى مرزا پور،مولانا توقیر قاسمى استاذ و نگراں شعبۂ انگریزی دارالعلوم دیوبند، مفتى اسجد استاذ فیضان رحیمى مرزاپور بہٹ، مولانا عبدالخالق مغیثى استاذ جامعہ رحمت گھگرولى وغیرہ نے بھى خیالات کا اظہار کیا۔
پروگرام مولانا حکیم محمد عبداللہ مغیثى کى دعا پر بحسن و خوبى کے ساتھ اپنے اختتام کو پہنچا.
پروگرام میں یہ حضرات شریک رہے:
شاہ عتیق احمد خانقاہ راۓ پور،مولانا ریاض الحسن مظاہرى،مفتى صابر خانپور،مولانا صادق پٹھیڑ مولانا قاضى ارشاد،مفتى واصل،مولانا راشد قاسمى،مولانا عارف رشیدى،قارى ذیشان قادرى،مولانا الیاس ،مولانا خلیل،مولانا ارشد ،مولانا عامر،مولانا عبدالماجد،مولانا دلشاد وغیرہ۔