اے نئے سال بتا تجھ میں نیا پن کیا ہے؟؟

اے نئے سال بتا
تجھ میں نیا پن کیا ہے؟؟

تحریر؛ ام ہانی

کل من علیھا فان
سال دو ہزار بیس کا آغاز ایک نئی اور عجیب مگر نہایت خوفناک وباء کے ساتھ ہوا۔دنیا بھر کا نظام زندگی مفلوج ہو کر رہ گیا تھا۔ہر طرف موت کا رقص جاری تھا۔لاک ڈاون کے نام پر سڑکیں، بازار اور سکول ویران کر دیئے جا چکے تھے۔تنہاء رہنا یہاں تک کہ اپنے نہایت قریبی لوگوں سے بھی فاصلہ رکھنا زندگی کی ضمانت ٹھہر چکا تھا۔یہاں تک کہ حج و عمرہ پر بھی پابندی لگ چکی تھی۔معلوم تاریخ میں شاید پہلی بار ہم نے خانہ کعبہ کے دروازے لوگوں پر بند دیکھے۔۔اور یہ منظر مسلمانوں کے لیئے کس قدر روح فرسا تھا، یہ تو درد دل رکھنے والا ہر مسلمان جانتا ہے۔
رش اور بھیڑ ہسپتالوں اور قبرستانوں تک محدود ہو کر رہ گئی تھی۔
یوں لگ رہا تھا گویا زندگی دوبارہ اپنے معمول پر آنا ناممکن ہو چکا ہے۔اک قیامت کا سا سماں تھا۔ہر ذی روح سہما ہوا اپنی طرف بڑھتی ایک ظالم اور دردناک موت کو دیکھ رہا تھا۔ایک ایسی موت جس میں اپنے پیاروں کا نہ آخری دیدار نصیب ہوتا نہ ہی سفر آخرت پر روانگی کے دوسرے اصولوں کو بروئے کار لایا جانا ممکن رہا تھا۔
دنیا بھر کی معیشت ٹھپ ہو چکی تھی۔چشم فلک دنیا کو تاریخ کے عظیم ترین زوال سے گزرتے ہوئے دیکھ رہی تھی۔۔!
*فان مع العسر یسری*
مایوسی اور غم کے جن گہرے سیاہ بادلوں نے پوری سرزمین کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا وہ دھیرے دھیرے چھٹنا شروع ہوئے۔ صبح نو ایک نئی امید کے ساتھ طلوع ہونے لگی۔زندگی رفتہ رفتہ اپنے معمول پر آنے لگی۔مگر کچھ بھی تو پہلے جیسا نہ رہا۔البتہ خوف کے بادل کافی حد تک چھٹ چکے تھے۔
اس وباء نے لوگوں کا ایک نئے طرز زندگی سے تعارف کروایا۔جہاں لوگوں کو اپنے پرائے سب سے ایک مخصوص فاصلہ رکھنا تھا۔جہاں ہجوم اور بھیڑ والی جگہوں سے دور رہنا تھا۔جہاں صفائی ستھرائی اور خوراک پر خصوصی توجہ دینی تھی۔
” ہر کمالے را زوالے ”
اور یہ اس سرزمین پر بسنے والے انسانوں کی ترقی کا عروج تھا۔مگر اس ذات باری نے بیک جنبش انسان کو جھنجھوڑ ڈالا کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔یہ ترقی، یہ آسمان سے باتیں کرتی ہوئی ٹیکنالوجی اور دوسرے سیاروں پر جا بسنے کی منصوبہ بندی کرنے والا انسان سب کچھ اپنے رب کے سامنے بےبس ہیں۔لاچار ہیں۔انسان کچھ نہیں کر سکتا جب تک کہ اس کا رب نہ چاہے۔
اس سے پہلے کہ انسان ترقی کی منازل طے کرتے ہوئے سرکشی پر اتر آتا، اللہ سبحانہ و تعالی نے ایک چھوٹے سے وائرس کے ذریعے انسانی حدود کو انسان پر واضح فرما دیا۔
آج دنیا کا نقشہ بدل چکا ہے۔زندگی کے اصول و ضوابط تبدیل ہو چکے ہیں۔سال دوہزار بیس کی زندگی گزری ہوئی انسانی تاریخ کی زندگی سے یکسر مختلف زندگی ہے۔اور شاید آنے والے کئی برسوں کی زندگی بھی ایسی ہی ہو۔
گزر جانے والا سال ہمیں یہ سبق دے کر گیا ہے کہ انسان کی بھلائی اللہ تعالی کی اطاعت و فرمانبرداری میں پوشیدہ ہے۔انسان کی فلاح اس کے رب کی متعین کردہ حدود میں محفوظ ہے۔جہاں انسان سرکشی پر اتر آئے کا تو اللہ تعالی کے لیئے یہ چنداں مشکل نہیں کہ سرکشوں کو مٹا کر ایک فرمانبردار قوم کو اس کی جگہ لے آئے۔
*اھدنا الصراط المستقیم*
بطور مسلمان آیئے ہم عہد کرتے ہیں، آنے والے نئے سال یعنی دو ہزار اکیس میں اگر زندگی نے مہلت دی تو ہم اپنے اللہ اور پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات پر عمل پیرا ہوں گے۔ہم نام کے نہیں بلکہ باعمل مسلمان بنیں گے۔اپنے رب کو راضی کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں اور گذشتہ تمام صغیرہ و کبیرہ گناہوں کی معافی طلب کریں۔اسوہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی زندگیوں پر لاگو کریں۔غیر کی اندھی تقلید کی بجائے اپنے اللہ کی بندگی کریں۔اپنے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کریں۔اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے نقش قدم پر چل کر اپنی منزل حاصل کریں۔اور دنیا و آخرت، دونوں جہانوں میں فلاح پا جائیں۔بےشک یہی راستہ ہماری منزل کا سیدھا رستہ ہے۔
*لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوہ حسنہ*۔