سی اے اے تحریک کے ایک سال

سی اے اے تحریک کے ایک سال

تحریر : شیخ سلیم
صدر مہاراشٹرا
ویلفئیر پارٹی آف انڈیا

پچھلے سال 11 دسمبر کو راجیہ سبھا میں یہ متنازع قانون پاس ہوا جس میں مذھب کی بنیاد پر بنگلہ دیش پاکستان اور افغانستان سے آنے والے غیر مسلم افراد کو بھارت کی شہریت دینے کی قانونی طور پر اجازت دی گئی ہے۔
اس کی بنیاد اُن ملکوں میں ہونے والے اقلیتوں پر ظلم کو بنیاد بنایا گیا تھا۔
11 دسمبر کو جب راجیہ سبھا میں بحث جاری تھی آکولا میں ویلفئیر پارٹی آف انڈیا مہاراشٹرا نے ایک کامیاب ریلی کا انعقاد کیا تھا بھارت میں یہ سی اے اے کے خلاف پہلا احتجاج تھا ۔
در اصل جب آسام میں این ار سی میں 19 لاکھ افراد کا نام آیا جس میں اکثریت غیر مسلم افراد کی تھے پندرہ لاکھ کے قریب مرکزی حکومت کسی بھی طرح اُن کو بھارت کی شہریت دینے پر تلی ہوئی تھی ۔ سنگھ کے ذریعہ کئی سالوں سے پروپیگنڈا کیا جاتا تھا گھس پیٹھی صرف مسلمان ہیں سارا کی سارا پروپیگنڈا جھوٹ پر مبنی تھا ۔
اب وہاں آسام میں آسامی زبان بولنے والے بنگلہ دیشی غیر مسلم افراد کو بھی قبول کرنے تیار نہیں ہیں اور آسام میں سی اے اے تحریک دوبارہ زندہ ہو رہی ہے۔
ملک بھر میں سی اے اے کے خلاف آواز اٹھائی گئی اور جمع ملیہ اسلامیہ پر دہلی پولیس کے وحشیانہ حملے کے بعد شاہین باغ شروع ہوئے ۔
بجا طور پر ہمارے ملک کی سو سالہ تاریخ میں یہ سب سے بڑا اور منظم اور پر امن احتجاج تھا مگر جہاں جہاں بھاجپا کی حکومت تھی وہاں احتجاج کرنے والوں پر ظلم اور جبر کے پہاڑ توڑے گئے صرف اُتر پردیش میں پولیس فائرنگ میں بیس سے زائد مسلمان شہید ہوئے سیکڑوں افراد گرفتار ہوئے۔
اس تحریک کی ایک خاص بات تھی اس کو روایتی مسلم لیڈرشپ اور علماء نے شروع نہیں کیا جب اے تحریک اپنے عروج پر پہنچ گئی تب مجبوراً سبھی کو اس میں شامل ہونا پڑا ۔اس تحریک کے روح رواں طلباء اور نوجوان ہیں جس میں سے بیس سے زائد اب بھی UAPA کے تحت جیلوں میں بند ہیں عمر خالد شرجیل امام خالد سیفی جیسے کئی نام اس میں شامل ہیں
مرکزی حکومت ظاہر ہے عوام کی کوئی گنتی کرتی ہی نہیں ہے چاہے نوٹ بندی ہو جی ایس ٹی ہو آرٹیکل 370 ہو یا کسان بل۔ اس لیے آپ دیکھ رہے ہیں اس ٹھٹھرتی ہوئی سردی میں کسان بیوی بچوں کے ساتھ دہلی بارڈر پر دھرنا دیے بیٹھے ہیں سرکار ہے کہ سننے کا نام ہی نہیں لیتی دراصل بھاجپا اپنے خفیہ ایجنڈے پر کام کیے جا رہی ہے جس میں کارپوریٹ سیکٹر ملک کے بےپناہ وسائل پر قبضہ کر لے گا ۔
کورونا وائرس کے بہانے سرکار نے ہر جگہ شاہین باغ طاقت کے بل بوتے پر خالی کروا لیے
سی اے اے کا قانونِ اپنی جگہ اور اب این ار سی کی تیاریاں مکمل ہو چکی ہیں لہٰذا ہم سبھی جماعتوں اور تنظیموں سے اپیل کرتے ہیں ہمیں دوبارہ منظم طریقے سے ہر ظلم اور زیادتی کے خلاف کھڑے ہونا ہے۔
مہاراشٹرا سرکار نے یہ وعدہ تو کیا کیا تھا ریاست میں ان ار سی اور ان پی ار نہیں لاگو کیا جائے گا مگر اسمبلی میں اس کے خلاف کوئی قرارداد منظور نہیں کی ہے لہٰذا ہم سب کو اور ہمارے عوامی نمائندوں کو سرکار سے اس مطالبے کو دہرانے کی ضرورت ہے۔