مالیگاؤں 2008 بم دھماکہ معاملہ ملزم کرنل پروہت کی جانب سے داخل رازدارانہ دستاویزات کا بم دھماکہ متاثرین نے مطالبہ کیا

مالیگاؤں 2008 بم دھماکہ معاملہ
ملزم کرنل پروہت کی جانب سے داخل رازدارانہ دستاویزات کا بم دھماکہ متاثرین نے مطالبہ کیا
این آئی اے نچلی عدالت میں تمام گواہوں کو گواہی کے لیئے طلب نہیں کریگی،این آئی اے کے وکیل کا ہائی کورٹ میں بیان
ممبئی 16 دسمبر
مالیگاؤں 2008 بم دھماکہ معاملہ کے کلیدی ملزم کرنل شریکانت پروہت کی جانب سے اسے مقدمہ سے ڈسچارج کرنے کی عرضداشت پر آج ممبئی ہائی کورٹ میں سماعت عمل میں آئی جس کے دوران بم دھماکہ متاثرین کی جانب سے بحث کرتے ہوئے سینئر ایڈوکیٹ بی اے دیسائی(سابق ایڈیشنل سالیسٹر جنرل آف انڈیا) نے عدالت کو بتایا کہ ابھی تک ملزم نے بم دھماکہ متاثرین کو مکمل دستاویزات فراہم نہیں کیئے ہیں لہذا عدالت ملزم کو حکم دے کہ وہ بم دھماکہ متاثرین کو بھی دستاویزات مہیا کرائے جسے وہ رازدارانہ قرار دے رہا ہے۔
بی اے دیسائی نے ممبئی ہائی کورٹ کی دو رکنی بینچ کے جسٹس ایس ایس شندے اور جسٹس کارنک کو بتایا کہ ملزم کرنل پروہیت کورٹ آف انکوائر ی کے دستاویزات کی بنیاد پر مقدمہ سے ڈسچارج کیئے جانے کی گذارش کررہا ہے لیکن کورٹ آف انکوائری کے دستاویزات میں کیا لکھا ہے بم دھماکہ متاثرین کو پتہ نہیں۔ بی اے دیسائی نے عدالت کو مزید بتایا کہ این آئی اے بھی ملزم کی حمایت کررہی ہے اور کورٹ آف انکوائری دستاویزات پر اپنا نو آبجکشن دیا ہے۔
ایڈوکیٹ بی اے دیسائی کی گذارش پر عدالت نے انہیں حکم دیا کہ وہ عدالت میں تحریری عرضداشت داخل کریں، عدالت معاملے کی اگلی سماعت پر اس تعلق سے فیصلہ صادر کریگی۔
عیاں رہے کہ کرنل پروہت عدالت میں آرمی عدالت کے چند مخصوص رازدارانہ دستاویزات داخل کرنا چاہتا ہے لیکن اس کی منشاء ہیکہ ان دستاویزات تک کسی کی رسائی نہ ہو بلکہ وہ صرف عدالت اور اس کے درمیان رہے جس پر بم دھماکہ متاثرین نے سخت اعتراض کیا ہے، کیونکہ قانوناً ملزم کو ایسا کوئی بھی پیپر عدالت میں داخل کرنے کی اجازت نہیں ہے جس تک فریق مخالف کی رسائی نہ ہوسکے۔
اسی درمیان عدالت نے این آئی اے کے وکیل سندیش پاٹل سے ٹرائل کورٹ کے متعلق دریافت کیا جس پر انہوں نے عدالت کو بتایا کہ ابتک 142 گواہوں کے بیانات کا اندراج مکمل ہوچکا ہے نیز این آئی اے تمام 400 گواہوں کو عدالت میں گواہی کے لیئے طلب کرنے کے حق میں نہیں ہے بلکہ یہ ممکن ہے کہ این آئی اے ان میں سے چند گواہوں کو گواہی کے لیئے طلب نہ کرے۔
عدالت نے این آئی اے کی درخواست پر معاملے کی سماعت 6جنوری تک ملتوی کردی، بذریعہ ویڈیو کانفرنسنگ آج معاملے کی سماعت ہوئی جس کے دوران جمعیۃ علماء کی جانب سے سینئر ایڈوکیٹ بی اے دیسائی کے ساتھ ایڈوکیٹ شریف شیخ،ایڈوکیٹ شاہد ندیم، ایڈوکیٹ ہیتالی سیٹھ، ایڈوکیٹ کریتیکا اگروال و دیگر موجود تھے۔
آج کی عدالتی کارروائی کے بعد جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے کہا کہ ملزم کرنل پروہت نے اسے مقدمہ سے ڈسچارج کرنے کی عرضداشت داخل کی ہے جس میں اس نے عدالت کو بتایا کہ اسے گرفتار کرنے سے قبل کریمنل پروسیجر کوڈ کی دفعہ (2) 197کے تحت ضروری خصوصی اجازت نامہ یعنی کے سینکشن آرڈر حاصل نہیں کیا گیا تھا لہذا اس کے خلا ف قائم مقدمہ غیر قانونی ہے جسے ختم کیاجائے۔
گلزار اعظمی نے مزید بتایا کہ اس سے قبل بھی ملزم کرنل پروہت نے ممبئی ہائی کورٹ میں دو پٹیشن داخل کرکے یو اے پی اے قانون کے اطلاق کے لیئے ضروری اجازت نامہ میں خامی ہونے کا دعوی کرتے ہوئے اس کے اور دیگر ملزمین کے خلاف قائم مقدمہ کو ختم کرنے کی گذارش کی تھی، یو اے پی اے قانون کو چیلنج کرنے والی پٹیشن زیر سماعت ہونے کے باوجود لاک ڈاؤن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کرنل پروہت نے نہایت خاموشی سے تازہ پٹیشن ممبئی ہائی کورٹ میں داخل کرکے عدالت سے اسے مقدمہ سے ڈسچارج کرنے کی گذارش کی ہے۔
خیال رہے کہ کسی بھی پبلک سرونٹ کو گرفتار کرنے سے قبل کریمنل پروسیجر کوڈ کی دفعہ(2) 197 کے تحت اعلی افسر سے اجازت لینا ضروری ہوتا ہے لیکن کرنل پروہت کا دعوی ہیکہ اسے گرفتار کرنے سے قبل انسداد دہشت گرد دستہ (ATS) نے اعلی افسر سے خصوصی اجازت حاصل نہیں کی تھی جس کی وجہ سے اس کے خلاف قائم مقدمہ ہی غیر قانونی ہے لہذاا س پر قائم مقدمہ ختم کیا جائے۔