ہندو لڑکی مسلم لڑکے سے شادی رچائے تو لو جہادِ ، پھر مسلم لڑکی ہندو لڑکے سے شادی رچائے تو کیا —–؟؟؟

ہندو لڑکی مسلم لڑکے سے شادی رچائے تو لو جہادِ ، پھر مسلم لڑکی ہندو لڑکے سے شادی رچائے تو کیا —–؟؟؟
 سب کے لئے یکساں قانون کا نفاذ ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔!!!
نقطۂ نظر
سلیم الوارے
پچھلے چند ماہ سے لو جہاد (Love jehad) کو لے کر سنگھیوں نے طوفان بدتمیزی برپا کر رکھا ہے۔ ان احمقوں کو یہ تو معلوم ھے کہ لوکے معنی پیار کے ہوتے ہیں لیکن انھیں یہ نہیں معلوم کہ جہاد کے کیا معنی ھیں۔ اگر وہ کسی بھی زبان کی ڈکشنری کا استعمال کرتے تو انھیں پتہ چلتا کہ جہاد کے معنی جدو جہد کے ھیں، اسٹرگل کے ہیں اور اسلام میں لوکے لیے جہاد کی کونی گنجائش نہیں ہے لیکن ان مسلم دشمنوں کو کون سمجھائے کہ کی کسی مسلم لڑکے کا کسی ہندو لڑکی سے شادی کرنے کا فیصلہ خالص ذاتی نوعیت کا ہوتا ہے اور اس سے سماج یا سوسائٹی کا کوئی لینا دینا نہیں ہوتا۔گذشتہ دنوں الہ آباد ہائی کورٹ نے سلامت انصاری اور پرینکا کھردار کے معاملے میں مشاہدے اور فیصلے میں یہی  بات کہہ کر ایف آئی آر خارج کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔ جہاں تک جہاد کی بات ہے یہ تعلیم کے حصول کے لئے،  کسی کو انصاف دلانے کے لیے، کسی کا حق دلانے کے لئے یا اسلام کی سر بلندی کے لیے ہو سکتا ہے جبکہ لو جہادِ خالص سنگھی ٹرمینلو جی ہے۔  قانونی سوال یہ ہۓ کہ اگر مسلم لڑکے کا ہندو لڑکی سے شادی رچانےکو لو جہادِ کہا جاتا ہے تو ہندو لڑکے کا مسلم لڑکی سے شادی رچا نا کیا کہلائے گا —-؟؟
ملک کی دو ریاستوں مدھیہ پردیش اور ہریانہ کی حکومتوں نے لو جہاد کے خلاف قانون بنانے کا اعلان کیا ہے۔ جبکہ دو روز قبل اُتر پردیش کے وزیرِ اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے تو سخت قانون لانے کی بات کی ہے اور  کم از کم دس سال کی سزا تجویز کی ہے۔ جبکہ اسی دن جبراً تبدیلی مذہب کے ایک معاملے میں داخل ایک  ایف۔ آ ئی۔ آر۔ الہ آباد ہائی کورٹ نے خارج کردی جس کے سبب ریاستی اسمبلیوں میں قانون سازی میں دقت آسکتی ہے مگر مودی ہے تو سب کچھ ممکن ہۓ۔  اس ممکنہ قانون کی نوعیت کیا ہوگی اس یر سنگھیوں کے نمائندہ وکیل ہریش سالوے اور مہیش جیٹھ ملانی جیسے ماہرین قانون ہی روشنی ڈال سکتے ہیں۔ لیکن اگر اس قسم کا کوئی قانون بنتا ہے تو یہ سیدھا سیدھا آرٹیکل 14 (برابری کا حق) اور آرٹیکل 21  ( ذاتی آذادی اور عزت سےجینے کا حق) کی خلاف ورزی ہوگی اور یہ قانون ذاتی آزادی یر حملے کے مترادف ھوگا،
 ہر معاملے میں فرقہ واریت ، مسلم مخالفت، نفرت، ہنگامہ آرائی ایسا لگتا ہے جیسے سنگھ پریوار ہندوستان کو ہندو راشٹر نہیں بلکہ “مسلم مخالف راشٹر” بنانے پر مصر ہے۔ سنگھی تنظیمیں ہندو اور مسلمانوں میں تفرقہ ڈالنے کے ایسے ایسے حربے آزماتے رہے ہیں کے شیطان بھی شرما جائے اور لو جہاد بھی اسی طرح کا ایک شوشہ ہے کہ ہندوؤں کو مسلمانوں کے خلاف کیسے ورغلایا جاے اور مسلمانوں کو کیسے اکسایا جائے
جبکہ حقیقت اس سے پرے ہے  ھندو لڑکیوں کے مقابلے ذیادہ مسلم لڑکیاں غیر مذاھب کے لڑکوں سے  کورٹ میریج کر رہی ہیں جو ہمارے لیے تشویشناک ہے اور اس کو روکنے کے لئے کئی ملی تنظیمیں اور مسلم خواتین ذاتی طور پر ہندو لڑکوں کے بہکاوے میں  پھنس کر اپنی دنیا اور آخرت برباد کرنے پر تلی معصوم لڑکیوں کی کامیابی سے کونسلنگ کر رہی ہیں۔  بہتر ہوگا کہ ہم اپنے لڑکوں کی بھی کونسلنگ کریں اور اُنہیں اس بات پر آمادہ کریں کہ وہ اپنی ہم مذہب لڑکی سے ہی شادی کریں تا کہ ہماری اعلٰی تعلیم یافتہ لڑکیوں کوبھی بہترین جوڑ ملے۔
صحیح معنوں میں لو جہاد کے نام پر لایا جانے والا  یہ قانون مسلمانوں کے حق میں بہتر ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ ایک طرف    ہمارے لڑکے ھندو لڑکیوں سے دور رہینگے اور دوسری طرف ہماری لڑکیاں بھی قانونی چارہ جوئی کے خوف کے سبب ھندو لڑکوں کے چنگل میں نہیں پھنسےنگی اور ارتداد کے بڑھتے معاملات پر اذ خود روک لگ جائے گی انشاءاللہ۔۔