ملک کے معروف و مقبول صحافی جناب ایم ودود ساجد کا فکر مندانہ تجزیہ, سدرشن کے پروگرام پر پابندی تو نہیں ہٹی لیکن……

ملک کے معروف و مقبول صحافی جناب *ایم ودود ساجد* کا فکر مندانہ تجزیہ

سدرشن کے پروگرام پر پابندی تو نہیں ہٹی لیکن……

تجزیہ نگار : ایم ودود ساجد

سپریم کورٹ کے سامنے اس وقت کئی بڑے سوال ہیں۔ان میں سے کئی مشکل بھرے سوال بھی ہیں۔اس کے سامنے آئین کا آرٹیکل 19(a)(1)بھی ہے۔اس کے سامنے ہندوستان کے 20 کروڑ سے زیادہ افراد پر مشتمل آبادی کی مسخ کی جانے والی تصویر بھی ہے۔۔۔اس کے سامنے حال کے علاوہ مستقبل میں اٹھنے والے ممکنہ آئینی سوالات بھی ہیں۔ایسی صورت میں اس وقت سب سے زیادہ مشکل میں عدلیہ ہے۔۔۔

سدرشن ٹی وی کے اینکر سریش چوہانکے نے بلاشبہ اس ملک کے مسلمانوں کو کھلے طورپر غدار اور دہشت گرد ثابت کرنے کی مذموم کوشش کی ہے۔اس سلسلہ میں حکومت کا کردار بھی انتہائی مشکوک ہوگیا ہے۔سدرشن کے وکیلوں نے مسلمانوں میں تعلیم کے فروغ کیلئے کام کرنے والی تنظیموں کو بھی مشکوک بنانے کی کوشش کی ہے۔۔۔۔ جو ظالم ہیں ان کی شکل سب کے سامنے ہیں اور وہ آزاد ہیں۔۔۔۔ جو مظلوم ہیں وہ اب آواز بھی نہیں اٹھاسکتے۔۔۔۔ سی اے اے کے خلاف آواز اٹھانے کی پاداش میں نہ جانے کتنوں پر انسداد دہشت گردی قانون UAPA لگادیا گیا ہے۔پورے ملک میں اور خاص طورپر یوپی اور دہلی میں اس وقت مسلمان سخت مشکل میں ہیں۔۔۔

ایسے میں سب سے بڑی ذمہ داری سپریم کورٹ پر آن پڑی ہے۔۔آج جسٹس چندر چوڑ نے یہ بات واضح کربھی دی ہے کہ یہ ہمارا آئینی فریضہ ہے کہ ہم انسانی وقار کا تحفظ کریں اور یہ اتنا ہی اہم ہے جتنی اہم اظہار رائے کی آزادی ہے۔۔۔

یہ ذہن میں رکھنا چاہئے کہ ہر چند کہ سپریم کورٹ کے اختیارات بڑے وسیع ہیں لیکن وہ حکومت کا رول اختیار نہیں کرسکتی۔جب کسی اشو پر عدالت میں قانونی بحث ہوتی ہے تو وہاں سڑکوں پر لڑی جانے والی لڑائی کی طرح لڑا نہیں جاسکتا۔۔۔ وہاں آئین اور قانون کی روشنی میں خالص علمی بحث ہوتی ہے۔اس بحث میں عدالت جذباتی رویہ اختیار نہیں کرسکتی۔کسی نتیجہ تک پہنچنے سے پہلے وہ کسی ایک طرف جھکی ہوئی نظر نہیں آسکتی۔یہ عدلیہ کی مجبوری بھی ہے اور ایسا کرنا ضروری بھی ہے۔

اب اس تمہید کی روشنی میں سدرشن کے تعلق سے آج سپریم کورٹ میں ہونے والی Proceedings کا جائزہ لینا مفید ہوگا۔۔۔۔۔ 15ستمبر کی شب میں’ میں بتاچکا ہوں کہ سپریم کورٹ کی سہ رکنی بنچ کے دو ججوں‘ جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ اور جسٹس کے ایم جوزف نے سدرشن والے اشو پر اپنی تشویش کا اظہار کن الفاظ میں کیا تھا۔جو کچھ جج حضرات نے کہا تھا وہ کم نہیں تھا۔لیکن حتمی فیصلہ آتے آتے ان میں سے کتنے الفاظ باقی رہتے ہیں یہ ابھی دیکھنا باقی ہے۔لیکن یہ بات صاف ہوگئی ہے کہ فاضل بنچ سدرشن کے زیر بحث پروگرام جیسے پروگراموں کے تعلق سے بہت سنجیدہ اور تشویش میں ہے۔آج اس سلسلہ کی تیسری بحث تھی۔اس بحث میں آج تیسری خاتون جج‘جسٹس اندو ملہوترا نے بھی اپنے مشاہدات (تبصرے) ریکارڈ پر لئے۔۔۔

15 ستمبر کو عدالت نے جو چند خاص تبصرے کئے تھے وہ یہ تھے:

“۔۔۔۔ ملک کی سپریم کورٹ ہونے کی حیثیت سے ہم آپ کو یہ کہنے کی اجازت نہیں دے سکتے کہ مسلمان سول سروسز میں گھس پیٹھ کر رہے ہیں۔۔۔” جسٹس چندر چوڑ

“…… عدالت پر یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اس پروگرام کا مقصد مسلم کمیونٹی کو بدنام کرنا اور اسے سول سروسز میں گھس پیٹھ کی مہلک کوشش کا ذمہ دار قرار دینا ہے۔۔۔۔۔” جسٹس کے ایم جوزف

1- یہ کتنی موذی اور چھل کپٹ والی بات ہے۔
2- ایسے احمقانہ الزامات خود یوپی ایس سی امتحانات پر بھی سوال کھڑے کرتے ہیں۔
3- یہ الزامات بغیر کسی حقیقی بنیاد کے ہیں۔
4- اس کی اجازت کیسے دی جاسکتی ہے؟
5- کیا ایک آزاد معاشرے میں ایسے پروگرام کی اجازت دی جاسکتی ہے؟
6- کیا میڈیا کیلئے ایسے نافذ العمل معیارات نہیں ہونے چاہئیں کہ جس کی رو سے خود میڈیا آرٹیکل 19(1)(a) کے دعوے پر پورا اتر سکے؟۔۔۔۔۔”

آج یعنی 18 ستمبر کو دن بھر سدرشن کے وکیل کی پوری کوشش رہی کہ سپریم کورٹ کے ذریعہ 15ستمبر کو لگائے گئے عارضی اسٹے کو کسی بھی قیمت پر ہٹادیا جائے۔اس نے کوئی خاص ٹھوس دلائل پیش نہیں کئے اور صبح سے شام تک ایک ہی رٹ لگائے رکھی کہ آپ باقی ایپی سوڈس پر لگا اسٹے ہٹا دیجئے۔۔۔۔ ادھر حکومت نے کہا کہ اگر سپریم کورٹ نے اس سلسلہ میں کوئی رہنماخطوط جاری کردئے اور یہ پابندی مستقل کردی تو پھر ملک بھر کی ہائی کورٹس بھی اسی طرح کے فیصلے کریں گی اور میڈیا کی آزادی خطرے میں پڑجائے گی۔۔۔۔

ظاہر ہے کہ حکومت اسی میڈیا کی بات کر رہی ہے جو اس کی خامیوں کو چھپاتا ہے اور جو فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو چوٹ پہنچانے کیلئے دن رات چیختا چلاتا ہے۔اگر ایسا نہ ہوتا تو بی جے پی اور خود مرکزی حکومت معروف صحافی ونود دوا کے خلاف کی جانے والی ایف آئی آر کی حمایت نہ کرتی۔۔اور ارنب گوسوامی اور امیش دیوگن کے خلاف ہونے والی ایف آئی آر کی مخالفت نہ کرتی۔۔۔ ۔لطف کی بات یہ ہے کہ آج سپریم کورٹ میں ونود دوا کا معاملہ بھی زیر سماعت آیا تھا۔۔۔۔

جسٹس اندو ملہوترا نے سوال کیا کہ آپ پابندی ہٹانے کا مطالبہ کر رہے ہیں لیکن آگ بھڑکا نے والے بیانات تو ہر حال میں ہٹانے پڑیں گے۔انہوں نے پوچھا کہ آخر پروگرام میں ٹوپی اوڑھے ہوئے داڑھی والے لوگ دکھانے کی کیا ضرورت ہے۔انہوں نے یہ بھی پوچھا کہ جب مسلمان کا ذکر آتا ہے تو گرین شرٹ پہنے ہوئے نوجوان کیوں دکھائے جاتے ہیں۔اسی طرح جسٹس چندر چوڑ نے کہا کہ جب آپ سول سروسز میں مسلمانوں کا ذکر کرتے ہیں تو آئی ایس آئی کا بھی حوالہ دیتے ہیں۔آخر پوری ایک کمیونٹی کو کیسے ایک ہی رنگ میں رنگا جاسکتا ہے۔۔۔۔۔؟

سدرشن نے زکوۃ فاؤنڈیشن کے غیر ملکی چندے اور سخت گیر عناصرسے لنک کا سوال بھی اٹھایا۔۔۔۔ جسٹس چندر چوڑ نے کہا کہ اگر آپ کسی تنظیم کی فنڈنگ کے تعلق سے انویسٹی گیٹو اسٹوری کرنا چاہتے ہیں تو کیجئے لیکن اس کے بہانے ایک پوری قوم کو بدنام کرنے کا آپ کو کوئی حق نہیں۔اس کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔۔۔۔

اس موقع پر آج زکوۃ فاؤنڈیشن آف انڈیا کی طرف سے معروف وکیل سنجے ہیگڑے پیش ہوئے اور عدالت سے کہا کہ یہاں عدالت میں بھی ہمارا ذکر ہورہاہے اور باہر بھی۔اس پر جسٹس چندر چوڑ نے کہا کہ آپ کے موکل پر سنگین الزامات ہیں۔اگر آپ چاہیں تو آپ پارٹی بن سکتے ہیں۔۔سنجے ہیگڑے نے کہا کہ وہ پیر کے روز بتائیں گے کہ وہ پارٹی بنیں گے یا نہیں۔۔۔۔

بہر حال عدالت نے کہا کہ وہ اس نکتہ سے واقف ہے کہ اگر وہ آرٹیکل 141 کے تحت کوئی حکم دیتی ہے تو وہ اس ملک کا قانون بن جائے گا۔۔۔۔ سچی بات یہ ہے کہ اظہار رائے کی آزادی کیلئے اس طرح کا کوئی حکم بہت خطرناک بھی ثابت ہوسکتا ہے۔۔۔۔ حکومت تو پہلے ہی اپنی پالیسیوں کے خلاف اٹھنے والی ہر آواز کو دبانا چاہتی ہے۔اگر قانون بن گیا تو پھر تو اس کے لئے اور بھی آسان ہوجائے گا۔اسی لئے اس نے چینلوں سے پہلے سوشل میڈیا کو کنٹرول کرنے کے لئے عدالت سے ضوابط بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔اس نے بھی اس سلسلہ میں 33 صفحات کا جواب داخل کیا ہے۔۔۔

اب اس سلسلہ میں اگلی سماعت 21 ستمبر کو دن میں دو بجے ہوگی۔۔۔ کچھ بھی ہو شرپسندوں کے حوصلے اس کے باوجود بلند ہیں کہ سپریم کورٹ سدرشن کے معاملے میں سخت ہے۔۔۔ اسی لئے سدرشن کا اینکر مسلسل توہین آمیز ٹویٹ کر رہا ہے۔۔۔ کل جب انوپ جارج چودھری نے عدالت سے ان توہین آمیز ٹویٹ کی شکایت کی تو جسٹس چندرچوڑ نے مسکراتے ہوئے کہا کہ اگر اس شخص نے کوئی گھٹیا بات کہی ہے تو ہم اسے نظر انداز کریں گے۔۔۔۔۔۔