ریٹائرڈ جسٹس کاٹجو نے ایودھیا (بابری مسجد) فیصلے کو پچھلے 50 سالوں میں کیاگیا سب سے شرمناک فیصلہ قرار دیا۔

ریٹائرڈ جسٹس کاٹجو نے ایودھیا (بابری مسجد) فیصلے کو پچھلے 50 سالوں میں کیاگیا سب سے شرمناک فیصلہ قرار دیا۔

ملک کےموجودہ عدالتی نظام پر لگائے گئے الزامات اور اٹھائے گئے سوا لات کے جواب کون دیگا ۔۔۔۔۔ ؟؟؟

نقطۂ نظر


سلیم الوارے

لندن کے ویسٹ منسٹر عدالت میں پیش ہوئے مقدمہ میں نیرو مودی کو ہندوستان حوالگی معاملے کی سنوائی میں سپریم کورٹ کے مشہور و معروف ریٹائرڈ جسٹس مارکنڈے کاٹجو نے ملک کے موجودہ عدالتی نظام پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستانی عدالتی نظام ناقابلِ درست حد تک گر چکا ہے۔انھوں نے کہا کہ ملک میں ایماندار جج بھی ہیں مگر 50 فیصد سے ذیادہ جج کرپٹ ہیں۔
انھوں نے نیرو مودی حوالگی معاملے میں اپنے موکل کا دفاع کرتے ہوئے لندن کی ویسٹ منسٹر عدالت کو بتایا کہ ہندوستان نے نیرو مودی کو ملک کی دگر گوں معیشت کے لیے ٹھیک اسی طرح “بلی کا بکرا” بنایا گیا ہے، جیسے 1930 میں نازیوں نے جرمنی میں “معاشی ناکامی” کے لئے یہودیوں کو ذمہ دار ٹھہرایا تھا اب اسی طریقہ کار کو اپناتے ہوئے ہندوستان کی سرکار نیرو مودی کو ہندوستان لے جانے کے لیے اڑی ہوئی ھے جو اسے واپس لے جاکر مجرم ثابت کریگی اور اسے سزا دی جائے گی، اسے ہندوستان میں انصاف نہیں مل سکتا۔ لہٰذا سابق جسٹس مارکنڈے کاٹجو نے لندن کی عدالت سے گہار (عرضی) لگائی ہے کہ نیرو مودی کو ہندوستان کے حوالے ہرگز ہرگز نہ کیا جائے۔
نیرو مودی کے دفاع کے لیے سابق جج مارکنڈے کاٹجو نے عدالت میں جو باتیں کی وہ غور طلب ہیں اور ملک کے لاکھوں وکیلوں، ہزاروں مجسٹریٹ، 25 ہائی کورٹس کے ایک ہزار سے زائد ججس اور سپریم کورٹ کے 30 معزز جج صاحبان کو جنجھوڑنے کے لیے کافی ہیں۔
ریٹائرڈ جسٹس مارکنڈے کاٹجو نے سپریم کورٹ کے ذریعے ایودھیا معاملے(بابری مسجد-رام جنم بھومی تنازعہ) میں سپریم کورٹ کے فیصلے کو بدبختانہ کہا ،اسے پچھلے 50 سالوں کا سب سے شرمناک فیصلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہندوستانی ججوں نے مرکزی سرکار کے سامنے ہتھیار ڈال دیے تھے ملک کے سب سے حساس معاملہ کا فیصلہ چند منٹوں میں سنا دیا گیا جو جھوٹ پر مبنی تھا۔
بروز جمعہ 11ستمبر کو ویڈیو لنک کے ذریعے دوسرے اور آخری دن جاری اپنی طویل بحث میں ریٹائر ڈ جسٹس مارکنڈے کاٹجو نے لندن کی عدالت کو بتایا کہ پینڈمک کوڈ 19 سے قبل ہی ہندوستان کی معیشت تباہ ھونا شروع ہو چکی تھی جی۔ڈی۔پی۔ مسلسل گر رہی تھی، لاکھوں افراد روزگار سے محروم ہو چکے تھے ، بے روزگار ی بڑھ رھی تھی اور ملک کی بی۔جے۔پی۔ سرکار کو اسکا کوئی حل نظر نہیں آ رہا تھا لہذا نیرو مودی کو “بلی کا بکرا” بنا دیا گیا۔
ہندوستانی سرکار کی نمائندگی بیرسٹر ہیلن مالکم کر رہے تھے جو نیرو مودی کی حوالگی پر مصر تھے انہوں نے ریٹائرڈ جسٹس مارکنڈے کاٹجو سے کیس سے ہٹ کر بھی مختلف عنوانات پر سوالات کئےاور مختلف حساس معاملات میں اُنکے وقتاً فوقتا دیے گئے بیانات پر بھی چرچا کی۔
ریٹائرڈ جسٹس مارکنڈے کاٹجو کی دیانتداری پر کوئی شک نہیں کر سکتا اور اس بات سے ہر کوئی واقف ہے کہ نیرو مودی پر پنجاب نیشنل بینک سے غبن کا معاملہ درج ہے، وہ لندن فرار ہوا ہے اور سرکار اسے ہندوستان واپس لانا چاہتی ہے لہٰذا اسے ہندوستان کے حوالے کرنے کا معاملہ لندن کی ویسٹ منسٹر عدالت میں فیصلے کا منتظر ہے۔ وہاں کی عدالت میرٹ کی بنیاد پر اس معاملے کا جلد یا دیر سے فیصلہ ضرور سنائے گی۔
لیکن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ملک کے موجودہ عدالتی نظام پر جو الزامات معزز ریٹائرڈ جسٹس صاحب نے لگائے ہیں اور عدلیہ کو لیکر جو سوالات اٹھائے ہیں اُسکے جواب کون دیگا۔۔۔۔؟؟؟