سلسلہ28 ___ روشن چراغ

*سلسلہ28*

*روشن چراغ*

مضمون نگار : ڈاکٹر محمد منظور عالم

اللہ کے آخری نبی حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و سلم کو اللہ تعالیٰ نے “سراجاً منيراً” کے نام سے بھی یاد فرمایا ہے. اس کا مطلب ہوتا ہے روشن چراغ. رسول کریم کے قرآنی القاب و اسماء میں سے یہ لقب یا نام بہت دلچسپ ہے. علماء نے اس کے سلسلے میں بڑی اچھی گفتگو کی ہے. ہم اس سلسلے میں بہت مختصر طور پر چند باتیں عرض کریں گے. خاص طور پر اس نام کے تذکیری پہلو کو واضح کرنے کی کوشش کریں گے.

سب جانتے ہیں کہ چراغ کی سب سے بڑی خاصیت یہ ہوتی ہے کہ وہ تاریکی کو روشنی سے اور ظلمت کو نور سے بدل دیتا ہے. اندھیرے کی وجہ سے جو کچھ نظر نہیں آتا، چراغ کے جلتے ہی، وہ سب نظر آنے لگتا ہے. ظلمت کے باعث جہاں چلنا پھرنا ناممکن ہوتا ہے، چراغ کے باعث وہ ممکن ہوجاتا ہے. تاریکی کی وجہ سے جو چیزیں کچھ کی کچھ نظر آتی ہیں، چراغ کی وجہ سے وہ سب اپنی حالت پر نظر آنے لگتی ہیں. اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے رسول کو روشن چراغ کہا ہے. کیوں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی ذاتِ گرامی پوری انسانیت کے لیے ایک روشن چراغ تھی. اسی طرح آپ کی تعلیمات قیامت تک آنے والے ہر انسان، ہر قوم، ہر ملک اور زمانے کے لیے روشن چراغ ہیں. آپ کی تعلیمات کے بغیر یہ دنیا تاریکی میں بھٹکتی پھر رہی تھی اور جب بھی آپ کی تعلیمات سے منہ موڑا جائے گا، دنیا کو اندھیروں میں مارے مارے پھرنا پڑے گا.

رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کے اس تعارف میں آپ کے ہر امتی کے لیے ایک واضح پیغام ہے. خاص طور پر اُن لوگوں کے لیے جو اللہ اور رسول کا پیغام دنیا تک پہنچانے کا عزم رکھتے ہیں. وہ پیغام یہ ہے کہ آج بھی دنیا میں مختلف انداز کی تاریکیاں پھیلی ہوئی ہیں. ظلم و بربریت کی تاریکی، جہالت کی تاریکی، فرقہ پرستی کی تاریکی، ضعیف الاعتقادی اور تعصبات کی تاریکی. اور بھی نہ جانے کیسی کیسی تاریکیاں پھیلی ہوئی ہیں. اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے نام لیوا ہر شخص کو ہمیشہ قرآن و سنت کی روشنی سے ان تاریکیوں کو مٹانے کی مخلصانہ جدوجہد کرنی چاہیے. انھیں بھی دوسرے انسانوں کے لیے ایک روشن چراغ بننے کی کوشش کرنی چاہیے. دنیا کے جس علاقے اور جس قوم کو بھی ذہنی، فکری، روحانی تاریکی کا سامنا کرنا پڑے تو فوراً ہمیں ایک روشن چراغ کی طرح اُس تاریکی کو ختم کرنے کی کوشش کرنا چاہیے. گویا ہماری زندگی اس شعر کا مصداق ہونی چاہیے:
اپنا تو کام ہے کہ جلاتے چلو چراغ
رستے میں خواہ دوست یا دشمن کا گھر ملے

ڈاکٹر محمد منظور عالم
(چیئرمین انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیز، نئی دہلی)