دہلی میں مسلم ٹیکسی ڈرائیور کی لنچنگ اور پانی پت میں کام کے تلاش میں گئے مسلم مزدور کے ہاتھ کاٹنے کا دلدوز واقعہ

دہلی میں مسلم ٹیکسی ڈرائیور کی لنچنگ اور پانی پت میں کام کے تلاش میں گئے مسلم مزدور کے ہاتھ کاٹنے کا دلدوز واقعہ۔۔۔۔۔ !!!

میڈیا اور مرکز ی سرکار مسلمانوں اور نچلے طبقات پر مسلسل ہونے والے ظلم وزیادتی اور تشدد کو یکسر نظر انداز کررہی ہیں۔

نقطۂ نظر
سلیم الوارے

  1. ششانت سنگھ راجپوت خود کشی معاملہ کی جانچ سپریم کورٹ نے سی بی آئی کے سپرد کی اور سی بی آئی پچھلے ایک ہفتے سے اس معاملے کی ہر پہلو سے تفتیش کر رہی ہے اور اب تک ریا چکرورتی اور اس کے بھائی شووک چکرورتی کے ساتھ ساتھ سمیول میرانڈا، زید ویلاترا، دیپش ساونت اور مزید تین افراد گرفتار ہوئے ہیں جبکہ مزید گرفتاریاں خارج از امکان نہیں ،حلانکہ یہ گرفتاریاں نارکوٹکس کنٹرول بیورو ( NCB ) نے منشیات کے استعمال اور سپلائی کے خلاف مختلف دفعات کے تحت کی ہیں لیکن ششانت سنگھ راجپوت خود کشی معاملہ کی تہہ تک ان گرفتار افراد کے ذریعہ ہی پہونچا جاسکتا ہے اور ہر انصاف پسند شہری یہی چاہتا ہے کہ اس سانحہ کا سچ سامنے ائے لیکن یہ بات اب جگ ظاہر ہو چکی ہے کہ ششانت سنگھ راجپوت خود کشی معاملہ اب سیاسی دنگل بن گیا ہے اور حال ہی میں بہار میں بی جے پی کے ذریعے جاری کیا گیا ایک پوسٹر اس بات کا غماز ہے کے نتیش کمار اور اُن کی حلیف بی۔ جے پی۔ اِس معاملے کو بہار الیکشن میں اہم ترین مدعا بنانے جا رہے ہیں۔ٹی وی چینلوں اور اخبارات پر نظر ڈالنے پر ایسے محسوس ہو رہا ہے کہ ششانت سنگھ راجپوت کی خود کشی کے بعد سے یعنی
    ١٤،جون ٢٠٢٠کے بعد پورے ملک میں جرائم کا سلسلہ تھم سا گیا اور میڈیا کے پاس صرف ایک ہی خبر رہے گئی ہے جسے الگ الگ زاویے سے دکھایا جا رہا ہے تاکہ ٹی۔ آر۔ پی۔ کم نا ہو ، جبکہ ‘نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو’ کے اعداد وشمار کے مطابق پچھلے چار ماہ میں پورے ملک میں متعدد خطر ناک جرائم کا ارتکاب ہو چکا ہے جس میں سے ١٠, جولائی کو خونخوار گینگسٹر وکاس دوبے کے ذریعے پولیس والوں کا بے دردی سے قتل، اسکی گرفتار ی اور انکاؤنٹر والے معاملے کو ہی نیشنل میڈیا نے ایمانداری سے کوریج دیا جبکہ جرائم کے دیگر سیکڑوں خطرناک معاملات کو نظر انداز کر دیا خاص کر مسلمانوں اور نچلے طبقات پر مسلسل ہونے والے ظلم وزیادتی اور تشدد کو میڈیا، مرکزی سرکار اور تفتیشی ایجنسیوں کے ذریعے یکسر نظر انداز کیا جا رہا ہے ‌۔
    د ہلی میں ایک مسلم ٹیکسی ڈرائیور آفتاب عمال کی لنچنگ اس کی تازہ ترین مثال ہے جسکی ٹیکسی میں تین افراد بلند شہر سے دہلی کے لئے بیٹھے گفتگو بحث میں بدل گئی اور تینوں نے آفتاب عمال کو “جے شری رام” کا نعرہ لگانے کے لیے کہا انکار پر تینوں مسافر تشدد پر اتر آئے اور بےگناہ آفتاب عمال کو شہید کر دیا۔
    اس بہیمانہ قتل کو نیشنل میڈیا نے ذرہ بھر بھی اہمیت نہیں دی خوش قسمتی سے اُردو اخبارات اور مقامی پورٹلس نے اس خبر کو ہم تک پہنچایا اور دیر سے ہی سہی مگر این ڈی ٹی وی نے بھی اپنی ذمے داری بخوبی نبھا ئی۔ حال ھی میں ایک اور دل د ہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے۔ پانی پت میں روزگار کی تلاش میں گئے اخلاق نامی ایک مزدور نے ایک گھر سے پانی مانگا جواب میں اُسکا داہنا ہاتھ کاٹ دیا گیا اُسکا قصور صرف یہ تھا کہ اُسکے ہاتھ پر ٧٨٤ لکھا ہوا تھا۔
    مرکزی سرکار کو مسلمانوں پر ہونے والے ظلم وزیادتی اور تشدّد نظر نہیں آ تا اور نا ہی وزیر اعظم یا وزرات داخلہ ان معاملات کا سنجیدگی سے نوٹس لیتی ہے ہاں کبھی کبھار لیپا پوتی ضرور کی جاتی ہے ،مگر افسوس صد افسوس کہ خود کو سیکولر کہنے والی سیاسی پارٹیوں کو بھی مسلمانوں پر ہونے والے ظلم اور تشدّد پر کچھ کہنے سے ڈر لگنے لگا ہے کہ ان پر اقلیت نواز ھونے کا لیبل نا لگے اور موجودہ حالات میں بی جے پی کی حکومتوں والی ریاستوں میں مسلم لیڈر شپ بھی ڈری سہمی نظر آ رہی ہے۔۔۔۔۔۔؟؟؟
    مگر وقت کا پہیہ ضرور گھو میگا اور موجودہ سرکار کو اقلیتوں پر ہو رہے ہر ظلم و ستم کا جواب دینا ہوگا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔