وزیرِ برائےاطلاعات و نشریات روی شنکر پرساد کا “فیس بُک کمپنی” پر ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی کو رسوا کرنے کا الزام ۔۔۔۔ ؟؟؟

وزیرِ برائےاطلاعات و نشریات روی شنکر پرساد کا “فیس بُک کمپنی” پر ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی کو رسوا کرنے کا الزام ۔۔۔۔ ؟؟؟

اگر الزام میں ذرا سی بھی صداقت ہے تو “فیس بک” کو ملک بدر کیا جائے۔۔۔۔۔!!!

نقطۂ نظر
سلیم الوار ے

جان بوجھ کر خود کو مظلوم ظاہر کرنے کو انگریزی میں وکٹم کارڈ کھیلنا کہا جاتا ھے۔ پچھلے چھ سالوں سے ذاتی یا سیاسی مفادات کیلئے موجودہ حکومت اور حکومت میں بیٹھے لوگ بار بار اس طرح کی حرکتیں کرکے عوامی ہمدردی حاصل کرنے کی کوشش کرتے رہے ھیں اور اس میں کامیاب بھی ہوتے رہے ہیں۔

خود کو مظلوم ظاہر کرنے کے نت نئے طریقے ڈھونڈ نا ، دوسروں پر بیجا الزامات لگانا ، عوام کی توجہ حاصل کرنے کے لئے ڈرامہ بازی کرنا، سیاسی شعبدہ بازی کرنا وغیرہ خود کو مظلوم ظاہر کرنے کے مختلف طریقے ہیں اور اس میں حکمرانوں کا موجودہ ٹولہ مہارت رکھتا ہے ‌اور ملک میں رائج جمہوری نظام حکومت کی بدولت انھیں اس بات کی بھی آذادی ملی ھیکہ وہ اپنی من مانی کریں اور میڈیا کو اپنے ساتھ رکھ کر جواب دہی سے بچتے رہیں اور “من کی بات” جیسے پروگراموں کے ذریعے ملک کی ١٣٠ کروز عوام کو گمراہ کرتے رہیں اور ملک کے بیش قیمت اثاثوں کو اڈانی، امبانی کے ہاتھوں بیچتے رھیں۔

امریکہ کے معروف روزنامہ واشنگٹن پوسٹ کےاس انکشاف کے بعد کہ فیس بک ہندوستان میں نفرت کو بڑھاوا دینے کے سنگھ پریوار کے ایجنڈے کو پروموٹ کر رہا ہے پوری دنیا میں ہلچل مچ گئی کانگریس کے لیڈر اور رکن پارلیمان راہل گاندھی نے خوب ہنگامہ کر اس کڑوے سچ پر اپنے افسوس کا اظہار کیا اور مودی سرکار کے ساتھ ساتھ فیس بک کو بھی خوب گھیرا کہ فیس بک انڈیا اینڈ ساؤتھ سینٹرل ایشیا کی پبلک پالیسی ڈائریکٹر انکی داس کو مافی مانگنی پڑی۔
گزشتہ دو ہفتوں سے یہ معاملہ عوامی مباحثے اور پرنٹ میڈیا میں چھایا رہا جسکے سبب شاید سرکار سبکی محسوس کر رہی تھی اور اسی درد اور کرب کو مٹانے کے لیے ملک کے وزیرِ اطلاعات و نشریات جناب روی شنکر پرساد نے اچانک یکم ستمبر کو فیس بک کے سی۔ ای۔ او۔ مارک ذکر برگ کو خط لکھ کر یہ کہا کہ سوشیل میڈیا کمپنی فیس بُک کا انڈیا یونٹ بی جے پی اور اُن کے حلیفوں کے خلاف مہم چلا رہا ہے اور اس کے ثبوت موجود ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ واضع ہو کہ اس سے قبل کانگریس نے اسی نوعیت کا خط لکھ کر کمپنی سے فیس بک انڈیا اور بی جے پی کے درمیان ساز باز کی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا ‌
روی شنکر پرساد نے اپنے تحریر شدہ خط میں کمپنی پر الزام لگایا ہے کہ وہ کمیونیٹیز (طبقات) کو جوڑنے کے اپنے مشن سے بھٹک رہا ہے، پچھلے چند ماہ سےطے شدہ ایجنڈے کے خلاف کام ہو رھا ھے اور فیس بُک ایک مخصوص سياسی پارٹی کے نظریات کی وکالت کر رہی ہے ۔ انہوں نے فیس بُک کو بنیاد پرست طاقتوں کے ذریعے استعمال کیے جانے کی بات بھی کی ساتھ ہی ساتھ بلا تصدیق و تحقیق کووڈ ١٩ پینڈمک کی خبریں عام کئے جانے کی شکایت بھی کی ہے۔
وزیرِ اطلاعات و نشریات روی شنکر پرساد نے یہ بھی شکایت کی ہے کہ ٢٠١٩ کے عام چناؤ میں بی جے پی کے خلاف لکھے گئے صفحات اب تک فیس بک سے ہٹائے نہیں گئے ہیں۔
انہوں نے فیس بک کے سی۔ ای۔ او‌ کو نصیحت کی ہے کہ بطور ڈیجیٹل پلیٹ فارم فیس بُک کو غیر جانبدار رہنا چاہیے اور تمام خیالات اور آئیڈیالوجی کے لوگوں کی باتوں کو جگہ دینی چاہئے۔
روی شنکر پرساد نے حیرت انگیز طور پر فیس بُک پر وزیر اعظم نریندر مودی اور اُنکے سینئر کابینی رفقاء کے خلاف بد تمیزی ، بد کلامی اور غیر پارلیمانی الفاظ استعمال کیے جانے کا الزام لگایا ہے۔
اگر واقعی میں یہ الزامات درست ہیں تو بلا کسی جھجھک فوراً سے پیشتر فیس بُک کمپنی کو ملک بدر کر دیا جانا چاہئے۔۔۔؟؟؟
ورنہ ہم یہ سوچنے پر مجبور ہونگے کہ ممبئی ہائی کورٹ، د ہلی ہائی کورٹ اور الا آباد ( پر یاگ راج ) ہائی کورٹ کے حالیہ فیصلوں کے سبب بی جے پی کو یہ محسوس ہو رہا ہے کہ سچ کا پرچم لیے کچھ فرض شناس اور بے خوف ہندوستانی اُٹھ کھڑے ہوئے ہیں اور یہ قافلہ اب آگے بڑھے گا تو بہت دور تک جائیگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔