فیک نیوز’ کو سمجھنا بھی ہوگا اور اسے پھیلنے سے روکنا بھی ہوگا کیونکہ اب یہ ایک انڈسٹری(صنعت) بن چکی ہے۔

نادانی میں ھم کیوں بنے ہوئے ہیں سنگھ کی پرو پیگنڈہ مشنری کے آلہ کار۔۔۔۔؟؟؟ نقطۂ نظر *سلیم الوارے*

‘فیک نیوز’ کو سمجھنا بھی ہوگا اور اسے پھیلنے سے روکنا بھی ہوگا کیونکہ اب یہ ایک انڈسٹری(صنعت) بن چکی ہے۔

نادانی میں ھم کیوں بنے ہوئے ہیں سنگھ کی پرو پیگنڈہ مشنری کے آلہ کار۔۔۔۔؟؟؟

نقطۂ نظر
*سلیم الوارے*

چونکہ میں ملازمتوں کے مواقع اور امکانات پر ایک طویل عرصے سے لکھ بھی رہا ھوں اور عملی طور پر کام بھی کر رہا ھوں لہٰذا اسی بنیاد پر میں عرض کرنا چاہتا ہوں کہ ‘ فیک نیوز ‘ اب صنعت یعنی انڈسٹری بن چکی ہے۔ ایک منافع بخش کاروبار کا روپ اختیار کر چکی ہے۔ اور یہ کاروبار خوب پھل پھول رہا ہے۔ ، ملک و قوم دشمن اور خصوصاً مسلم دشمن طاقتیں اس میں باقاعدگی سے سرمایہ کاری (انویسٹمنٹ) کر رہی ہیں کیونکہ انھیں پتہ ہے کہ ملک کو مسلم دشمنی پر محمول ھندو راشٹر بنانے کا جو سپنا آر ایس ایس اور سنگھ پریوار دیکھ رہا ہے اسکی تعبیر جھوٹ کی بنیاد پر ھی ممکن ھے اسی لیے بڑے چینلوں سے لیکر چھوٹے چھوٹے نیوز پورٹلس، ویب سائٹس اور مقامی زبان کے اخبارات کی باڑ سی آ گئی ہے اور ہر کوئی زیادہ سے زیادہ جھوٹ پھیلا کر کاروبارِ میں تیز رفتاری سے ترقی کرنا چاہتا ہے اور پیسہ بٹورنا ھی نہیں بلکہ ہر جائز نا جائز طریقے سے ھتیانا چاہتا ھے، اور اسی کے چلتے ملک میں مسلمانوں کے خلاف نفرت کی زہریلی فضا بنائی گئی ہے جسے آپ کو ھی قابو میں لانا ہوگا اسکے مُضر اثرات زائل کرنے ہونگے اور یہ صرف آپ ہی کر سکتے کیونکہ آپ ہی اسکے سب سے بڑے خریدار ہیں بصورت دیگر اس ملک کی قومی یک جہتی سالمیت اور اتحاد پارہ پارہ ہو جائیگا۔
ہم یعنی ہندوستان کے مسلمان آر ایس ایس اور سنگھ پریوار کے ذریعے فارورڈ کی گئی جھوٹی خبروں اور پیغامات (میسیجز) کو بلا تصدیق دینی ذمہ داری سمجھ کر فوراً آگے بڑھا دیتے ہیں اور یہ سلسلہ عرصہ دراز تک جاری رہتا ہے۔

توجہ فرمائیں ” پورے ملک میں آر ایس ایس کے دس کروڑ ممبرز ، دو لاکھ شا کھا ئیں وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔۔ ( فیک میسیج)
یہ میسیج جب ہمارے والدین، خواتین اور نوجوان پڑھتے ہیں تو وہ خوف زدہ ہو جاتے ہیں انکی آنکھوں میں اندیشہ اور وسوسہ صاف دیکھا جا سکتا ہے کیونکہ ہمیں سنہ ١٩٧٠ تا ١٩٩٥ تک شیو سینا شاکھا اور اسکے بعد سے آج تک آر ایس ایس شاکھا کے نام پر ڈرانے دھمکانے کی کوششیں کی گئیں حالانکہ ہم ٹکراؤ نھیں چاھتے لیکِن پر امن زندگی جینے کا حق تو ہمیں آئین نے دیا ہے جبکہ آر ایس ایس کے دس کروڑ ممبرز ، دو لاکھ شا کھا ئیں والی “فیک نیوز ” ھماری نظروں میں گھومتی ہے اور ھم خوف ذدہ ھو جاتے ھیں۔

چند سال قبل مہاراشٹرا کے ایک مسلم اکثریتی تعلقہ کے صدر مقام پر واقع سرکاری میدان میں آر ایس ایس کیڈر( سفید شرٹ خاکی چڈی) نے ایک تقریب کا انعقاد کیا تھا اور اخیر میں روایتی ڈرل کی تھی، بیشتر علاقائی مسلمان خواہ مخواہ پروپیگنڈا کرنے لگے کے آر ایس ایس اب ہمارے دروازے تک پہونچ چکی ہے حالانکہ وہ تقریب پہلی اور آخری ثابت ہوئی کیونکہ معاملہ سرکاری میدان سے لگے ایک متنازع پلا ٹ کا تھا جسے کچھ لوگ ہتیانا چاہتے تھے۔

آپ کی اطلاع کے لیے عرض کروں کی ممبئی کے کنگ سرکل(مھیشوری ادیان) میں روزآنہ صبح کچھ افراد المونیم کے چھوٹے سے اسٹینڈ پر آر ایس ایس کا فلیگ لگا کر سینے کے برابر ہاتھ رکھ کر بہت چھوٹی سی کتاب سے کچھ پڑھتے ہیں میں نے متعدد مرتبہ مقامی پولیس اور ایم۔ سی۔ جی۔ ایم۔ کی گارڈن اتھارٹی سے انکی شکایت بھی کی، اُنہیں منع بھی کیا گیا سلسلہ رک بھی جاتا ہے پھر شروع ہوتا ہے لیکن ان کی تعداد ٧ سے آگے نہیں بڑھ سکی حالانکہ میں نے انہیں دیگر لوگوں کو مدعو کرتے بھی دیکھا ھے۔

ابھی ٥ ، اگست کو ہمارے محترم وزیراعظم نریندر مودی نے رام مندر کا سنگ بنیاد رکھا افتتاحی تقریب کے بعد یہ جھوٹ پھیلایا گیا کہ وزیر اعظم کے دفتر سے ایک خط( فیک میسیج) یو پی کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کو لکھا گیا جس پر ھم نے یقین بھی کیا اور اس کی فیک کاپی کو خوب فارورڈ بھی کیا۔ وزیراعظم کے لیٹر ھیڈ پر جاری خط میں ملک کو ھندو راشٹر بنانے کے سپنے کو حقیقت میں بدلنے کے لئے ہو رہی کوششوں کے لئے یوگی آدتیہ ناتھ کی خوب سراہانہ کی گئی تھی اور اگلے ہفتہ میں مندر کی تعمیر کے لیے ٥٠ کروڑ روپئے کا چیک بھیجنے کا وعدہ کیا گیا تھا۔ یہ سب کچھ ہمیں خوف زدہ کرنے اور ہندو راشٹر کے لیے ماحول بنانے کے لئے کیا جا رہا ہے جو مشکل ہی نہیں بلکہ نا ممکن ہے

ہمارے لیےبہتر یہ ہے کی ہم رپبلک ٹی وی ، زی نیوز ، انڈیا ٹی وی، سدرشن ٹی وی اور سنگھ و سرکار کے “قصیدہ خواں” تمام چینلز کا مکمل بائیکاٹ کریں، ان کی پاپولر سیریلز بھی نا دیکھیں۔
بلا تصدیق ، غیر ضروری اور ڈر اور خوف زدہ کرنے والے میسیجس کو آگے بڑھنے سے روکیں ہو سکے تو بھیجنےوالے سے ہی اسے ڈیلیٹ کرنے کی درخواست کریں

سچ کو ھم تک پہنچا نے والے ہماری لڑائی لڑ رہے بے باک صحافیوں کی نیوز پورٹلس ، کاروان انڈیا، مکتوب میڈیا, وائس آف مارجن، د کوینٹ ، د وائر وغیرہ کے لیے ماہانہ ٥٠٠/٢٠٠ روپیے کی مدد کا معمول بنائیں۔
مخیر حضرات اور تاجر طبقہ ہماری نمائندگی کر رہے، ہمیں باخبر رکھنے والے اور ہمارے مسائل کو سرکار تک پہنچانے والے اردو و دیگر اخبارات کی اشتہارات کے ذریعہ مدد کریں۔حق بات کرنے والے این. ڈی. ٹی. وی. و دیگر چینلز دیکھیں اور اسکی کلپس فارورڈ کرنے کی عادت ڈالیں۔
آخری بات جسے آپ گذارش سمجھ کر اپنے بچوں کو دیگر شعبہ حیات کے ساتھ ساتھ میڈیا میں کیریئر بنانے کی بھی ترغیب دیں اور انکی بھر پوری مدد کریں تاکہ میڈیا میں ہماری بھر پور نمائندگی بھی ہو اور شراکت داری بھی۔۔۔۔۔۔۔!!!

Point of view:
Salim Alware
MUMBAI URDU NEWS
30/AUGUST/ 2020