چراغ ٹرسٹ کے زیر اہتمام طلبہ و طالبات کی حوصلہ افزائی!

چراغ ٹرسٹ کے زیر اہتمام طلبہ و طالبات کی حوصلہ افزائی!

سیتامڑھی(شکیب الاسلام) سیتامڑھی ضلع، کے پھلوریہ گاؤں میں چراغ ٹرسٹ کے زیر اہتمام ایک تشجیعی پروگرام کا انعقاد کیا گیا، اس میں جو طلبہ و طالبات دسویں اور بارہویں میں اچھے نمبرات لائے ہیں انہیں انعام واکرام سے نوازا گیا.
چراغ ٹرسٹ ایک سال قبل قائم کیا گیا ایک NGO ہیں . اس کے فاؤنڈر شاداب عالم ایک بہت ہی متحرک اور ایکٹو اسٹوڈنٹ ہیں. اور اس تنظیم کے کو-فاؤنڈر ہیں شہاب عالم، جو کہ ٹیکنالوجی پر مکمل عبور رکھتے ہیں.
اس ٹرسٹ کے ممبر سماج کو بہتر بنانا چاہتے ہیں اور اپنی حیثیت کے مطابق معاشرے کو کچھ دینا چاہتے ہیں. اس میں مہمان خصوصی کے طور پر گاؤں کے ہی ہونہار طلبہ کو مدعو کیا گیا تھا. سب سے پہلے ایجوکیشن سے پی ایچ ڈی کر رہے سعادت حسین سر نے طلبہ کو محنت ولگن کی تلقین کی، اپنا ذاتی تجربہ بتایا کہ کس طرح انہوں نے ایک اچھی نوکری کو الوداع کہہ کر پی ایچ ڈی کا انتخاب کیا اور سماج کے لیے ان کے جذبات کیا ہیں. دارالعلوم دیوبند سے انگریزی کا دو سالہ ڈپلومہ کر رہے عاقب نثار قاسمی نے مولانا بدر الدین اجمل کی قربانیوں اور ان کے خلوص کا ذکر کیا، اور اس بات پر زور دیا کہ مسلم طلبہ ہر شعبہ حیات میں جائیں.
ڈاکٹر شارق صاحب نے کہا کہ ہمیں اپنی صحت کا خیال رکھنے کی تلقین کی، گرم پانی استعمال کرنے کو کہا، اور یہ بھی کہا کہ بچوں کو اپنے جھوٹے گلاس میں پانی نہ دیں. ان کا تفصیلی تعارف ان کے بچپن کے دوست سعادت سر نے کیا. ان کے بعد محترمہ عارفہ نازنین جو کہ سرکاری ٹیچر ہیں انہوں نے اپنی قربانی کا ذکر کیا کہ ایک لڑکی کو دگنی پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، لیکن میرے ماں باپ نے ہمیشہ مجھ پر اعتماد کیا اور ان کے اعتماد کی میں نے ہمیشہ پاسداری کی، اور انہوں نے اپنے کئی تلخ تجربات بتائے کہ ایک بچے کی ماں کو جب انہوں نے بتایا کہ آپ کی بچی بہت اچھا پڑھ رہی ہے تو ماں کہتی ہے اس کو چھوڑیں آپ میرے بیٹے پر دھیان دے، لڑکی زیادہ پڑھ کر کیا کرے گی. عارفہ نے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ آخر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی اور امت مسلمہ کی ماں، کس قدر کامیاب بزنس وومن تھیں، اور تجارت میں ان کا کوئی ثانی نہیں تھا.
محمد رضا نے بتایا کہ بہت چھوٹی عمر سے انہوں نے بچوں کو تعلیم دینا شروع کردیا تھا، اور انہوں نے بہت ساری سرکاری اسکالرشپ کا تذکرہ کیا، اور ان کا ماننا ہے کہ بچے یونیورسٹی کے فارم زیادہ سے زیادہ تعداد میں بھریں.
اور انہوں نے بچوں کو بہت اہم مشورے سے نوازا. اور یہ انہوں نے کہا کہ گاؤں جو طلبہ جس لائن میں آپ ان سے جاکر مشورہ لیں، جیسے میڈیکل کے سلسلے میں معلومات کے لیے آپ ڈاکٹر شارق سے اور کامرس اور بے ایڈ، ایم ایڈ کے لیے آپ سعادت سر سے، اور انجینئر کے اسٹوڈنٹ جاوید اختر آرزو سے رابطہ کر سکتے ہیں.
پروگرام کی نظامت فیصل نذیر، ریسرچ اسکالر جامعہ نے کی. اور انہوں نے بھی اپنے تجربات طلبہ کو بتائے.
پھر تقسیم انعامات کا سلسلہ شروع کیا گیا اور ان میں پھلوریہ اور بسول کے مسلم وغیرہ مسلم، طلبہ و طالبات سب شامل تھیں. بچوں کی خوب حوصلہ افزائی کی گئی، انہیں سرٹیفکیٹ، میڈل وغیرہ دیا گیا. اس موقع پر گاؤں کی با اثر شخصیات موجود تھیں، جن کی موجودگی بچوں کا حوصلہ بڑھا رہی تھی.
پروگرام نہایت کامیاب رہا، اختتام پر شاداب کا لوگوں نے خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا.
اس موقع پر مولانا احسان، مولانا ابرار صاحب، سابق مکھیا جی ماسٹر طفیل، ماسٹر مشتاق، ظاہر حسین، مولانا مصطفی موجود تھے. اور جوانوں میں مشہور صحافی سیف الاسلام مدنی، نہال اصغر، جاوید اختر آرزو، مہیش مدن کمار، شہاب، اور پھلوریہ میں ایک سال سے بلا معاوضہ طالبات کے لیے “تہذیب البنات کوچنگ سینٹر” کے معاون مدرس جمال اصغر فیضی، نوشاد، عبد اللہ، عمران، شاداب انور، منہاج انور، عامر، گلفام، ابرار، آصف، وغیرہ نے پروگرام کو کامیاب بنانے میں غیر معمولی تعاون پیش کیا!