سلسلہ25 معرفتِ نبوی

*سلسلہ25*

*معرفتِ نبوی*

تحریر : ڈاکٹر محمد منظور عالم

اس سے پہلے ہم نے اپنی مختصر تحریروں میں اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنی کو سمجھنے کی کوشش کی تھی. انسانی زندگی میں اسمائے حسنی کی اہمیت اور ان کے معنی و مفہوم پر مختصر گفتگو کی تھی. اب ہم اللہ کے آخری نبی حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و سلم کی شخصیت اور تعلیمات کے متعلق کچھ گفتگو کرنا چاہتے ہیں. کیوں کہ اسلامی عقائد کے مطابق توحید کے بعد رسالت کا اور ارحم الراحمين کے بعد رحمۃ للعالمين کا نمبر آتا ہے. فارسی کا یہ مشہور مصرع اسی حقیقت کو بیان کرتا ہے:
ع: بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر
(مختصر یہ کہ خدا کے بعد تو ہی سب سے زیادہ مرتبے والا ہے.)

رسول کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی زندگی کے دو حصے ہیں. ایک شخصیت اور دوسرا تعلیمات. آپ کی زندگی میں یہ دونوں گوشے کبھی ایک دوسرے سے الگ نہیں ہوتے. بلکہ ہمیشہ ساتھ ساتھ چلتے ہیں. یعنی جس طرح آپ کی شخصیت تمام مخلوقات سے افضل اور جامع و مکمل ہے، اُسی طرح آپ کی تعلیمات بھی تمام انسانی تعلیمات میں سب سے جامع اور سب سے مکمل ہیں. اسی لیے ایک طرف اہل ایمان کو قرآن کریم میں اس بات کا حکم دیا گیا ہے کہ وہ آپ کی ذاتِ گرامی پر زیادہ سے زیادہ صلاۃ و سلام بھیجیں، تو دوسری طرف اس بات کا بار بار حکم دیا گیا کہ آپ کی تعلیمات کو اپنے لیے دستورِ زندگی بنائیں. زندگی کے ہر چھوٹے بڑے معاملے میں آپ ہی کی تعلیمات کی طرف دیکھیں اور اسی کی روشنی میں زندگی گزاریں.

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی شخصیت اور تعلیمات میں یہ جامعیت اس لیے تھی کہ آپ کا سیدھا تعلق وحیِ الٰہی سے تھا. دینی تعلیمات پر مشتمل آپ کی زبان سے نکلا ہوا ہر لفظ اللہ تعالیٰ کی مرضی کے مطابق تھا اور ابتداء سے لے کر انتہاء تک آپ کی پوری زندگی اللہ تعالیٰ کی نگرانی اور رہنمائی میں گزری تھی. اس لیے آپ کی شخصیت کا ہر پہلو اور آپ کی تعلیمات کا ہر گوشہ جامع ترین اور مکمل ترین تھا. لہٰذا اس بات کی سخت ضرورت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی مبارک شخصیت اور پاکیزہ تعلیمات سے وابستگی اختیار کی جائے اور اس وابستگی کا حق ادا کرنے کی کوشش کی جائے.

*ڈاکٹر محمد منظور عالم*
(چیئرمین انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیز، نئی دہلی)