زہر اگلنے والے میڈیا پر لگام کسنے کامعاملہ کل سپریم کورٹ آف انڈیا میں سماعت متوقع

زہر اگلنے والے میڈیا پر لگام کسنے کامعاملہ
کل سپریم کورٹ آف انڈیا میں سماعت متوقع
عدالت کی ہدایت پر جمعیۃ علماء نے نیوز براڈ کاسٹ ایسوسی ایشن کو فریق بنا دیا، گلزار اعظمی
ممبئی 6 اگست
مسلسل زہر افشانی کرکے اور جھوٹی خبریں چلاکر مسلمانوں کی شبیہ کوداغدار اور ہندوؤں اورمسلمانوں کے درمیان نفرت کی دیوارکھڑی کرنے کی دانستہ سازش کرنے والے ٹی وی چینلوں کے خلاف داخل کی گئی جمعیۃ علما ہند کی عرضی پر کل سپریم کورٹ آف انڈیا میں سماعت سماعت ہوسکتی ہے، اس سے قبل کی سماعت پر عدالت نے مرکزی حکومت کے وکیل سے کہا تھا کہ وہ عرض گذار کو بتائے کہ اس تعلق سے حکومت نے کیبل ٹیلی ویڑن نیٹورک قانون کی دفعات 19 اور 20 کے تحت ابتک ان چینلز پر کیا کارروائی کی ہے یا کی جاسکتی ہے نیز براڈ کاسٹ ایسوسی ایشن کو بھی فریق بنانے کا حکم جاری کیا تھا جس کے بعدنیوز برارڈ کاسٹ ایسو سی ایشن کو بھی فریق بنا دیا گیا ہے جنہوں نے عدالت میں اپنا جواب بھی داخل کردیا ہے۔
چیف جسٹس آف انڈیا اے ایس بوبڑے کی سربراہی والی تین رکنی بینچ کے روبرو معاملے کی سماعت ہوگی جس میں جسٹس اے ایس بوپنا اور جسٹس وی راما سبرامنیم شامل ہیں۔جمعیۃعلماء ہند کی جانب سے سینئر ایڈوکیٹ دشینت دوے بحث کریں گے جبکہ ان کی معاونت کے لیئے ایڈوکیٹ آن ریکارڈ اعجاز مقبول، ایڈوکیٹ شاہد ندیم، ایڈوکیٹ اکریتی چوبے و دیگر موجود رہیں گے، بذریعہ ویڈیو کانفرنسنگ عدالت معاملے کی سماعت کریگی۔
اس معاملے میں فریق بنے جمعتہ علماء قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے بتایا کہ گذشتہ سماعت پر سینئر ایڈوکیٹ دوشینت دوے (صدر سپریم کورٹ بار ایسو سی ایشن) نے عدالت کو بتایا تھا کہ تبلیغی مرکزکو بنیادبناکر پچھلے دنوں میڈیا نے جس طرح اشتعال انگیز مہم شروع کی یہاں تک کہ اس کوشش میں صحافت کی اعلیٰ اخلاقی قدروں کو بھی پامال کردیا گیا اس سے مسلمانوں کی نہ صرف یہ کہ سخت دلآزاری ہوئی ہے بلکہ ان کے خلاف پورے ملک میں منافرت میں اضافہ ہوا ہے، انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایک عام سے واقعہ کو میڈیا کے بڑے حلقے نے غیر معمولی واقعہ بناکر پیش کیا اور اس کے لئے جھوٹ کو بنیادبنایا گیا یہاں تک کہ کرونا وائرس کی وبائکو کرونا جہاد سے تعبیر کرکے یہ تاثردینے کی مجرمانہ کوشش کی گئی کہ ملک میں اس وباکو مسلمانوں نے پھیلایا ہے اس سے عوام کی اکثریت نہ صرف گمراہ ہوئی بلکہ عام مسلمانوں کو لوگ شک کی نظرسے دیکھنے لگے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عدالت کو مزید بتایاتھا کہ عدالت میڈیا کے لئے شرائط اور حدودطے کرے اور اسے آئندہ اس طرح کی اشتعال انگریزی سے روکے کیونکہ ایک ایسے وقت میں کہ لوگ ایک ساتھ مل کر کورونا وائرس کے خلاف جنگ لڑنے میں مصروف ہیں بے لگام میڈیا کا ایک بڑاطبقہ معاشرے میں انتشاروتفریق پید اکرکے لوگوں کو مذہبی طورپر تقسیم کرنے کی خطرناک سازشیں کررہا ہے اور اس کے لئے دھڑلے سے جھوٹی خبریں اور فرضی ویڈیوزکاسہارالیا جارہا ہے جو قانونی طورپر انتہائی قابل گرفت بات ہے۔
انہوں نے عدالت کو مزید بتایا تھا کہ صحافتی اصول کا تو یہ تقاضہ ہے کہ کوئی بھی خبر شائع یا نشرکرنے سے پہلے اس بات کی باضابطہ طورپر تصدیق کی جائے کہ آیا خبر میں جو کچھ کہا گیا ہے صحیح ہے یاغلط مگر میڈیا ایسانہیں کررہا ہے، انہوں نے کہا کہ ہماراقانون یہ بھی کہتاہے کہ اس طرح کی کوئی خبر شائع یا نشرنہیں کی جانی چاہئے جس سے کسی شخص یا فرقہ کی بدنامی یا دل آزاری ہویا جس سے لوگوں کے مذہبی جذبات مجروح ہوتے ہوں۔
جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے داخل پٹیشن میں پر ایڈوکیٹ آن ریکارڈ اعجازمقبول نے عدالت کی توجہ ان دیڑھ سو چینلوں اور اخبارات کی جانب دلائی تھی جس میں انڈیا ٹی وی،زی نیوز، نیشن نیوز،ری پبلک بھارت،ری پبلک ٹی وی،شدرشن نیوز چینل اور بعض دوسرے چینلوں کی جانب دلائی تھی جنہوں نے صحافتی اصولوں کو تار تار کرتے ہوئے مسلمانوں کی دل آزاری اور قومی یکجہتی کو نقصان پہنچانے کی ناپاک سازش کی تھی۔
جمعیۃعلماء مہاراشٹر