بابری مسجد کی بازیابی کے لیے ترکی کی مسجد آیا صوفیہ کو حوالہ کے طور پر پیش کیا جانا غور طلب امر ہے:

بابری مسجد کی بازیابی کے لیے ترکی کی مسجد آیا صوفیہ کو حوالہ کے طور پر پیش کیا جانا غور طلب امر ہے:

مشیت الہی کیا ہے اور دنیا میں اہل ایمان کس کس طرح آزمائشوں سے دوچار کیے جائیں گے؟ اس کا علم اسی مالک الملک کو ہے جو آزمائے گا۔
لیکن اس نے قرآن حکیم میں صراحتا اہل ایمان کی آزمائش کے لیے “خوف ۔ جوع ۔ نقصِ جان ومال اور باغات” کا ذکر کر دیا ہے۔
اس کے علاوہ بھی دیگر طرق سے اہل ایمان آزمائےجائیں گے اور تا قیامت آزماتے جائیں گے مگر استقامت علی الحق کے نتیجے میں، پھر یہ دور ختم ہوجائے گا اور اہل ایمان کو سرخروئی حاصل ہوگی۔

ہندوستان میں آزادی کے روز اول سے اہل ایمان جس طرح کی آزمائش سے گزر رہے ہیں وہ کبھی بھی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں رہ سکی۔
بابری مسجد کے قضیہ اور تناظر میں مسلمانوں کی اور ملک کی جو درگت ہوئی ہے وہ جگ ظاہر ہے۔ اور جس طرح دہشت گردوں اور فرقہ پرستوں نے اسلام اور مسلمانوں کے انتہائی مقدس ترین مذہبی جگہ “بابری مسجد” کی جگہ پر “رام مندر” کی تعمیر کا آغاز کرکے اپنی اجتماعی قوت دکھائی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ایک ہی نکتہ پر متفق ہیں اور ذاتی اختلافات اور باہمی جذبئہ حسد وباہمی انتقام کو بالائے طاق رکھے ہوئے ہیں۔
اورحسب روایت ہم نے رنجیدہ لب ولہجے کے ساتھ پریس ریلیز اور وہاٹس ایپ پر جذباتی بیان اور تنظیموں کو کوسنا شروع کیا ہوا ہے اور ماتم اور مرثیہ اور شکوے اور اپنی کمزوری اور رنج کا اظہار کر رہے ہیں، یہ ہماری کمزوریاں ہیں، اور ہماری ان کمزوریوں کو وہ لوگ شروع سے ہی جانتے ہیں اس لیے وہ اور خوش ہوتے ہیں۔

ہمارے ایک بزرگ نے شاید جذبات میں مغلوب ہوکر ہندوستان کو ترکی سمجھ لیا اور مودی جی کو کمال اتاترک سمجھ بیٹھے اور اخباری بیان میں بابری مسجد کو ترکی کی آیا صوفیہ مسجد سے جوڑ کر کچھہ جذباتی کلمات کہہ گئے۔
اور یہ ظاہر ہے کہ اس طرح کے جملے دشمن کو اپنے داؤ پیچ اور مستقبل کے عزائم سے واقف کرانا ہے۔ آپ ان پر اپنی طاقت اور ہیبت تو ڈال نہیں سکتے اس لیے کہ باہمی خانہ جنگی اور نفسانیت نے ہماری ہوا اکھاڑ دی ہے اور ہم مسلمانوں نے اپنے اخلاق سے اپنے اس غیر مسلم پڑوسی کو بھی ستر سالوں میں متاثر نہیں کیا جو ہمارے پڑوس میں رہ رہا ہے بلکہ بد اخلاقی سے عام مسلمانوں کو کیا بلکہ اپنے رشتہ داروں کو ہم لوگ اپنوں سے دور کرچکے ہیں۔ پھر ایسی صورت میں ہمارے ساتھ جو کچھ بھی ہو رہا ہے وہ کم ہے۔

علامہ سید مناظر حسن گیلانی رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ آخری نبی سیدنا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ امت دعوت کے لیے مبعوث کی گئی ہے۔ اب ہم میں سے ہر شخص اپنا محاسبہ کرے کہ اگر ہم اس فریضئہ دعوت کو انجام دیتے تو کیا بابری مسجد یا اس جیسی سینکڑوں مساجد شہید ہوتیں یا تبدیل کی جاتیں؟

اس لیے اب آہ وفغاں کی ضرورت نہیں بلکہ مکافات عمل کی ضرورت ہے، اور وہ یہ ہے کہ وطن عزیز میں ہم لوگ اب {کأنھم بنیان مرصوص}ہوجائیں ۔
اور اپنے ہم شکل وطنی بھائیوں کے درمیان دعوت دین پیش کریں، اچھے اخلاق اور مکارم اخلاق کو پیش کریں، دل سے ڈر اور خوف کو دور کریں، طاقتور مومن کے تصور کو ہر گھر میں عملی جامہ پہنانے کی کوشش کریں، اور یہ یقین رکھیں کہ چراغ مصطفوی کو کسی زمانے میں بھی شرار بولہبی مغلوب نہیں کرسکتا کہ یہ چراغ روشن ہونے کے لیے اور روشنی پھیلانے کے لیے ہی آیا ہے۔

البتہ ہوش وخرد کو مفلوج نہ ہونے دیں اور ہم میں کا کوئی بھی شخص بصیرت ودانائی کو اپنی ذات پر ہی ختم نہ کرے، اسی طرح محاسبئہ نفس کے ساتھ محاسبئہ افراد وانجمن بھی جاری رکھے کہ اس سے کام میں نکھار پیدا ہوتا ہے اور علم وتجربہ میں اضافہ، لیکن یہ محاسبہ برائے تعمیر ہو تنقید نہ ہو۔

اللہ تعالی کا فرمان ہے: {لیظہرہ علی الدین کله} اور {وقل جاء الحق وزھق الباطل إن الباطل کان زھوقا} ہمیشہ پورا ہوا ہے اور ہر زمانے میں ہوگا۔۔انتظارکیجیے نور توحید کا اتمام ابھی باقی ہے۔ ان شاء اللہ یہ چمن معمور ہوگا نغمئہ توحید سے۔
بس ہمارا کام یہ ہے کہ:
اگرچہ بت ہیں زمانے کی آستینوں میں
مجھے ہے حکم اذاں لا الہ الا اللہ۔

🖊️محمد شاہد ناصری الحنفی
*مدیر ادارہ دعوت السنہ مہاراشٹرا
*ماہنامہ مکہ میگزین ممبئی