سیاست کا ہاتھی ، عدالت کا ساتھی

سیاست کا ہاتھی ، عدالت کا ساتھی

ڈاکٹر سلیم خان
راجستھان میں جب پائلٹ کا جہاز قانونی شکنجے سے صحیح سلامت نکل گیا تو بی جے پی کے
حوصلے بلند ہوئے ۔ اس نے سوچا کیوں نہ ہاتھی پر چڑھ کر قانون کے لمبے ہاتھوں کو یکبارگی
کچل دیا جائے تاکہ وہ پھر کبھی پنجہ لڑا ہی نہ سکے ۔ اس مقصد کے حصول کی خاطر بھارتیہ
جنتا پارٹی کے رکن اسمبلی مدن دلاور نے بہوجن سماج پارٹی کے سابق 6 ارکان اسمبلی کے
کانگریس میں ضم ہونے کوچیلنج کرنے کے لیے ہائیکورٹ پہنچ گئے ۔ گزشتہ اسمبلی انتخاب میں
بی ایس پی کے سندیپ یادو، واجب علی، دیپ چند کھیریا، لکھن مینا، جوگیندر اوانا اور راجندر گڈھا
کامیاب ہوئے تھے ۔ ان میں سے چار تو سابق کانگریسی تھے۔ انہیں ہاتھ کا ساتھ یعنی ٹکٹ نہیں ملا
تو ہاتھی پر چڑھ کر الیکشن جیت لیا۔ اس کے بعد سرکار بنی تو ہاتھی سے اتر کر ہاتھ ملا لیا۔ یہ
انضمام گزشتہ سال 16 ستمبر 2019 کو ہوا۔ بی جے پی والوں نے اسے خاموشی سے برداشت
کرلیا لیکن اب اس کے خلاف عدالت درخواست دے دی۔
ہندوستان کے اندر ایک دل بدلی قانون ہے اس کے تحت اگر کسی پارٹی کے ایک تہائی لوگ الگ
ہوجائیں تو ان کی اسمبلی رکنیت محفوظ رہتی ہے ورنہ اس سےہاتھ دھونا پڑتا ہے۔راجستھان میں
کانگریس کے جملہ 107 ارکان اسمبلی میں سے ایک تہائی تعداد36 بنتی ہے ۔ پائلٹ کے ساتھ
19ہیں اور ان میں سے 3واپس آنا چاہتے ہیں یعنی کل 16جو مطلوبہ تعداد کے نصف سے بھی کم ہیں
لیکن بی جے پی ان کی رکنیت بچانے کے لیے ہاتھ پیر مار رہی ہے ۔ اس کے برعکس بہوجن سماج
کے صد فیصد چلے گئے لیکن بی جے پی ان کو ڈبونا چاہتی ہے ۔ ایسی اندھیر نگری بھی کمل والوں
نے کرکے دیکھ لی اور وہ ہاتھی کے اوپرچڑھ کر عدالت میں پہنچے مگر وہاں چاروں خانے چت
ہوگئےکیونکہ وہ افلاطون کے عدلیہ سے متعلق قول کو سمجھ نہیں پائے۔ افلاطون نے کہا تھا کہ :’’
قانون مکڑی کا وہ جالا ہے جس میں کیڑے مکوڑے تو پھنس جاتے ہیں مگر بڑے جانور اس کو پھاڑ
کر نکل جاتے ہیں‘‘۔ انہوں نے سوچا ہاتھی تو بہت بڑا جانور ہے پھاڑ کر نکل جائے گا لیکن وہ بھول
گئے اعداد کی جمہوریت میں اس کی حیثیت کیڑے مکوڑوں جیسی بھی نہیں ہے۔
راجستھان کی سیاسی بساط اب عدالت اور گورنر ہاوس تک پھیل گئی اور بی جے پی کے اشارے پر
یہ دونوں ادارے اپنی ساکھ داوں پر لگا ئے ہوئے ہیں۔ ۱۶ جولائی کو معاملہ عدالت میں پہنچا اور ۱۷
کو سماعت ہوئی ۔ اس کے بعد سے نہایت دلچسپ آنکھ مچولی کا کھیل چل رہا ہے۔ ۔ پہلے دن
عدالت میں جج نے اسے دو رکنی بنچ کے حوالے کرکے اگلے دن کی تاریخ دے دی۔ ۱۸ جولائی
کو عدالت نے ۲۰ جولائی کی تاریخ دے کر اسپیکر سے درخواست کی کہ ۲۱ تک نوٹس پر کارروائی
نہ کریں ۔ اسپیکر نے اس کو قبول کرکے اپنا کام کاج ملتوی کردیا۔ ۲۰ جولائی کو پائلٹ کی حمایت
میں دہلی سے دو بڑے وکلاء این کے پی سالوے اور مکل روہتگی وارد ہوگئے ۔ کانگریس نے بھی
سینیر وکیل ابھیشیک منو سنگھوی کو میدان میں اتار دیا ۔ اس لیے بحث کیسے پوری ہوتی ؟ بہر
حال معاملہ ایک اور دن کے لیے ٹل گیا ۔ ۲۱ کو لوگ توقع کررہے تھے کہ کوئی فیصلہ ہو گا مگر
ہائی کورٹ نے سماعت مکمل کرنے کے باوجود اپنا فیصلہ ۲۴ تک مؤ خر کرکے پھر ایک بار
اسپیکر کو کارروائی ٹالنے کی درخواست کردی ۔
اب تک یہ بات واضح ہوگئی تھی کہ عدالت کی نیت ٹھیک نہیں ہے۔ یہ تاریخ پر تاریخ اور پھر
فیصلے کا التواء دراصل ٹال مٹول کا حربہ تھا تاکہ سچن پائلٹ کو گہلوت کیمپ سے کچھ اور ارکان

اسمبلی کو اغواء کرنے کا موقع مل سکے ۔ اس کے خلاف دباو بنانے کے لیے اسپیکر سی پی جوشی
نے عدالت عظمیٰ سے گہار لگائی ۔ سپریم کورٹ میں سچن پائلٹ بھی پہنچ گئے اور وہاں پر جج
صاحب نے جس طرح کھل کر پائلٹ کا ساتھ دیا وہ تو وکلاء کو بھی شرمندہ کرنے والا تھا ۔ جج
صاحب نے اسپیکر کے وکیل کپل سبل سے پوچھا : وہ کس بنیاد پر ارکان اسمبلی کو برخواست کرنا
چاہتے ہیں۔ جواب تھا : ارکان میٹنگ میں نہیں آئے اور پارٹی مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔ ان
جگ ظاہر باتوں پر جج صاحب نے وکالت کرتے ہوئے کہا یہ عام معاملہ نہیں ہے۔ یہ ارکان
منتخبہ نمائندے ہیں۔ کیا عوام کے منتخب نمائندوں کو مخالفت کرنے کا حق نہیں ہے؟ جمہوریت میں
اختلاف کو دبایا نہیں جاسکتا۔ ایک اور جج صاحب نے تائید میں فرمایا ہائی کورٹ نے صرف ۲۴
جولائی تک انتظار کرنے کے لیے ہی تو کہا ہے؟ ان حضرات کو اس بات کی فکر نہیں ہے کہ یہ
ارکان جس عوام کے نمائندے ہیں اس کی پیٹھ میں چھرا گھونپ کر دشمنوں کے اشارے پر کیوں
کام کررہے ہیں؟
دورانِ سماعت جب ایک جج نے کہا کہ یہ پتہ لگایا جارہا ہے کہ برخواستگی کی کارروائی شروع
کرنے کا پروسس درست تھا یا نہیں؟ تو کپل سبل بولے اس موقع پر یہ مدعا نہیں اٹھا یا جاسکتا۔ کپل
سبل نے عدالت عظمیٰ سے درخواست کہ راجستھان کی عدالت عالیہ میں سماعت کو روکا جائے ۔
اس کے بعد جج صاحبان پائلٹ کےان وکلاء کی جانب متوجہ ہوئے جن کا سارا کام وہ خود
کرچکے تھے ۔ سچن پائلٹ کو اگر اندازہ ہوتا کہ انہیں اس قدر مستعد اور خیر خواہ ججوں کی
خدمات حاصل ہوں گی تو وہ روہتگی اور سالوے جیسے مہنگے وکلاء پر اپنے پیسے خراب نہیں
کرتے ۔ یہ سینئر وکلاء ایک دن کی پیروی کے ۵۰ لاکھ روپئے لیتے ہیں۔ اس کے بعد سپریم
کورٹ نے حسب توقع ہائی کورٹ کو حکم دینے کا اختیار دے کر ۲۷ جولائی کی تاریخ دے دی ۔
ہائی کورٹ نے پھر روک لگائی اور اسپیکر نے عدالت عظمیٰ سے اپنا مقدمہ واپس لے لیا اور سارا
معاملہ ٹائیں ٹائیں فش ہوگیا۔
اسپیکر کے کے فیصلے سے قبل عدالت اس کے اختیارات میں مداخلت نہیں کرسکتی ۔ سپریم
کورٹ کے کئی فیصلوں میں اس کی نذیرموجود ہے۔ اس سال جنوری کے اندر منی پور کے معاملہ
میں سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کو اسپیکر کے اختیارات پر غور کرنے کی تلقین کر کے
اس کے حق میں مداخلت سے گریز کیا تھا۔ وہاں پر کانگریس کے ۷ اور ترنمول کے ایک رکن
اسمبلی کی رکنیت کئی سالوں سے معطل ہے اور اسپیکر کوئی فیصلہ کرکے نہیں دے رہے ۔ اب تو
ترنمول کا رکن بھی کانگریس میں شامل ہوگیا ہے۔ گزشتہ ماہ راجیہ سبھا کا انتخاب کے وقت تو بی
جے پی کے اسپیکر نے حد کردی ۔ اس نے بی جے پی میں شامل ہونے والے چار ارکان کی رکنیت
بحال کرکے انہیں ووٹ دینے کا حق دے دیا مگر دیگر ۴ کو معطل رکھا ۔ اسپیکرکے آئینی حق کی
وجہ سے اس دھاندلی کو بھی برداشت کرلیا گیا ۔ ایسے میں راجستھان کے اسپیکر کو اس کے
دستوری حق کے استعمال سے روکنا سراسر زیادتی ہے۔
عدالت میں ٹال مٹول ہوسکتی ہے لیکن وہاں 2003 کے فیصلے کی نذیر موجود ہے جبکہ اترپردیش
کی اسمبلی میں بی ایس پی کے12ارکان نے سماجوادی پارٹی کی حمایت کردی تھی لیکن عدالت
عظمیٰ نے اسپیکر کے ذریعہ انہیں الگ گروہ تسلیم کرنے کے باوجود نکال باہر کیا۔ ہریانہ کے
اندر ہریانہ جنتا کانگریس کے 5 ارکان نے اپنی پارٹی سے بغاوت کرکے کانگریس میں شمولیت
اختیار کرلی تھی مگر پنجاب ، ہریانہ ہائی کورٹ نے ان پانچوں کی رکنیت منسوخ کردی ایسے میں
سپریم کورٹ کے لیے پائلٹ کی حامیوں کی رکنیت بحال رکھنا بے حد مشکل امر ہے۔ عدالت کے پاس

تاریخ پہ تاریخ دینے کے علاوہ اور کوئی چارۂ کار نہیں ہے۔ سوال یہ ہے کہ وینٹی لیٹر پر پڑا ہو ا یہ
کورونا کا مریض اپنی آخر ی سانس کب لے گا اور کب اس کا دم اکھڑ جائے گا؟
اس طرح کی بغاوت جس صوبے میں بھی ہوتی ہے حزب اختلاف اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے مطالبہ
کرتا ہے اور گورنر وزیر اعلیٰ پر دباو ڈالتے ہیں کہ جلد ازجلد ایوان اسمبلی کا اجلاس بلاکر اپنی
اکثریت ثابت کریں مگر راجستھان میں معاملہ اس کے برعکس ۔ وہاں پر حزب اختلاف میں یہ مطالبہ
کرنے کا دم خم نہیں ہے الٹا وزیر اعلیٰ خود گورنر سے نوٹیفکیشن جاری کرنے کی گزارش کررہے
ہیں ۔ گورنر کلراج مشرا جو وزیر اعلیٰ کا خواب دیکھتے دیکھتے سیاست سے سبکدوش ہوگئے گھٹیا
سیاست کے اپنے ارمان نکال رہے ہیں ۔ وہ وزیر اعلیٰ سے کہہ رہے ہیں کہ آئینی حدود سے بالاتر
کوئی نہیں ہے ۔ کسی بھی طرح کا سیاسی دباو نہیں ہونا چاہیے جب حکومت کے پاس اکثریت ہے تو
اجلاس کیوں بلایا جائے ؟ اصل سوال یہ ہے کہ اگر وزیر اعلیٰ اجلاس بلانا چاہتا ہے تو اسے کیوں
روکا جائے؟ گورنر کا وزیر اعلیٰ کے پاس اکثریت کے ہونے کا اعتراف اپنے آپ میں بڑی
اہمیت کا حامل ہے لیکن درحقیقت وہ عوام کے ذریعہ گورنر ہاوس کے گھیراو کی دھمکی سے ڈر
گئے ہیں ۔ اس لیے لنگڑے لولے تکنیکی سہاروں سے اسے ٹال رہے ہیں ۔
ماہرین دستور کے مطابق میں ہندوستان کی 70 سالہ تاریخ میں ایسا پہلی بار ہوا ہےکہ کسی
گورنرنے کابینہ کی تجویز کو ٹھکرایا ہو۔ ویسے آئین کی شق174 کے مطابق اگر دوسری بار
کابینہ کے اجلاس میں فیصلہ ہوجائے تو اس کی بجا آوری گورنر پر لازم ہوجاتی ہے۔ گورنر کے
ذریعہ چند ارکان اسمبلی کا معاملہ عدالت میں ہونے کا بہانہ بے بنیاد ہے۔ اس طرح کا معاملہ ارونا
چل پردیش میں پیش آچکا ہے جب وزیر اعلیٰ کے مطالبے سے ایک ماہ قبل صوبائی اسمبلی کا
اجلاس بلا لیا گیا۔ گورنر نے دھونس جماتے ہوئے اسمبلی کو قفل لگادیا اس کے خلاف اسپیکر نے
عدالت عظمیٰ سے رجوع کیا ۔ گورنر کا موقف تھا کہ اس کے معاملے کورٹ مداخلت نہیں کرسکتا
مگر سپریم کورٹ میں گورنر کو منہ کی کھانی پڑی ۔ کلراج مشرا کو چاہیے کہ اس واقعہ سے
عبرت پکڑیں ورنہ ان کا انجام بھی ہاتھی میرے ساتھی کی طرح ہوجائے گا ۔ فی الحال گورنر کلراج
مشرا کا حال اس سفید ہاتھی کا سا ہے کہ جس سے کہا جارہا ہے:
چل چل چل میرے ساتھی،او میرے ہاتھی
چل لے چل کر کھٹارا کھینچ کر
ارے یار دھکا مار،بند ہے موٹر کار
گورنر اپنی ٹال مٹول سے پائلٹ کا بند کھٹارا کب تک کھینچ سکیں گے یہ تو وقت ہی بتائے گا۔
ویسے اسمبلی کا اجلاس اگر آج بلا لیا جائے تو اعتماد کے ووٹ سے قبل ساری جماعتوں کے
وہپ اپنا ہنٹر چلا دیں گے ۔ اس کی پابندی ارکان اسمبلی پر لازم ہوگی اور خلاف ورزی کرنے
والے پر کارروائی کا پارٹی کو آئینی حق مل جائے گا۔ ایسے میں اگر پائلٹ غائب رہتے ہیں تو تادیبی
کارروائی کے سزا وار ہوں گے ۔ ایوان میں حاضر ہوکر پارٹی کے خلاف ووٹ دینے یا واک آوٹ
کرنےکی صورت میں رکنیت گنوائیں گے اور پارٹی کی حمایت کردی تو سب کیا دھرا ملیا میٹ
ہوجائے گا۔ اس کے بعد یہ 21کی تعداد کی ممکن ہے ایک جمع دو تین ہوجائے ۔ دراصل پائلٹ کا
پنچر جہازہوا میں پہیوں کی ضرورت سے بے نیاز ہے لیکن زمین پر اترتےہی وہ بیچارہ حادثے
کا شکار ہوجائے گا ۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہوا میں ایندھن کا انتظام نہیں ہوسکتا اس لیے کچھ
عرصہ فضا میں پرواز کرنے کے بعد ہر جہاز کو زمین پر آنا ہی پڑتا ہے ۔ یہ وہی مجبوری ہے جو

ہر پرندے کو پیٹ بھرنے کے لیے ہوا سے زمین پر یا اس میں گڑے پیڑ پر اتارلاتی ہے۔ اس
صورتحال کا بیان عرفان صدیقی نے کیا خوب کیا ہے؎
تم پرندوں سے زیادہ تو نہیں ہو آزاد شام ہونے کو ہے اب گھر کی طرف لوٹ چلو
پائلٹ کے پرندوں کی گھر واپسی ہوگی یا نہیں یہ کوئی نہیں جانتا ۔ خیر بات چونکہ افلاطون سے
شروع ہوئی تھی اس لیے وہیں اس کو ختم کیا جائے۔ افلاطون کی شہرہ آفاق تصنیف ’ ریپبلک‘ کا
ترجمہ لوگ جمہوریت کرتے ہیں حالانکہ وہ جمہوریت نواز نہیں بلکہ اشرافیہ کی حکومت کا قائل تھا
ا۔ س لیےاس کا صحیح مطلب ’ریاست‘ ہوتا ہے۔ اس کتاب میں جمہوریت کا مذاق اڑاتے ہوئے وہ
لکھتا ہے’جمہوریت میں ہر کوئی آزادی کی فضا میں سانس لیتا ہے۔ ہر کوئی اس کی تعریف کرتا
ہے۔ بالکل اس طرح جیسے کوئی عورت کسی عورت کے خوبصورت فراک کی تعریف کرے‘۔ اس
بابت بہت ٹھوس بات افلاطون کے استاد سقراط نے کہی کہ یہ ایک ایسا طرز حکومت ہے جس میں
کوئی کسی قانون کا پابند نہیں ہوتا۔ غلطی سے ہو جائے تو ہر کوئی اپنی خواہش پوری کرتا ہے۔ لوٹ
مار شروع ہو جاتی ہے اور سب مل کر حصہ بانٹتے ہیں ۔ فی الحال ہندوستان کی حکمراں جماعت
سقراط کے ہر لفظ کو درست ثابت کرنے پر تلی ہوئی ہے لیکن بیچارہ پائلٹ ایک ایسے چکرویوہ
میں پھنس گیا ہے جس سے اسے کمل چھاپ برہما ستر بھی نہیں بچا سکتا ۔