شجرِ سایہ دار، قاضی محمد مخدوم محی الدین مرحوم “چکھل  تھا نہ اورنگ آباد

شجرِ سایہ دار، قاضی محمد مخدوم محی الدین مرحوم “چکھل  تھا نہ اورنگ آباد

از ۔محمد الیاس فلاحی
مصاف ِ دیدہ تر میں غضب کا موسم ہے
فلک کی چالِ سبک رو کہ ماتمی ہم ہیں، ۔
آج صبح کی اولین ساعتوں میں یہ درد انگیز اور جانکاہ خبر موصول ہوئی کہ قاضی صاحب نہیں رہے ۔

کل ہی کی تو بات تھی جبکہ میں آن لائن  قران ورکشاپ میں مصروف تھا کہ قاضی صاحب کا کال میرے موبائیل سکرین پر تھا اور افسوس کہ ریسیو نہ کر سکا چونکہ میرا درس جاری تھا, ایک کے بعد دیگرے آن۔لائن مصروفیات رہیں  اور افسوس میں کال بیک نہ کر سکا اور صبح یہ خبر کہ  ہمارے انتہائی شفیق مہربان، مخلص اور بزرگ تحریکی زندگی کے رفیق جن کی شخصیت میں مجھے پدرانہ شفقت اور محبت محسوس ہوتی تھی۔ اس دار فانی سے کوچ کرگئی  ۔

قاضی صاحب دراصل تحریک کے جاں نثار’  مجاہد صفت رفقاء میں سے تھے ۔ایک سچے مرد مومن کے اوصاف حمیدہ سے ان کی شخصیت مزین تھی ان سے مل کر تحریک کی تربیت اور احسان کا اندازہ ہوتا تھا۔ان کے اخلاقِ کریمہ قابلِ رشک تھے ۔میرے گھر کبھی کبھی صرف ملاقات کے لئے آتے’ میرے بچوں سے اور  اہل خانہ سے بڑی محبت وشفقت کا سلوک فرماتے ۔ہمارے مسائل سے آگہی حاصل کرتے اور حل کرنے میں دلچسپی لیتے، بچے تعلیم کے لئے باہر ہیں تو گاہے بہ گاہے فون کرکے خیریت دریافت کرتے،  تحریکی سرگرمیوں  کا سفر ان کے ساتھ تقریباً بائیس سالوں پر محیط ہے

وہ خود اورنگ آباد کے ایک زمانے میں ناظم ضلع بھی رہ چکے ہیں اور جب یہ ذمہ داری مجھ پرآئی تو مرحوم اس زمانے میں امیر مقامی تھے ۔پیرانہ سالی کے باوجود وہ بہت متحرک لیڈر تھے چکھل تھانہ کے لئے وہ مرجعِ خلائق تھے  برادرانِ وطن میں نہایت قابل احترام اور سب کے نزدیک مسلّم شخصیت تھے

اکثر پنڈت حضرات  بھی اپنے اپنے نزاعی معاملات میں انھیں حَکم بناتے تھے ۔علماء وآئمہ کے احوال ومسائل سے واقف رہتے تھے اور ان کی سرپرستی فرماتے تھے، چکھل تھانہ کی تمام مساجد میں درس وبیان کے مواقع ان کی وجہ سے حاصل تھے ۔ان کا دستر خوان بہت کشادہ تھا ہم جب بھی ان کے گھر جاتے وہ کھانا کھلائے بغیر جانے نہ دیتے۔

چکھل تھانہ میں گزشتہ سال آگ زنی کا واقعہ پیش آیا کئ دکانیں جل کر خاک ہوگئیں مرحوم ایک ایک متاثر کے گھر گئے ان کی دادرسی کی جوضرورت مند تھے جماعت سے یا اپنی جیب سے ضروریات پورا کرنے کی کوشش کی ۔فسادات کے موقع پر ریلیف کے لئے فوراََ میدان میں آتے انتظامیہ اور تمام ذی اثر عمائدین کے نزدیک بہت محترم تھے ۔ان کی باتوں کو سب ہی بہت غور سے سنتے تھے ۔بڑے زیرک، دانشمند اور وسیع المطالعہ انسان تھے ۔یقیناً قاضی مخدوم محی الدین صاحب ہمارے لئے ایک شجر سایہ دار تھے انھوں نے اپنے پورے خاندان کو تحریک اسلامی سے جوڑنے اپنے پاکیزہ مشن سے وابستہ کرنے کی کامیاب کوشش کی ان کی  دوسری اور تیسری نسل تک کے  لوگ تحریک سے وابستہ ہیں ان کی بہو بیٹیاں اور پوتے ناتی نواسے بھی تحریک میں شامل ہیں اور سماج میں دعوت وخدمتِ خلق کا کام اپنی استطاعت بھر انجام دے رہے ہیں ،اور مرحوم کی آنکھوں کی ٹھنڈک اور سرمایہ آخرت بنے ہوئے ہیں ۔انکے سانحہ ارتحال سے تحریک اور ملت ایک مخلص وجاں نثارفیق سے محروم ہوگئی ۔اللہ ان پر اپنی رحمتوں کا نزول فرمائے۔ان کی مساعی جمیلہ کو شرف قبولیت عطا فرمائے ان کے درجات کو بلند فرمائے اہل وعیال کو صبر جمیل اور تحریک اسلامی کو ان کا متبادل عطا فرمائے ۔
جان کر من جملہ  خاصان مے خانہ تجھے
مدتوں رویا کریں گے جام وپیمانہ تجھے