دھولیہ جمعیۃعلماء (ارشد مدنی) نے مکان تعمیرکرواکر مکینوں کے حوالہ کیا

دھولیہ جمعیۃعلماء (ارشد مدنی) نے مکان تعمیرکرواکر مکینوں کے حوالہ کیا
دھولیہ /مہاراشٹر 4/جولائی
گزشتہ ماہ 12جون کو ہوئی تند و تیز طوفانی بارش میں جہاں بہت سارے نقصانات ہوئے تھے وہیں دھولیہ کے چالیس گاؤں روڈ پر واقع کنوسہ انگلش میڈیم اسکول کے سامنے پترے سے بنابیوہ خاتون کا مکان بھی بہت زیادہ متاثر ہوگیا تھا۔
واقعہ کی خبر ملتے ہی جمعیۃ علماء دھولیہ کا وفد متاثرہ مقام پر پہونچ کر متاثرہ مکان کا جائزہ لیا اور بیوہ زیب النساء عبد العزیز کو تعاون کا یقین دلایا۔
اس مکان میں کل تین افراد سکونت پذیر ہیں،زیب النساء اپنے دو بچوں کو لے کر زندگی بسر کر رہی ہے۔طوفانی بارش کی وجہ سے گھر پر لگے پترے اکھڑ گئے تھے،دیواریں مخدوش ہوگئی تھیں۔جس کی وجہ سے گھر میں پانی بھر آیا تھا۔اور مجبوراً مکینوں کو دوسرے کے گھر مسلسل تین رات قیام کرنا پڑا تھا۔
اس خاتون کے بھائی محمد کا کہنا ہے کہ اس سے قبل ۸۰۰۲ کے فساد کے موقع پر بھی میری بہن کے گھر کا زبردست نقصان ہوا تھا،تو اس وقت بھی جمعیۃعلماء دھولیہ کی جانب سے مکان کی مرمت کے لئے تعاون ملا تھا۔اب پھر ایسا حادثہ ہو گیا،کرونا وباء کی وجہ سے ملک میں نافذ لاک ڈاؤن سے ہر ایک شہری متاثر ہے۔ ایسے میں ایک بیوہ کا حالات سے دو چار ہونا بظاہر ہے۔
حسب سابق جمعیۃعلماء دھولیہ کے ذمہ داروں نے اس متاثرہ مکان کی تعمیر کی ذمہ داری لی اور اس کو تعمیر کرواکر مکینوں کے حوالہ کیا۔
اس موقع پربیوہ زیب النساء عبد العزیزنے جمعیۃعلماء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس مشکل گھڑی میں ہم جمعیۃعلماء دھولیہ سے بہت امید لگائے ہوئے تھے،آج الحمد للہ جمعیۃعلماء دھولیہ کے تعاون سے مکان بن کر مکمل ہوگیا ہے،اور رہائش کے لئے ہم کو مکان دے دیا گیا۔
اس موقع پر حافظ حفظ الرحمٰن صدر جمعیۃعلماء ضلع دھولیہ،مولانا ضیاء الرحمٰن قاسمی صدر جمعیۃ علماء شہر دھولیہ،مولانا شکیل احمد قاسمی،حاجی مشتاق صوفی،مفتی شفیق احمد قاسمی،حافظ ابو الکلام سراجی،محمدا عجاز رفیق،محمد عارف عرش،مسعود احمد انصاری،شبیر منصوری (کارپوریٹر)محمد بھائی کے علاوہ احباب موجود تھے۔
جمعیۃعلماء دھولیہ