عمران خان کا بڑا بیان : امریکہ کے ساتھ ہماری شراکت داری ایک “غلطی” ہے اور بن لادن شہید ہے — امریکی ایوان نمائندگان نے واشنگٹن کو نئی ریاست کا درجہ دینے کے لئے ووٹ .. اور ٹرمپ نے ویٹو کرنے کی دھمکی دی.—- ہندوستان اور چین کے درمیان الزمات کا سلسلہ جاری—- فلسطین و اسرائیل مسئلہ نازک موڑ پراقوام متحدہ کا انتباہ—- سعودی عرب پر حوثی باغیوں کا حملہ، کئی ملکوں کا اظہارِ مذمت ۔— امریکہ چین کشیدگی بین الاقوامی تناظر میں—–

آمناسامنامیڈیااردوعالمی خبریں :
26٫06٫2020

عمران خان کا بڑا بیان : امریکہ کے ساتھ ہماری شراکت داری ایک “غلطی” ہے اور بن لادن شہید ہے —

 

امریکی ایوان نمائندگان نے واشنگٹن کو نئی ریاست کا درجہ دینے کے لئے ووٹ .. اور ٹرمپ نے ویٹو کرنے کی دھمکی دی.—-

ہندوستان اور چین کے درمیان الزمات کا سلسلہ جاری—-

 

فلسطین و اسرائیل مسئلہ نازک موڑ پراقوام متحدہ کا انتباہ—-

سعودی عرب پر حوثی باغیوں کا حملہ، کئی ملکوں کا اظہارِ مذمت ۔—

 

امریکہ چین کشیدگی بین الاقوامی تناظر میں—–

نامہ نگار : محمد سمیع اللہ شیخ

خبریں تفصیل سے

 

عمران خان کا بڑا بیان : امریکہ کے ساتھ ہماری شراکت داری ایک “غلطی” ہے اور بن لادن شہید ہے

کل جمعرات کو  پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے ریاستہائے متحدہ امریکہ کے ساتھ اپنے ملک کی شراکت داری پر حملوں کی بات کرتے ہوئے کہا کہ القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن ایک “شہید” تھے۔ بجٹ کی منظوری کے لئے پارلیمنٹ میں تقریر کے دوران ، خان نے اپنے پیش رو کی خارجہ پالیسیوں پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کے ساتھ پاکستان کی شراکت داری “ایک غلطی” تھی ، انہوں نے مزید کہا کہ واشنگٹن نے “پاکستان کے خلاف گستاخانہ زبان استعمال کی” اور ہمسایہ افغانستان میں اپنی ناکامیوں کے لئے اسلام آباد کو مورد الزام ٹھہرایا۔ اس نے 2011 میں نیوی سیلز ٹیم پر رات کے وقت چھاپے مارنے سے قبل اسامہ بن لادن کے خلاف اپنی کاروائیوں کے بارے میں اسلام آباد کو بتانے سے انکار کردیا تھا

امریکی ایوان نمائندگان نے واشنگٹن کو نئی ریاست کا درجہ دینے کے لئے ووٹ .. اور ٹرمپ نے ویٹو کرنے کی دھمکی دی.

 

آج امریکی ایوان نمائندگان نے دارالحکومت واشنگٹن کی انتظامی حیثیت کو تبدیل کرنے اور اسے ایک آزاد ریاست کا درجہ دینے دینے کے حق میں ووٹ دیا ، تاکہ یہ ملک کی پچپنواں ریاست بن جائے ، لیکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس کے خلاف ویٹو پاور استعمال کرنے کی دھمکی دی ہے۔

واشنگٹن اس وقت کولمبیا کا ایک انتظامی صوبہ ہے اور اس کا کسی بھی ریاست سے تعلق نہیں ہے۔

 ایک پریس کانفرنس میں ، اسپیکر ہاؤس نینسی پیلوسی نے دنیا کے پہلے ملک کے دارالحکومت کی اس “پست حیثیت” کو “سنگین ناانصافی” قرار دیا۔  فاکس نیوز نے کل ان کے حوالے سے کہا: “کل (جمعہ) ، ہم اس جمہوریت سے متصادم اس ناانصافی کو درست کریں گے۔”

 یہ اقدام ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والے کانگریس کے ممبروں نے اٹھایا تھا ، اور انہوں نے اپنے اس اقدام کی بنیاد رکھی کہ واشنگٹن ، ڈی سی کے باشندے اپنے شہری فرائض پوری دیانت داری سے انجام دیتے ہیں ، لیکن ان کے پاس فیڈرل کانگریس میں اپنے نمائندوں کا انتخاب کرنے کا موقع نہیں ہے۔

ہندوستان اور چین کے درمیان الزمات کا سلسلہ جاری

سرحدی کشیدگی کم کرنے کے لیے ہندوستان اور چین کے درمیان فوجی و
سفارتی سطح پر رابطے کے باوجود سرحد پر کشیدگی بھی برقرار ہے اور دونوں
ملک ایک بار پھر ایک دوسرے کو سرحدی خلاف ورزی کا ذمہ دار قرار دے رہے ہیں۔
دونوں ممالک کے درمیان بدھ کو سفارتی سطح پر مذاکرات ہوئے جب کہ متنازع علاقوں سے
فوج کی واپسی اور کشیدگی کو کم کرنے کے سلسلے میں 6 اور 22 جون کو سینئر فوجی
افسران میں ہونے والے سمجھوتے پر عمل درآمد پر اتفاق کیا ہے۔
چار گھنٹے تک ہونے والی بات چیت کے بعد ہندوستان کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے ایک
بیان جاری کیا گیا جس میں کہا گیا کہ بھارت نے 15 جون کو گلوان وادی میں ہونے والی
پُرتشدد جھڑپ پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
مذاکرات میں اس بات پر زور دیا گیا کہ فریقین کو 'لائن آف ایکچوئل کنٹرول' (ایل اے سی) کا
پوری طرح احترام کرنا چاہیے۔ دونوں اس بات پر راضی ہوئے کہ جو سمجھوتہ ہوا ہے۔ اس کو
باہمی معاہدوں اور پروٹوکول کے مطابق تیزی سے نافذ کیے جانے سے سرحدی علاقوں میں
امن ہوگا جب کہ دونوں ممالک میں وسیع تر بہتر تعلقات میں مدد ملے گی۔
جس وقت نئی دہلی اور بیجنگ میں یہ مذاکرات جاری تھے تقریباً اسی وقت چین کی
وزارتِ خارجہ و دفاع کی جانب سے گلوان جھڑپ کے لیے بھارت کو مورد الزام ٹھیرایا گیا۔
چینی وزارتِ خارجہ نے بھارت پر باہمی سمجھوتوں اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی
اور جھڑپ کے لیے اشتعال دلانے کا الزام بھی عائد کیا۔
چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان لیجیان ژاؤ نے ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ جھڑپ کے لیے
چین پر کوئی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی۔ ہندوستانی فوجیوں نے پہلے ایل اے سی عبور کی۔
جب کہ ہندوستان سرحد کو یکطرفہ طور پر تبدیل کرنے کا الزام چین پر عائد کرتا ہے اور گلوان
پر اپنا دعویٰ پیش کرتا ہے۔ وزارت خارجہ کے مطابق گلوان وادی ہمیشہ ہندوستان کا حصہ
رہی ہے۔ اس پر کبھی کوئی تنازع نہیں رہا۔
ایک سینئر صحافی کے مطابق چین موجودہ عالمی حالات کے پیش نظر ہندوستان پر دباؤ
ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس نے نیپال کو اپنے اثر میں لے لیا ہے۔ بنگلہ دیش میں اس
کی سرمایہ کاری ہے۔ سری لنکا اور مالدیپ میں بھی وہ سرگرم ہے۔

ہندوستانی حزبِ اختلاف کی جانب سے حکومت پر یہ الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ وہ موجودہ
صورتِ حال سے نمٹنے میں ناکام ہے اور اس نے ہندوستانی علاقے کو چین کے حوالے کر
دیا ہے۔ اور ہندوستان کی خارجہ پالیسی بری طرح ناکام ہے اور حکومت حزبِ اختلاف کو
اعتماد میں نہیں لے رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیر خارجہ ایس جے شنکر چین میں ہندوستان کے سفیر بھی رہ چکے
ہیں۔ ان کو وزیر خارجہ بنائے جانے کے بعد یہ امید تھی کہ ہندوستان چین رشتے بہتر ہوں
گے۔ لیکن ایسا نہیں ہو رہا ہے اور حکومت ملک کو اندھیرے میں رکھے ہوئے ہے۔ پارلیمنٹ
چل نہیں رہی ہے اور وزیر اعظم میڈیا میں آ کر کوئی بات بتانے کو تیار نہیں ہیں۔
ہندوستان کے آرمی چیف نے بھی لداخ کا دو روزہ دورہ کیا ہے۔ نئی دہلی واپسی پر
ہندوستانی آرمی چیف نے سیاسی قیادت کو سرحد کی تازہ ترین صورتِ حال سے آگاہ کیا۔

فلسطین و اسرائیل مسئلہ نازک موڑ پر ۔
اقوام متحدہ کا انتباہ :

اسرائیل نے مغربی کنارے کے کچھ حصوں کے انضمام کا جو اعلان کیا ہے اس پر
یکم جولائی سے عملدرآمد ہونا ہے۔ جب کہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے
انتباہ کیا ہے کہ انضمام سے متعلق اسرائیل کا منصوبہ، اسرائیل فلسطین مسئلے
کے حوالے سے ایک نازک موڑ کی حیثیت اختیار کرلے گا۔
یو این او کے اجلاس میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے کہا کہ عمل درآمد کی صورت
میں انضمام کی کارروائی بین الاقوامی قانون کی نہایت سنگین خلاف ورزی ہوگی اور اس
سے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے امکانات کو نقصان پہنچے گا۔ انھوں نے اسرائیلی
حکومت سے کہا کہ وہ انضمام کی اپنے منصوبے کو ترک کردے۔
دوسری جانب فلسطین پہلے ہی اسرائیلی وزیر اعظم کے اس فیصلے کو تنقید کا نشانہ
بناتے ہوئے رد کر چکی ہے۔ بنیامین نیتن یاہو کہتے ہیں کہ منصوبے کے تحت 130 سے زیادہ
یہودی بستیوں پر اسرائیل کا اقتدار اعلیٰ نافذ کردیا جائے گا۔
بیشتر یہودی آبادکار اس کی حمایت کرتے ہیں۔ لیکن، بہت سے یہودیوں کی منطق ہے کہ
اس کے نتیجے میں اس حصے میں ایک فلسطینی ریاست کا قیام عمل میں آسکتا ہے
جسے ضم نہیں کیا جائے گا۔
وائس آف امریکہ کے مطابق اسرائیل کا یہ اقدام ٹرمپ کے اس منصوبے کا حصہ ہے جس
میں اسرائیل کو اس بات کی اجازت دی گئی ہے کہ مغربی کنارے کے تیس فیصد تک کے
حصے کا انضمام عمل لایا جاسکتا ہے۔ تاہم، ابھی تک کوئی ایسا نقشہ سامنے نہیں آیا کہ
خاص طور پر کن علاقوں کو شامل کیا جائے گا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق، اس منظرنامے میں بہرحال یہ اندیشہ ہے کہ اگر انضمام کے
منصوبے پر عمل ہوگیا تو اس سے تشدد پھوٹ پڑسکتا ہے اور یقینی طور پر عدم استحکام
کی ایسی کیفیت پیدا ہوسکتی ہے، جو ایک بڑی تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہو گی۔

سعودی عرب پر حوثی باغیوں کا حملہ، کئی
ملکوں کا اظہارِ مذمت

یمن میں سرگرم ایران نواز حوثی باغیوں نے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض
سمیت تین شہروں پر میزائل داغے ہیں۔ جس کی مختلف ملکوں نے مذمت کی ہے۔
سعودی فوجی اتحاد نے حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ حوثی باغیوں نے
دارالحکومت ریاض اور دو جنوبی شہروں پر میزائل داغے ہیں تاہم فوجی اتحاد نے یہ نہیں بتایا
کہ ان حملوں کا ہدف کیا تھا۔
حوثی فوج کے ترجمان یحیٰ ساری نے منگل کو ٹی وی پر اپنے خطاب میں کہا کہ انہوں نے
متعدد میزائلوں اور ڈرون سے کنگ سلمان ایئر بیس اور وزارتِ دفاع کی عمارت کو نشانہ
بنایا۔
ترجمان نے دعویٰ کیا کہ سعودی عرب کے جنوبی شہروں نجران اور جیزان میں بھی فوجی
تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
پاکستان سمیت کءی ممالک نے ان حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب
کی سلامتی کو لاحق خطرات کے خلاف اپنی مکمل حمایت اور یکجہتی کا اعادہ کرتے
ہیں۔

امریکہ چین کشیدگی بین الاقوامی تناظر میں:

گزشتہ کچھ عرصے سے امریکہ اور چین کے درمیان کشیدگی میں اضافہ دیکھنے
میں آرہا ہے اور دونوں ملکوں کے درمیان سخت الفاظ کا تبادلہ اس کا مظہر ہے۔
امریکہ کرونا وائرس کے حوالے سے چین کو یہ کہتے ہوئے تنقید کا نشانہ بناتا رہا ہے کہ اس
نے اس وائرس کے پھیلاؤ سے نمٹنے میں کوتاہی سے کام لیا اور مبینہ طور پر صحیح اور
بروقت معلومات مہیا نہیں کیں۔

چین پر امریکہ کی نکتہ چینی صرف اسی مسئلے تک محدود نہیں بلکہ صدر ٹرمپ نے ایک
حالیہ ریلی میں ہانگ کانگ میں چین کی کارروائیوں کو بھی نکتہ چینی کا نشانہ بناتے ہوئے
کہا کہ یہ ان تازہ ترین اقدامات کا حصہ ہے، جن سے ہانگ کانگ کی دیرینہ اور قابل افتخار
حیثیت مجروح ہورہی ہے۔
وائس آف امریکہ کے مطابق پومپپیو نے کوپن ہیگن میں ایک اجلاس میں چین کے عزائم پر
تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ اس نے ایک ایسی سائبر مہم چلا رکھی ہے جس کا مقصد
امریکہ اور یورپ کے درمیان تعلقات بگاڑنا ہے۔
دوسری جانب، چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے پومپیو پر الزام لگایا کہ وہ چین اور
دوسرے ملکوں کے درمیان اختلافات پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ ترجمان ژولی جیان
نے کہا کہ پومپیو نے ایک مرتبہ پھر چین کے خلاف، بقول ان کے، بے بنیاد الزامات لگائے ہیں۔
اور کہا کہ اس کا کوئی فائدہ نہیں، بلکہ اس سے سرد جنگ کی ذہنیت اور نظریاتی تعصبات
مزید آشکار ہوتے ہیں۔
ادھر تجزیہ کاروں کے مطابق، جنوبی بحیرہ چین سے لے کر ہندوستان کی سرحد تک چین
اپنی فوجی قوت کا مظاہرہ کرکے اپنی موجودگی کا احساس دلانا چاہتا ہےجو واشنگٹن کے
لئے ایک بڑا چیلنج ہے۔
مبصرین کا خیال ہے کہ یہ صورتحال بدلتے ہوئے بین الاقوامی تناظر میں، جب طاقت کے
محور بدلتے نظر آتے ہیں، اپنے اپنے مفادات کے تحفظ اور انھیں آگے بڑھانے کی کوششوں
کی عکاس ہے۔