امیش دیوگن کی “معافی” قابل قبول نہیں 

ہندوستانی مسلمانوں کی کم نصیبی کہیے یاان کی نااہلی یابلفظ دیگر پسماندگی وزوال کی دردناک نتیجہ خیزی کہ ایک درد کم نہیں ہوپاتاکہ دوسراشروع ہوجاتاہے۔مسلمانوں کادردبھی پریشان ہے کہ بے چارہ کہا ں کہاں سے اٹھے،سارابدن توچھلنی ہے ۔

امیش دیوگن کی “معافی” قابل قبول نہیں

خامہ بکف:صادق رضامصباحی

ہندوستانی مسلمانوں کی کم نصیبی کہیے یاان کی نااہلی یابلفظ دیگر پسماندگی وزوال کی دردناک نتیجہ خیزی کہ ایک درد کم نہیں ہوپاتاکہ دوسراشروع ہوجاتاہے۔مسلمانوں کادردبھی پریشان ہے کہ بے چارہ کہا ں کہاں سے اٹھے،سارابدن توچھلنی ہے ۔

۱۵؍ جون کو نیوز  ۱۸کے اینکرامیش دیوگن نےہندوستان کے راجہ ہم سب کے خواجہ حضرت سیدناخواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ کی شان میں گستاخی کرکےجس طرح مسلمانوں میں اضطرابی بلکہ اشتعالی کیفیت پیداکی ہے،وہ نہ صرف مسلمانوں کے لیے باعثِ تکلیف ہے بلکہ گنگاجمنی تہذیب رکھنے والے اس ملک کے لیے بھی شرمناک ہے۔اس کے خلاف پورے ملک میں جگہ جگہ سے اب تک تقریباًپانچ سو ایف آردرج کرائی جاچکی ہیں اورمزیدکرائی جارہی ہیں۔امیش دیوگن کی گرفتاری کے مطالبات ذریعےاس کےگردگھیراتنگ کرنے کی کوششیں تیزہو رہی ہیں۔مگرسوال یہ ہےکہ اس نے یہ شرمناک اورتوہین آمیزحرکت کیوںکی اورکیااسے اس کے کیے کی سزامل سکے گی ؟آئیے اس سوال کاجواب تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

مسلمانوں کی طرف سے جب احتجاجی مطالبات بڑھتے چلے گئے تودیوگن نے ’’گھبراکر‘‘اپنے ٹیوٹراکائونٹ سے ٹوئیٹ کرتے ہوئےکہاکہ وہ علائوالدین خلجی کہنے والاتھا مگرمعین الدین چشتی نکل گیا۔ واہ واہ،امیش دیوگن واہ!کیاکہنے تمہاری ’’دانش‘‘کے۔یہ توبالکل ایسے ہے جیسے کسی سیاسی لیڈرکےکسی متنازع بیان پرمخالفت کی آوازیں بلندہوتی ہیں تووہ ایک دوسرابیان جاری کرکے کہتاہے کہ میری زبان پھسل گئی تھی اس لیے ایسانکل گیاتھا۔امیش دیوگن!کیاتمہاری بھی زبان پھسل گئی تھی؟سیاسی لیڈرزبان پھسلنے کابہانہ کرےتوسمجھ آتاہےکہ اسے اپنے ووٹروں اورحلقہ اثرکورِجھاناہے ۔تمہیں آخرکس کو رِجھانا ہےکہ تمہاری زبان ’’پھسل ‘‘ گئی۔جی ہمیں سب سمجھ آتاہے کہ تمہاری زبان کیوں’’پھسلی‘‘۔یوں توتم سیاسی لیڈرنہیں ہو مگرتمہارے اس بیان کاسیاست سے بہت گہرا تعلق ہے کیوںکہ یہ بیان تمہارابیان نہیں ہے بلکہ اس کے پیچھے وہ لوگ ہیں جن کے ہاتھ میں تمہاری گردن کاپٹہ ہے۔امیش دیوگن !اس میں بڑی گہری منصوبہ بندی شامل ہےاورتم تومحض اس کے آلہ کارہو۔

 امیش نے اپنے ’’وضاحتی بیان ‘‘میں یہ بھی کہاکہ میں خودخواجہ کے دربارمیں کئی مرتبہ جاچکاہوں اس لیےان کے خلاف توہین آمیزکلمات کیسے اداکرسکتاہوں۔امیش دیوگن ! کیاتم نے مسلمانوں کو بیوقوف سمجھ رکھاہے؟اپنے سابقہ بیان پرلیپاپوتی کرکے تم یہ تاثردینے کی کوشش کررہے ہوکہ یہ تمہاری معافی ہے۔تم یہ سمجھ رہے ہوکہ مسلمان تمہاری اس دھوکہ بازی پریقین کربیٹھیں گے؟ارے یار!دن دہاڑے آنکھوںمیں دھول کیوں جھونک رہے ہو؟ امیش دیوگن نے اپنے ’’وضاحتی بیان‘‘میں ہندی کالفظ’’کھید‘‘استعمال کیاہے جس کامعنی افسوس کاہوتاہے۔اس کامطلب یہ ہواکہ اسے اپنے بیان پراب بھی کوئی ندامت نہیں بلکہ وہ بڑی ڈھٹائی کے ساتھ ’کھید‘ظاہرکررہاہے ۔اس کی مثال ایسے ہی ہے جیسے کہ موجودہ وزیراعظم نریندرمودی سے جب ۲۰۰۲کے گجرات فسادات میں شہیدہونے والے مسلمانوں کے متعلق پوچھا گیاتومودی نے جواب دیاکہ ہاں ہمیں اس حادثے کا اتناہی افسوس ہے جتناکہ میری گاڑی کے نیچے دب جانے والے کتے کے مرنے سے ہوتاہے ۔مودی کے اس بیان سے جس طرح اس وقت مسلمانوں کوتکلیف پہنچی تھی اسی طرح آج امیش دیوگن کے ’’وضاحتی بیان‘‘سے پہنچی ہے ۔ امیش کاکہناہے کہ وہ خودبھی خواجہ کے دربارسے عقیدت رکھتاہے اوروہاں کئی مرتبہ جابھی چکاہے ۔اس بیان کامعنی یہ ہے کہ امیش خواجہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کوجانتاہےاوران کی اہمیت سے باخبربھی ہے اسی لیے اس نے وہاں جاکرجبیں سائی کی ہوگی ۔ظاہرہے جوانسان کسی کے بارے میں جانتاہوتووہ اس کے خلاف ہرزہ سرائی نہیں کرسکتااوراگراس نے ہرزہ سرائی کی تواس کامطلب ہے کہ وہ بالارادہ اس انسان کونقصان پہنچاناچاہتاہے ۔ایسے آدمی کی معذرت بھی قبول نہیں کی جاسکتی کیوں کہ معذرت اورمعافی ،غلطی اوربھول چوک پرہوتی ہے ،قصداًکی جانے والی حرکتوں پرکوئی معافی نہیں ہوتی ۔ اس لیے امیش کایہ ’’وضاحتی بیان‘‘ ناقابل معافی اس لیے ہے کہ اس نے ڈبل جرم کیاہے کہ انہیں جانتے بوجھتے ہوئے لٹیراکہہ دیا۔ اس نے قصداًایسی حرکت کی ہے اوربہت سوچ سمجھ کرمسلمانوں کوذہنی اذیت میں مبتلاکیاہے۔

امیش نے ایساکرکے نہ صرف یہ کہ مسلمانوں کوتکلیف پہنچائی ہے بلکہ عقیدت مندہندئوں کوبھی سخت تکلیف دی  ہے ۔خواجہ کے دربارسے مسلمانوں سے زیادہ ہندوعقیدت رکھتے ہیں ۔وہ وہاں چادر چڑھاتے ہیںاورمنتیںمانتے ہیں بلکہ اس ملک میں جوبھی وزارت عظمی کے عظیم منصب پرفائزہوتاہے اس کی طر ف سے بھی ہرسال خواجہ صاحب کے مزارشریف کے لیے دہلی سے چادرجاتی ہے ۔چنانچہ ایساکرکے امیش نے وزارت عظمی جیسے منصب کی بھی توہین کی ہے ۔گویاوہ ایک ساتھ کئی جرائم کامرتکب ہے۔اس نے مسلمانوں کوذہنی اذیت میں مبتلاکیا،ہندئوں کی عقیدت کوٹھیس پہنچائی،ہندوستان کی ثقافتی روایت کومجروح کیااوراس کے ساتھ ساتھ وزارت عظمی کے منصب کی روایت کی بھی توہین کرڈالی،اوراس کے علاوہ اپنے ’’وضاحتی بیان ‘‘سےمسلمانوںکودھوکہ دینے کی بھی کوشش کی۔ان سب جرائم کی اسے سزاضرورملنی چاہیے اور ہندوئوں کوبھی اس کے خلاف ایف آئی آرکروانی چاہیے ۔ہماری ذمے دار ی ہے کہ ہم امن پسندبرادران وطن کوسمجھائیں کہ امیش دیوگن کی جرم کے سنگینی اورہولناکی کس قدربڑی اورگہری ہے ۔ اصولی طورپرہوناتویہ چاہیے کہ خودفتروزیراعظم کی طرف سے مذمتی بیان جاری کیا جاتا اور دیوگن کے خلاف کارروائی کااعلان ہوتامگرایساکچھ نہیں ہو۔اس کامطلب ہے کہ حکومت بھی یہی چاہتی ہے کہ اس طرح کے بیانات دیے جاتے رہیں تاکہ عوام اسی کی ڈورسلجھانے میں لگ جائیں اوراصل مسائل پرمتوجہ نہ ہوسکیں ۔واقعہ یہ ہےکہ حکومت ہندکووِڈ۱۹سے لڑنے میں بہت بری طرح ناکام ثابت ہوئی ہے ۔ آج بھی اس کے کیس بڑھتے ہی چلے جارہے ہیں مگرحکومت اس پرقابونہیں پاسکی ۔دوسری طرف چین نے دنیابھرمیں ہندوستان کی شبیہ مجروح کردی ہے ۔چین ہندوستان میں ساڑھے چارکلومیٹرتک اندرگھس آیاہےاورمودی حکومت بھیگی بلی بنی بیٹھی ہوئی ہے اورتیسری طرف بہارکااسمبلی الیکشن سرپرہے اور بی جے پی اسے کسی بھی حال میں جیتناچاہتی ہے ۔ ایسے ماحول میں امیش دیوگن سے یہ متنازع اورشرمناک بیان دلوایاگیاتاکہ کووِڈ۱۹کی ناکامی اورچین کی دراندازی کے متعلق شہری حکومت سے سوال نہ کرسکیں اوران کی ذہنی وفکری قوتوںکادھارااس طرح کےمتنازع بیان کی طرف مڑجائے۔اس کے علاوہ اس بیان کامقصدفرقہ واریت کوفروغ بھی دیناہے کیوں کہ بی جے پی ہرالیکشن میں فرقہ پرستی کارڈکھیلتی ہے تاکہ عقل سے پیدل ہندئوں کاووٹ یک طرفہ ڈلواکراقتدارکی کرسی پرقبضہ کر لیاجائے ۔بی جے پی کے ہرچھوٹے بڑے الیکشن میں آپ یہی دیکھیں گے ۔امیش دیوگن کے بیان کوان تینوں پس منظروں میں دیکھیے توسمجھ آئے گاکہ یہ زبان کی پھسلن یاغلطی کامعاملہ نہیں ہے بلکہ سوچی سمجھی سازش ہے اوربی جے پی کی مکروہ سیاست کاحصہ ۔جب تک عوام بیدارنہیں ہوں گے تب تک ایسے ہی حکمراں اس طرح کی نفرت پرمبنی سیاست سے ملک کوبیوقوف بناتے رہیں گے۔ میراذاتی نقطہ نظریہ ہے کہ ایسے ہی مواقع ہوتے ہیں کہ جب امن پسندبرادرانِ وطن کوساتھ لے کرظالموں اورظالموں کاساتھ دینے والوں کوکیفرکردارتک پہنچانے کی کوشش کی جانی چاہیے ۔ حضرت خواجہ غریب نوازرحمۃ اللہ کوبلاتفریق مذہب ہرآدمی مانتاہے اس لیے مسلمان امیش دیوگن کے خلاف ایف آرآئی کروانے کے لیے برادرانِ وطن کوبھی تیارکریں اورذہنی طورپرسب کوتیارکریں کہ امیش دیوگن کوکیفرکردارتک پہنچا کر ہی دم لیں گے تاکہ اس طرح کے گستاخ لوگوں کے حوصلے پست ہوں اورکوئی بھی ملعون مستقبل میں اس طرح کی حرکت سے ہمارے ملک کے امن وامان کوغارت کرنے کی کوشش نہ کرسکے۔

اخیرمیں ایک سوال آپ سب خودسے بھی پوچھیے کہ کیااس طرح کےمسائل سے ہم مسلمانوں کی جان چھوٹ جائے گی ؟جب تک ہم اپنے اندرویژن نہیں پیداکرلیتے اورقومی اتحادکامضبوط پلیٹ فارم نہیں بناتے تب تک ہمارے اوپرذہنی اذیتوں کے پہاڑتوڑے جاتے رہیں گے ۔یقین کریں اگرہم ایسانہ کرسکیں تومستقبل میں اس سے بھی زیادہ بھیانک صورت حال ہمیں نگلنے کے لیے تیارکھڑی ہے ۔ امیش کے خلاف جتنی بھی ایف آئی آرکرائی جائیں اتناہی بہترہے مگریہ اس مسئلے کاحتمی حل نہیں ہے ،اگرحکومت سنجیدہ ہوگئی تویہ بھی صرف عبوری حل ہوگاکیوںکہ اتنی ساری ایف آئی آراورہنگاموںواحتجاجات کے باوجودامیش دیوگن بالکل مطمئن بیٹھاہےکیوں کہ اسے پتہ ہے کہ مسلمان کتناہی کچھ کرلیں اس پرکوئی کارروائی حکومت نہیں کرے گی اوراگربالفرض عوامی دبائومیں آکرحکومت نے کوئی اقدام کیابھی تووہ بھی محض دکھاواہوگااورعوام کوخاموش کرنے کی کوشش۔امیش دیوگن جیسے صحافی اچھی طرح جانتے ہیں کہ مسلمان صرف احتجاجی ٹولے اوربھیڑکی حیثیت رکھتے ہیں۔یہ عملی طورپرمیراکچھ نہیں بگاڑسکتے۔واقعہ یہی ہے کہ مسلمان اس وقت کچھ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے ،حالات ایسے پیداکردیے گئے ہیں کہ مسلمان آوازبلندکرتے کرتے خاموش ہوجائیں اوریوں معاملہ ٹھنڈے بستے میں رکھ دیاجائے ۔اس طرح کے مسائل کامقابلہ کرنے اوراس نوعیت کے شرمناک باب کوبندکرنے کے لیے عوام کوبیدارہوناپڑے گا،انہیں اپنے قائدین کو سوچ سمجھ کرمنتخب کرناہوگا،چاہے وہ سیاسی قائدین ہوں یا مذہبی۔اورکوردیدہ قائدین سے جتنی جلدی ہوسکے چھٹکارہ حاصل کرناہوگا۔اللہ پاک ہماراحامی ناصرہو۔