چین اور بھارت میں تصادم: دونوں جوہری طاقتوں کے مابین خطرناک فوجی تصادم کے پیچھے کیا ہے؟چین نےلداخ ریاست کےمتنازعہ سرحد گالوان خطے میں دونوں فریقوں کی افواج کے مابین پیر کو پیش آنے والے خونی تصادم کے بارے میں اپنے پہلے سرکاری بيان میں ہندوستان پر “جان بوجھ کر اشتعال انگیزی” کا الزام لگایا۔ہندوستانی وزیر: چین تصادم کے نتیجے میں کم از کم 40 فوجیوں کو کھو دیا 

چین نےلداخ ریاست کےمتنازعہ سرحد گالوان خطے میں دونوں فریقوں کی افواج کے مابین پیر کو پیش آنے والے خونی تصادم کے بارے میں اپنے پہلے سرکاری بيان میں ہندوستان پر "جان بوجھ کر اشتعال انگیزی" کا الزام لگایا۔

آمنا سامنا میڈیا اردو : عالمی خبریں
نامہ نگار و مترجم : الشیخ محمدسمیع اللہ
چین اور بھارت میں تصادم: دونوں جوہری طاقتوں کے مابین خطرناک فوجی تصادم کے پیچھے کیا ہے؟
ہندوستان اور چین ، دنیا کے دو سب سے زیادہ آبادی والے سب سے بڑی فوجی قوت ممالک ہیں ، اور دونوں ہی جوہری ہتھیاروں کے مالک ہیں، دونوں ممالک کے مابین گالوان کی سرحد میں ہفتوں سے تنازعہ چل رہا ہے۔
 تاہم یہ بحران منگل کے روز مزید گہرا ہوگیا ، کیوں کہ ہندوستانی فوج کا کہنا ہے کہ اس کے تین فوجی ، جن میں ایک کرنل بھی شامل ہے ، چینی افواج کے ہاتھوں ماردیئے گئے.
 ہندوستانی میڈیا نے منگل کے روز آخری وقت میں اطلاع دی ہے کہ چینیوں سے جنگ کرتے ہوئے ہندوستانی فوج کے 20 اہلکار ہلاک ہو گئے. جبکہ چینی فوج کے 43 اہلکار مارے گئے ہیں۔
 چین نے ابھی تک ہلاک اور زخمی ہونے والوں کی تعداد کی تصدیق نہیں کی ہے۔
 اس تنازعے میں وہ پہلی ہلاکتیں ہیں جو چار دہائیوں سے زیادہ عرصہ تک اس سرحدی خطے میں دو ایشیائی طاقتوں کو الگ کرنے کے سلسلے میں چل رہی ہیں۔
—————————————————————————————
چین نےلداخ ریاست کےمتنازعہ سرحد گالوان خطے میں دونوں فریقوں کی افواج کے مابین پیر کو پیش آنے والے خونی تصادم کے بارے میں اپنے پہلے سرکاری بيان میں ہندوستان پر “جان بوجھ کر اشتعال انگیزی” کا الزام لگایا۔
 چینی وزارت خارجہ کے ترجمان لیجیم ژاؤ نے کہا کہ بھارتی فورسز نے سرحد عبور کرکے چینی حدود میں داخل ہوکر حملہ کیا ، جس کے نتیجے میں “پرتشدد خونى تصادم” ہوا۔
لیکن انہوں نے چینی فوجیوں کے مرنے یا زخمی ہونے سے متعلق کوئی تفصیلات نہیں بتائیں۔
 بتایا گیا ہے کہ دونوں اطراف کے فوجیوں نے بغیر کسی گولی چلائے لاٹھیوں اور ڈنڈوں سے جھڑپ شروع کردی اور ہر فریق نے دوسرے فریق پر لڑائی شروع کرنے کا الزام لگایا ۔
 جمعہ کے روز ، ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی نے اس بات کی تردید کی کہ ہندوستانی سرحد کو کسی بھی غیر ملکی طاقت نے قبضہ کیا ہے، اور نہ ہی کوئی ہماری سرحد میں داخل ہوا اور نہ ہی ہماری زمین کا نقصان ہوا ہے۔
—————————————————————————————
ہندوستانی وزیر: چین تصادم کے نتیجے میں کم از کم 40 فوجیوں کو کھو دیا
 ہندوستانی فوج کا ایک قافلہ اس شاہراہ کی طرف آگے بڑھ رہا ہے جو جگنجیر میں لداخ کی طرف جاتا ہے.
ہندوستانی وزیر نے کہا کہ چین نے متنازعہ سرحد پر گذشتہ ہفتے اپنے ملک کے ساتھ جھڑپ میں کم از کم 40 فوجیوں کو کھو دیا تھا۔
 بھارت اور چین سرحدی خلاف ورزیوں پر الزامات کا سلسلہ جاری ہے.
ہندوستان کے وزیر ٹرانسپورٹ ، وی کے سنگھ نے آج ، اتوار کو ، “نیوز 24” چینل کے ذریعہ نشر کیے گئے ایک انٹرویو میں کہا: “اگر 20 ہماری طرف سے مارے گئے تو ، ان کے نقصانات ہم سے دو گنا زیادہ ہیں۔  “
 سابق آرمی چیف سنگھ نے اپنے بیانات کی حمایت کرنے کے لئے کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا۔  انہوں نے کہا کہ چین نے اپنی جنگوں میں کسی نقصان کو مستقل طور پر برداشت نہیں کیا ، بشمول 1962 میں بھارت کے ساتھ اپنے تنازعہ کے ۔
 انہوں نے مزید کہا کہ چینی فوجیوں نے ہندوستانی فوج کے ساتھ پرتشدد محاذ آرائی کے بعد ہندوستانی علاقے میں اپنا راستہ کھو چکے ہیں۔
 اس سے قبل ، سرکاری چینی “گلوبل ٹائمز” نے کہا تھا کہ چینی کی طرف بھی نقصانات ہوئے ہیں ، لیکن اس سے کوئی تفصیل نہیں دی گئی۔
 مغربی ہمالیہ کی متنازعہ وادی  گالوان میں لڑائی کے نتیجے میں ہونے والے نقصان کی اطلاع چین نے نہیں دی ہے ، جس میں 20 ہندوستانی فوجی ہلاک اور کم از کم 76 زخمی ہوئے ہیں۔
   بھارت اور چین کے مابین کل سنیچر کے روز اصل مشترکہ سرحدوں کی خلاف ورزی کرنے کے بارے میں الزامات کا سلسلہ جاری ہے ، یہ علاقہ گذشتہ ہفتہ سے نصف صدی میں دونوں ملکوں کے درمیان میدان کار زار کا منظر پیش کررہا ہے ۔