*سلسلہ16* *اللہ تعالیٰ کے جمالی نام*

*سلسلہ16*

*اللہ تعالیٰ کے جمالی نام*

ڈاکٹر محمد منظور عالم

اللہ تعالیٰ کی توحید کا ایک حصہ اُس کی شفقت و نرمی اور پیار محبت بھی ہے. قرآن کریم اور احادیث نبویہ میں اللہ تعالیٰ کے ایسے بہت سے نام بیان کیے گئے ہیں، جن سے اُس پاک پروردگار کی شفقت و نرمی کا علم ہوتا ہے. یہ پتا چلتا ہے کہ کائنات کا پالنے والا اپنی مخلوقات سے کتنی محبت کرتا ہے. اُن پر کتنی شفقت فرماتا ہے. اُن پر کس طرح رحم و کرم کی نظر فرماتا ہے. یہ تمام باتیں جن اسماءِ حسنی سے معلوم ہوتی ہیں، وہ اللہ تعالیٰ کے جمالی اسماء کہلاتے ہیں.

نمونے کے طور پر صرف تین جمالی اسماء کو لیتے ہیں. اللہ تعالیٰ کا ایک مبارک نام ہے “الودود” (محبت کرنے والا). اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے بے پناہ محبت فرماتا ہے. ایک روایت کے مطابق ستر ماؤں سے زیادہ محبت فرماتا ہے. اسی محبت کے نتیجے میں وہ ہماری تمام چھوٹی بڑی ضرورتیں بغیر کہے پوری کرتا ہے اور ہم پر اپنی نعمتوں کی بارش فرماتا ہے. جب ایک بندہ اپنے رب کی محبت سے فائدہ اٹھاتے اٹھاتے کسی مصیبت میں پھنس جاتا ہے یا کوئی نافرمانی کر بیٹھتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی صفتِ رحم سامنے آتی ہے اور وہ “رحمان” و “رحیم” کے طور پر پیش آتا ہے. ہمیں ہر طرح کی پریشانیوں سے بچاتا ہے اور نافرمانیوں کے باوجود رحم و کرم فرماتا رہتا ہے. پھر ایک انسان جب اس دنیا سے چلا جاتا ہے تو قبر میں اور آخرت میں سب سے زیادہ اس بات کی ضرورت پڑتی ہے کہ اس کے گناہ معاف کر دیے جائیں تاکہ برزخ اور آخرت کی زندگی بھی سکون سے گزرے. ایسے میں اللہ تعالیٰ “غفار” کے طور پیش آتا ہے اور اپنے بندے کے گناہ معاف فرما کر اسے ابدی سکون عطا فرما دیتا ہے.

اللہ تعالیٰ کے یہ تین جمالی اسماء بتاتے ہیں کہ ایک انسان کی پوری زندگی اللہ تعالیٰ کے رحم و کرم اور لطف و عنایت پر ٹکی ہوئی ہے. اسے ہر وقت اور زندگی کے ہر مرحلے میں اللہ تعالیٰ کی شفقت و نرمی کی ضرورت ہے. خاص طور پر ایک داعی کو قدم قدم پر اس شفقت و عنایت کی ضرورت پڑتی ہے. اللہ تعالیٰ کے یہ جمالی اسماء اُسے ہمیشہ مطمئن اور پرسکون رہنے کے لیے تیار کرتے ہیں. ساتھ ہی وہ بھی دوسرے انسانوں اور تمام مخلوقات سے اُسی طرح پیار محبت کرنے لگتا ہے، جس طرح اُس کا رب اُس سے محبت کرتا ہے. یہ محبت اس کی دعوت میں اعلیٰ درجے کا اخلاص پیدا کرکے اس کو کام یابی سے ہم کنار کر دیتی ہے.

*ڈاکٹر محمد منظور عالم*
(چیئرمین انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیز، نئی دہلی)