ایماں کی حرارت والوں سے۔۔۔ ایم ودود ساجد

ایماں کی حرارت والوں سے۔۔۔

ایم ودود ساجد

 

یہ وقت بڑی ابتلاء و آزمائش کا ہے۔۔ یہ وقت صبر و ضبط کا متقاضی ہے۔۔ اور صبر و ضبط’  اعتدال کے بغیر بے معنی ہے۔۔

 

اسلام کو ہر وقت اور ہر زمانے میں اعتدال مطلوب ہے۔۔۔ لیکن ایک اعتدال ایسا بھی ہے جو محض ہنگامی حالات میں شدید طور پر مطلوب ہوتا ہے۔۔۔ آج اسی اعتدال کی ضرورت ہے ۔۔۔

 

یہ وقت ہنگامی حالات سے بھی بڑھ کر ہے۔۔۔ وہ اہلِ ایمان جنہوں نے رمضان کے مقدس مہینے میں خود پر ضبط کرکے اپنے آپ کو مساجد میں جانے سے روکے رکھا اس وقت فطری طور پر مساجد میں جاکر اجتماعی طور پر نمازیں ادا کرنے کو بے چین ہیں۔۔۔ ان کی بے چینی قابل قدر ہے۔۔۔ قابلِ فہم ہے۔۔۔

 

لیکن ابھی وہ خطرہ ٹلا نہیں ہے جس کی وجہ سے مسلمانوں نے اسلام کو مطلوب اتنا اہم کردار چھوڑا۔۔۔ سچی بات یہ ہے کہ وہ خطرہ اب پہلے سے زیادہ بڑھ گیا ہے۔۔ اس کی ہیبت ناکی کسی کوہ پیما آلہ سے بھی ناپی نہیں جاسکتی۔۔ اسی خطرہ کا احساس کرکے بجا طور پر حرمین شریفین میں توحید کے پروانوں کا داخلہ محدود تر کیا گیا تھا۔۔۔ اور اب اسی خطرہ کے سبب 2020 کا حج بھی انتہائی محدود کئے جانے کا قوی امکان ہے۔۔۔

 

تمام مسالک کے علماء ومفتیان کرام نے صورتحال کی سنگینی کے پیش نظر عین اسلامی اور شرعی بصیرت سے کام لیتے ہوئے مساجد کی بجائے گھروں پر نماز کی ادائیگی کی رخصت دی تھی۔۔۔ اب جبکہ حالات مزید ابتری کی طرف رواں دواں ہیں اس رخصت پر عمل کرنا اور بھی ضروری ہوگیا ہے۔۔۔ بیشتر علماء ومفتیان کا اس پر اتفاق بھی نظر آتا ہے۔۔

 

صورتحال کی سنگینی کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ دہلی میں ہفتوں اور دنوں کے حساب سے نہیں بلکہ گھنٹوں کے حساب سے متاثرین کی تعداد بڑھ رہی ہے ۔۔۔ آج 10 جون تک وہاں مریضوں کی تعداد40 ہزار کے قریب ہے۔۔۔ جبکہ 31 جولائی تک  ساڑھے پانچ لاکھ سے متجاوز ہوجانے کا اندیشہ ہے۔۔۔ یہ صورتحال دہلی کے علاوہ دوسرے مقامات پر بھی ہوسکتی ہے۔۔۔

 

کیا آپ کو یاد نہیں کہ تبلیغی جماعت کے محض ایک اجتماع کو 30 فیصد کے اضافہ کا ذمہ دار قرار دے کر پورے ملک کے مسلمانوں کو شرپسندوں کے نشانہ پر رکھ دیا گیا تھا۔۔۔ ؟ اب صورتحال میں بہتری آئے بغیر مساجد کو کھولنے کا اعلان کسی بڑی مسلم مخالف سیاسی سازش کا حصہ معلوم ہوتا ہے۔۔۔ میں نے بارہا سوال اٹھایا کہ 70 فیصد کا ذمہ دار کون ہے؟  لیکن شور صرف 30 فیصد کا مچایا گیا۔۔۔

 

میرا یقین ہے کہ اگر مسلمانوں نے اعتدال اور حکمت سے کام نہ لیا تو حکومت اس 70 فیصد کا ذمہ دار بھی مسلمانوں کو ہی قرار دے ڈالے گی۔۔۔۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ 100 فیصد واقعات کی ذمہ دار خود حکومت ہے۔۔۔۔

 

اور ہاں۔۔۔۔ کیا آپ کو معلوم ہے کہ آپ کے نوجوانوں نے اِس رمضان میں تراویح کے اوقات میں کیا کارنامہ انجام دیا۔۔۔۔؟ انہوں نے گلیوں اور کوچوں میں بیٹھ کر “جوشِ ایمانی” میں مزید “ایمانی حرارت” بڑھانے والا سیریل —– ارطغرل —— دیکھا۔۔۔۔ سب نے نہ سہی بیشتر نے تو یہی کیا۔۔۔ یقین نہ آئے تو اپنے ارد گرد کے احباب سے معلوم ضرور کیجئے گا۔۔۔