مسلمانوں کو چار بڑے خطرات کا سامنا . بقلم : محمد سمیع اللہ شیخ پیس ایجوکیشن سینٹر، ممبئی

مسلمانوں کو چار بڑے خطرات کا سامنا .
بقلم : محمد سمیع اللہ شیخ
پیس ایجوکیشن سینٹر، ممبئی

“دشمن اپنے فریق کے خلاف چار چالیں چلتا ہے:

(1) قتل؛ تاکہ دشمن کا بالکل وجود ہی ختم ہو جائے. اگر یہ نہ ہو سکے تو….

(2) جلا وطنی؛ تاکہ دشمن اپنے ملک و علاقے سے نکل کر دور چلا جائے. اگر یہ بھی نہ ہو پائے تو….

(3) اقتصادی بائیکاٹ؛ تاکہ غربت و مفلسی سے دوچار ہوکر ہمارا غلام بن جائے..(
4)
کفار نے مسلمانوں کے خلاف یہی چالیں ماضی میں چلیں، اور آج بھی چل رہے ہیں. بالترتيب دیکھیں:

(1) قتل: مسلمانوں کے قتل کے لئے ماضی میں ‘جہاد کا عمومی فتویٰ’ دیا جا رہا تھا، تاکہ بے امام و خلیفہ قلیل مسلمانانِ ہند، کفار کی اکثریت کے ہاتھوں قتل ہو جائے؛
اور آج ‘دیس دروہی’، ‘گَو ہتیہ’، ‘کورونا کا سبب’ وغیرہ کا الزام عائد کر کے، موب لنچنگ کے ذریعے مسلمانوں کا قتل ہو رہا ہے…!

(2) جلا وطنی: پہلے ‘تحریکِ ہجرت’ چلائی گئی، جس کے بہانے مسلمانانِ ہند کو ہندوستان سے نکالنے کے لئے کوششیں کی گئیں،
اور آج NRC, NPR, CAA جیسے کالے قوانین لائے جا رہے ہیں، تاکہ مسلمانوں کی ‘جلا وطنی’ ہو سکے…!!

(3) اقتصادی بائیکاٹ: ماضی میں تحریکِ عدمِ تعاون’ چلائی گئیں، تاکہ مسلمان اپنی اپنی نوکریاں چھوڑ دیں اور غریب و لاچار ہوکر ہندوؤں کے غلام بن جائیں،

اور آج بھی مدرسہ بورڈ کی مانْیَتا ختم کرنے کی پوری کوشش جاری ہے، تاکہ مسلمانوں کی سرکاری نوکریاں ختم ہو جائیں. ان ہندوؤں کی طرف سے سِوِل امتحانات میں بھی اردو کو ختم کرنے کی مانگ کی جا رہی ہے، تاکہ کوئی بھی مسلمان اوفیسر لائن میں نہ جا پائے؛
اور اب کورونا کے نام پر ان کا ‘اقتصادی بائیکاٹ’ عروج پر ہوتا جا رہا ہے، تاکہ مفلسی مسلمانوں کو، ان ہندوؤں کا غلام بنا ڈالے…!!

مگر، ان تین مشہور چالوں کے علاوہ، ایک چال کا ذکر، قرآنِ کریم نے مزید کیا ہے، اور وہ ہے ‘قید’،
یعنی مسلمانوں کو موقع پاتے ہی، کسی نہ کسی طرح ‘قیدی’ بنا دیا جائے، تاکہ اس کی تمام حس و حرکت، اُس تاریک کوٹھری میں اندھی ہوکر، اپنا دم توڑ دے. آج بھی سینکڑوں مسلمان نوجوان جیل کی سلاخوں کے پیچھے اپنا دم گھوٹنے پر مجبور ہیں، چونکہ ان مشرکین نے ان پر طرح طرح کی تہمتیں و الزامات لگائے، اور ان کے خلاف مقدمات درج کئے…!!

خبردار…!
اب کوئی یہ بہانہ نہیں بنا سکتا، کہ:
“ہمیں تو کفار کی ان چالوں کے بارے میں، پتہ ہی نہیں تھا”،
یہ بہانہ اس لئے باطل ہے، چونکہ کفار کی یہ تمام چالیں قرآن و حدیث میں ہزاروں سال پہلے ہی مذکور ہو چکی تھیں، مگر ہم نے انہیں نہ جانا، اور نہ ہی جاننے کی کوشش کی….!!

کفارِ مکہ نے آقا (ﷺ) کے ساتھ جو بدسلوکیاں کی تھیں، وہ بھی انہیں چار چالوں میں سے ہی تھی، قرآنِ مجید ان کے دجل و فریب کا ذکر کچھ اس طرح سے کر رہا ہے:

“وَإِذْ يَمْكُرُ بِكَ الَّذِينَ كَفَرُوا لِيُثْبِتُوكَ أَوْ يَقْتُلُوكَ أَوْ يُخْرِجُوكَ….!”

“اوریاد کرو، جب کافر تمہارے ساتھ دھوکا کرتے تھے، کہ تمہیں ‘بند کر لیں’، یا ‘شہید کر دیں’، یا ‘نکال دیں’….!”

اس آیت میں غور کریں، کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے ہمیں ان کفار کی چالوں سے آگاہ کیا، یہاں تین چالوں کا ذکر ہے:

1. قید؛
2. قتل؛
3. جلا وطنی؛

اب رہ گیا ‘اقتصادی بائیکاٹ’، تو اس کی تعلیم ہمیں ‘شعبِ ابی طالب’ سے مل رہی ہے. امام بیہقی نے ‘دلائل النبوة’ میں، اور ابن کثیر نے ‘البداية و النهاية’ میں ‘شعبِ ابی طالب’ کے واقعہ کو مفصلاً ذکر کیا. کفارِ مکہ نے ‘بنی ہاشم’ اور ‘بنی مطلب’ کے خلاف جو مکاریاں اختیار کیں، ان کا ایک ‘کتابچہ’ تیار کیا، اور اسے ‘کعبۂ معظمہ’ میں لٹکا دیا. کتبِ سِیَر و احادیث کے الفاظ کچھ اس طرح ہیں:

“….اجتمعوا علي أن يكتبوا فيما بينهم علي بني هاشم و بني المطلب أن لا يُنكِحوهم و لا يَنكَحوا إليهم، و لا يبايعوهم و لا يبتاعوا منهم؛ و كتبوا صحيفة في ذلك، و علقوها بالكعبة، ثم عدوا علي من أسلم، فأوثقوهم و آذوهم، واشتدّ البلاء عليهم، و عظمت الفتنة، و زلزلوا زلزالا شدیدا….!”

“….کفارِ مکہ اکٹھے ہوئے، تاکہ بنی ہاشم اور بنی مطلب کے خلاف جو انہوں نے آپس میں فیصلہ کیا تھا، اسے لکھیں؛ کہ وہ ان (کے خاندان) سے (شادی کے لئے) نہ ان کی بیٹی لیں گے، اور نہ ہی اپنی بیٹی انہیں دیں گے، اور نہ ہی ان سے کچھ خریدیں گے، اور نہ ہی انہیں کچھ بیچیں گے؛ اور اس معاملے میں انہوں نے ایک کتابچہ لکھا، اور اس کتابچے کو کعبے میں لٹکا دیا، پھر مسلمانوں پر ظلم و زیادتی شروع کر دی، تو انہیں قید کیا، اور انہیں اذیتیں دیں، اور مسلمانوں پر مصیبت سخت ہو گئی، اور فتنہ بہت بڑھ گیا، اور ان (مسلمانوں) پر (ظلم و ستم کے) زلزلے توڑے گئے…!”

[رواه البيهقي في الدلائل و ابن كثير في البداية]

اس عبارت میں غور کرنے سے یہ بات آشکار ہو جاتی ہے کہ کفار کی ایک بڑی چال ‘مسلمانوں کا اقتصادی بحران’ بھی ہے، قابلِ ذکر الفاظ یہ ہیں:

1. شادی کے لئے ان کی لڑکی نہ لینا؛
2. شادی کے لئے انہیں اپنی لڑکی نہ دینا؛
3. نہ ان سے کچھ خریدنا؛
4. نہ انہیں کچھ بیچنا؛

نمبر تین اور چار، ‘اقتصادی بائیکاٹ’ کی خبر دے رہے ہیں؛ جبکہ ساتھ ہی نمبر ایک اور دو، ‘سماجی بائیکاٹ’ کی بھی غمازی کر رہے ہیں…!!

اب رہی بات یہ کہ مسلمانوں کا، کفار کی جانب سے ہونے والے اس ‘اقتصادی بائیکاٹ’ سے کیسے بچا جائے، اور مسلمانوں کی معیشت کو مضبوط بنانے کے لئے کیا کیا جائے…؟

تو اس کا حل بھی مسلمانوں کو چار باتوں پر عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے ، جن کا خلاصہ یہ ہے:

1: وہ چند معاملات، جن میں حکومت کی مداخلت لازمی ہوتی ہے، ان کے علاوہ، اپنے تمام معاملات کو مسلمان اپنے ہاتھوں میں لیں، اپنے سب معاملات کا فیصلہ اپنے آپ ہی کریں. تاکہ یہ کروڑوں روپے جو اسٹامپ و وکالت میں خرچ ہو جاتے ہیں، مقدمے کی وجہ سے گھر کے گھر تباہ ہو جاتے ہیں، وہ ان بربادیوں سے محفوظ رہیں؛

2: مسلمان اپنی قوم کے سِوا کسی سے کچھ نہ خریدیں، تاکہ گھر کا نفع گھر ہی میں رہے. اپنے خود کے کاروبار کو ترقی دیں، تاکہ کسی چیز میں کسی دوسری قوم کے محتاج نہ رہیں….؛

3: بڑے شہروں کے امیر طبقے کے مسلمان، اپنے غریب مسلمان بھائیوں کے لئے ‘مسلم بینک’ کھولیں، تاکہ حلال طریقے سے انہیں قرض فراہم ہو اور ان کی ضرورتوں کی ٹھیک سے ادائیگی ہو جائے؛ ساتھ ہی نفع کے وہ طریقے جو شریعتِ مطہرہ نے بتائے ہیں، انہیں اپنایا جائے، تاکہ ‘سود’ جیسی بلا سے، امیر و غریب، سب مسلمانوں کی جان چھوٹے. اس ‘سود’ کی ادائیگی کی وجہ سے، نہ جانے کتنے غریب مسلمانوں کی زمین جائداد، امیر کفار کی بھینٹ چڑھ گئی؛

4: سب سے اہم و اجلّ و اشرف و افضل جو ہے، وہ ہے ہمارا ‘دینِ اسلام’، اس پر مضبوطی سے قائم رہنا ہی ہمارے لئے کامیابی و کامرانی کا سبب ہے. اسی دینِ متین پر ثابت قدم رہنے کے سبب، نہ جانے کتنے غربا و فقرا، تختِ شاہی کی رونق بنے؛ مگر یاد رہے کہ اس دین کا تعلق ‘علمِ دین’ سیکھنے سکھانے سے ہے، علمِ دین سیکھنا اور اس پر عمل کرنا ہی دونوں جہاں میں نجات کا ذریعہ ہے.
…!

مزید یہ کہ ہمیں یہ دیکھنا ہوگا، کہ تقریباً 1400 سال پہلے یا 100 سال پہلے، یا جب بھی مسلمانوں کے ساتھ یہ سب کیا گیا، تو انہوں نے اس سے کس طرح نجات پائی تھی….!!
ہمیں اپنے ماضی کی طرف جھانکا ہوگا، تاکہ ہم اپنے عروج و زوال، ملکیت و غلامی، فتح و مغلوبیت کے اسباب کو اچھی طرح جان لیں ،…!!