ریاست میں مساجد سمیت مذہبی مقامات نہیں کھلے گی مسلمان افواہوں پر اعتماد نہ کریں, ریاست کے حالات کا جائزہ لینے کے بعد ہی عبادتگاہوں کے ضمن میں کوئی فیصلہ کیا جائیگا اس لئے مذہبی مقامات کو اب تک کوئی رعایت نہیں دی گئی ہے اور نہ ہی عبادتگاہیں آج سے کھلے گی: وزیر برائے اقلیتی امور نواب ملک

ریاست میں مساجد سمیت مذہبی مقامات نہیں کھلے گی
مسلمان افواہوں پر اعتماد نہ کریں, ریاست کے حالات کا جائزہ لینے کے بعد ہی عبادتگاہوں کے ضمن میں کوئی فیصلہ کیا جائیگا اس لئے مذہبی مقامات کو اب تک کوئی رعایت نہیں دی گئی ہے اور نہ ہی عبادتگاہیں آج سے کھلے گی: وزیر برائے اقلیتی امور نواب ملک

ممبئی:  مہاراشٹر میں عبادتگاہوں اور مساجد پر لاک ڈاؤن کی پابندی بر قرار رہے گی اور 8 جون سے ریاست کی مساجد اور عبادتگاہیں نہیں کھلے گی اس لئے مسلمان کسی بھی قسم کی غلط فہمی یا افواہ پر اعتماد نہ کریں ریاستی سرکار نے رہنمایانہ اصول اور کرونا کے کیسوں پر لاک ڈاؤن میں رعایت دینے کا فیصلہ کیا ہے لیکن مساجد اور عبادتگاہوں و مذہبی مقامات سے متعلق کوئی رعایت نہیں دی گئی ہے اس لئے مساجد حکم ثانی تک بند ہی رہے گی۔ یہ اطلاع آج یہاں مہاراشٹر کے وزیر برائے اقلیتی امور نواب ملک نے دی ہے۔
انہوں نے کہاکہ ریاست میں لاک ڈاؤن میں دیگر رعایت کو منظوری ملی ہے لیکن عبادتگاہوں سے متعلق اب تک کوئی فیصلہ نہیں کیاگیا ہے یہ پوچھنے پر کہ کیا 30 جون تک مساجد بند رہے گی تو انہوں نے کہا کہ ابھی سے یہ طے کرنا مشکل ہے لیکن جب بھی مساجد کھولنے کا فیصلہ ہوگا سب کو معلوم ہوجائیگا فی الوقت مساجد اور مذہبی مقامات کو کھولنے کی اجازت نہیں ہے اور مذہبی مقامات کو لاک ڈاؤن سے کوئی رعایت نہیں دی گئی ہے اس لئے مسلمانوں سے میری اپیل ہے کہ وہ مساجد اور عبادتگاہوں سے متعلق افواہ پھیلانے سے گریز کریں اور غلط فہمی کا شکار نہ ہو۔ واضح رہے کہ ریاست کے پونہ, ناگپور,اورنگ آباد اور ممبئی کرونا وائرس کے سب سے زیادہ متاثر ہے اور یہاں سب سے زیادہ کرونا کے مریض پائے گئے ہیں ایسی صورت میں عبادتگاہوں کو کھولنے کے فیصلہ پر سرکارغور ضرور کر رہی ہے لیکن لاک ڈاؤن اور معاشرتی فاصلہ کی پابندی سے متعلق بھی سرکار گو مگو کی کیفیت میں مبتلا ہے کہ آیا ان عبادتگاہوں میں معاشرتی فاصلہ کی پابندی کروانا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے جون کے آخر تک مساجد اور عبادتگاہوں کو کوئی رعایت ملنا مشکل ہی نظر آرہا ہے کیونکہ ریاست میں یومیہ 2 ہزار سے 3 ہزار کرونا کے کیس پائے جارہے ہیں اس کے ساتھ ہی سرکارنے اجتماعات اور مذہبی جلسے جلوس سمیت سیاسی جلوس و تقریبات پر بھی پابندی عائد کر ددی ہے ممبئی شہر میں تو حکم امتناعی نافذ ہے اور چار سے زائد افراد کے جمع ہونے پر پابندی عائد کی گئی ہے یہ حکمنامہ ممبئی پولیس کمشنریٹ میں ڈی سی پی آپریشن پرنیہ اشوک نے جاری کیا ہے۔