مزدوروں  کی بے بسی اور حکومت کی بے حسی   

مزدوروں  کی بے بسی اور حکومت کی بے حسی

ڈاکٹر سلیم خان

وطن عزیز میں کورونا کی وباء سرمایہ دارانہ جمہوری نظام کے لیے ایک بہت بڑا خطرہ بن کر منڈالانے لگی ہے۔ ایسا کیوں ہوا یہ جاننے کے لیے اس نظام حکومت کو سمجھنا ضروری ہے۔ اس کو مرغی کی مثال سے سمجھا جاسکتا ہے ۔ جمہوریت کی مرغی کسان اور مزدوروں کی پیروں   پر چلتی ہے ۔ اس کے بال و پر انتظامیہ یعنی  پولس  اور سرکاری بابو ہیں جو وقت ضرورت اس  کو ہوا میں اڑاتے ہیں ۔ اس مرغی کے آنکھیں عدلیہ ہے لیکن اس پر  فی الحال ایک دبیز پٹی بندھی ہوئی ہے۔اس لیے جب سرکار کا وکیل کہتا ہے ایک بھی مزدور سڑک پر نہیں ہے تو وہ بلا چوں چرا ایمان لے آتا ہے۔  یہ مرغی سرمایہ دار کے دربے میں رہتی ہے اور اس کو سیاستداں دانے ڈالتا ۔ میڈیا اس کی چونچ ہے۔ چونچ سے یہ مرغی دانہ چگتی ہے اور اپنے چارہ گرکی تعرہف و توصیف بیان کرتی ہے۔   یہ سونے کے انڈے  دینے والی مرغی ہے جس کو سرمایہ دار اور سیاستداں مل بانٹ کر نوش فرماتے ہیں ۔  وہ اپنے منہ کا ذائقہ بدلنے کے لیے کبھی انڈے کا آملیٹ بنالیتے ہیں تو کبھی خاگینہ بناکر کھاتے ہیں ۔ حسب ذائقہ  اس کا سالن   بناکر روٹی کے ساتھ کھاتے تو کبھی  اس سے اپنی بریانی کی رونق بڑھاتے ہیں لیکن اب یہ مرغی شہروں سے گاوں کی جانب چل پڑی ہے ۔ دربہ خالی ہوگیا اوربے یارو مددگار چارہ گر خودغصہ  چبا  رہا ہے۔

کورونا کے آئینے میں چونکہ   مزدوروں نے سرمایہ داروں کا خونخوار چہرہ دیکھ لیا اس لیے وہ واپس اپنے گاوں جارہا ہے ۔ اس بغاوت پر قابو پانے کے لیے   صنعتکار وں اور سرمایہ داروں کی جانب سے اپنائے جانے والے سارے حربے ناکام ہوچکے ہیں ۔  وہ  پریشان ہے کہ اب  کس کا استحصال کرکے اپنا  کاروبار چمکائے گا؟مزدوروں کے ساتھ  کسانوں کا اعتماد  سیاستدانوں کے اوپر سے بھی اٹھ چکا ہے ۔ اس لیے انہیں پتہ چل گیا یہ دونوں سفاک و بے رحم  آپس میں دوست اور لوگ  ان کے مشترکہ   دشمن  ہیں ۔کسا نوں  کی سبزیاں اور پھل سڑ گئے لیکن سیاسی  رہنماوں نے انہیں شہر لے جاکر بیچنے  کی اجازت نہیں دی۔  اس لیے اب وہ بھی انتخاب میں سبق سکھانے کا انتظار کررہے ہیں ۔  میڈیا کے ذریعہ ان مزدوروں اور کسانوں کی مشکلات سے توجہ ہٹانے کی خاطر ہندو مسلم کھیل بار بار کھیلا گیا  لیکن کسی  حقیقت کو  مستقل طور پر چھپایا یا دبایا  نہیں جاسکتا ۔  مہاجر مزدوروں کا مسئلہ پھر ایک بار ذرائع ابلاغ پر چھاتا جارہا ہے ۔ حکومت اور میڈیا نے شتر مرغ کی مانند اپنا چہرہ ریت میں چھپا رکھا ہے لیکن دنیا دیکھ رہی ہے۔ لوگ دیکھ رہے ہیں اور لعنت و ملامت کررہے ہیں ۔ ان مزدوروں کی گھر واپسی نے اس نظام کی ٹانگیں  توڑ  کر  اس کے آقاوں کو  باولا کردیا  ہے۔

یکم مئ کو    مزدوروں کا دن کہلاتا  ہے۔ اس سال جس وقت محنت کشوں کے اس دن کا سورج ڈوبنے لگا تو حکومت نے  لاک ڈاون کی توسیع کا فرمان جاری  کردیا ۔  اسی کے ساتھ یہ خوشخبری دی  گئی  کہ اب تارکین وطن مزدوروں کو اپنے گھر پہنچانے کے لیے خصوصی ریل گاڑیاں چلائی جائیں گی۔ ہندوستان دنیا واحد ملک ہے جہاں کورونا کے سبب لاک ڈاون لگاکر     مہاجر مزدوروں کو اپنے گھر جانے سے روک    دیا  گیا۔  اس  پابندی کی  خلاف  ورزی کرتے ہوئے بے  شمار  لوگ اپنے گھروں سے نکل پڑے ۔ انہوں نے اپنے  بال بچوں کے ساتھ پیدل  سیکڑوں میل کا سفر کیا ۔    ان میں سے بہت سارے اپنی منزل پر پہنچے کئی درمیان  ہی میں داعیٔ اجل کو لبیک کہہ گئے اور ایک بڑی تعداد اس امید میں صبر کرکے بیٹھ گئے کہ تین ہفتہ کسی طرح گزار کر چلے جائیں گے۔ وہ قت  بھی نکل گیا لیکن  سفاک سرکار نے ان کی خبر نہیں لی ۔  دوسرے لاک ڈاون سے قبل ان کا پیمانۂ صبر لبریز ہوگیا ۔ وہ ہزاروں کی تعداد میں مختلف ریلوے اسٹیشن پر پہنچ گئے لیکن انہیں بھی سمجھا بجھا کر یا مارپیٹ کر واپس بھیج دیا گیا۔

اس دوران مختلف صوبائی حکومتوں نےان  امیر کبیر طلبا کو  جنہیں ہاسٹل میں کوئی مشکل نہیں تھی ان گھروں تک پہنچانے کا اہتمام تو کیا مگر مزدور پیشہ لوگوں   کی فاقہ کشی کو نظر انداز کردیا ۔ اس پر کچھ لوگوں نے عدالت عظمیٰ سے گہار لگائی اور عدالت کو مطمئن کرنے کی خاطر مرکزی  حکومت  نے بحالت مجبوری  ملک میں الگ الگ جگہ پھنسے ہوئے  مہاجر مزدوروں، سیاحوں، طلبا اور عقیدتمندوں کو  مختلف احتیاطی تدابیر کے ساتھ نقل مکانی کی اجازت دے دی ۔  یہ فیصلہ  دراصل عدالت کے دباو کی وجہ سے مجبوراً لیا گیا ۔  یہ شرم کی بات ہے کہ ایسا   معمولی فیصلہ کرنے میں حکومت کو پانچ ہفتے کا طویل وقت لگا۔ یہ اس نااہل حکومت  میں قوت فیصلہ کے زبردست فقدان کا منہ بولتا ثبوت  ہے۔  اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے یہ سرکار  عوامی مسائل کی بابت کس قدر غیر حساس ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ۲۲ مارچ کو  تالی اور تھالی بجانے کی نوٹنکی کے بجائے یہ اعلان ہوتا  کہ  تارکین وطن    مزدوروں کو خصوصی ریل گاڑیوں سے پہلے اپنے گھر پہنچایا جا ئے گا اور پھر لاک ڈاون کیا جا ئے گا۔

لاک ڈاون کے سبب ملک بھر کے تارکین وطن مزدوروں نے اپنے گھروں کو جانے کی کوشش کی لیکن سب سے زیادہ واقعات دہلی کے سامنے آئے ۔ اس کی کئی وجوہات تھیں ۔ اول تو یہ کہ دہلی میں ان کی کثیر تعداد رہائش پذیر ہے۔ دوم ان میں سے زیادہ تر پڑوسی صوبوں سے آئے ہوئے تھے اس لیے ان کا فاصلہ نسبتاً       کم تھا۔  ممبئی سے  اتر پردیش ایک ہزار سے زیادہ کلومیٹر دور ہے ۔ اس کے باوجود گورکھپور کے ۲۰ نوجوانوں کے سائیکل پر نکل جانے کی خبر آئی لیکن آگے پتہ نہیں چلا کہ وہ کب پہنچے؟ اور ان کو کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ؟ ممبئی راجوری (جموں)  کا ایک نوجوان محمد عارف  سائیکل پر اپنے بیمار والد کی عیادت کے لیے 2100 کلومیٹر سائیکل سے چلنے کا ارادہ کرکے نکل پڑا۔   اس کے والد پر دل کا دورہ پڑا تھا اور ان کی حالت نازک تھی۔ عارف ان کی خدمت کرنا چاہتا تھا یا  کم ازکم ا ٓخری بار ان کا دیدار  کرلینا چاہتا تھا اس لیے پانچ سو روپئے میں سائیکل خریدی اور ۸۰۰ روپئے جیب میں رکھ کر نکل پڑا۔ راستے میں کسی صحافی سے اس کی ملاقات ہوئی ۔ اس نے انتظامیہ سے مدد دلانے کا یقین دلایا۔ انتظامیہ نے بھی آمادگی ظاہر کی لیکن مہاراشٹر اور گجرات کی سرحد کے قریب اس کا موبائل بند ہوگیا اور پھر اس کا کیا بنا کوئی  نہیں جانتا ؟

اپنوں کے درمیان مرنے کی خواہش کا اظہار ہوڈل (ہریانہ )  کے رہنے والے محنت کش راجندر چوہان نے 30 اپریل کو  انڈین ایکسپریس کے رپورٹر سے  بات کرتے ہوئے کیا تھا  ۔ اگلے دن  دیپنکر گھوس نے اپنے مضمون میں اس کو  رقم کیا ۔ راجندر چوہان ملک کے کروڈوں تارکین وطن مزدوروں میں سے ایک تھا ۔ وہ بھوپال میں محنت مزدوری کرکے اپنا  اور گھر والوں کا پیٹ پالتا تھا۔   لاک ڈاون کے بعد  اپنے  30 ساتھیوں کے ساتھ ایک ٹرک میں سوار ہوکر وہ  ہریانہ کی طرف چل پڑا  ۔ اتر پردیش سے گزر کر جب راجندر کا قافلہ  ہریانہ میں داخل ہو گیا مگر  اپنے گاوں سے 15 کلومیٹر قبل کوسی کلاں کی چیک پوسٹ پر انہیں غیر قانونی  سفر کے الزام میں گرفتار کرلیا گیا ۔  وہاں موجود پولس افسر نے ان سے پوچھا ’’پردھان منتری کو سنے نہیں کیا؟ بار بار بول رہے ہیں ، گھر میں رہو ، گھر میں رہو؟ سمجھ نہیں آرہا؟ یہ بیماری خطرناک ہے‘‘۔  اس کے جواب میں راجندر چوہان نے  سینہ ٹھونک کر کہا ’’ اگر کورونا آتا ہے اور میں مرجاتا ہوں  ، تو کیا ایک غریب آدمی (اس سے قبل) اپنے خاندان والوں کو دیکھ بھی نہیں سکتا ؟ ‘‘ اس سوال کا کوئی جواب کسی  کے پاس نہیں تھا ۔ وہ اپنے لوگوں کو دیکھ کر ان کے درمیان مرنا چاہتا   تھا ۔

لاک ڈاون لگاتے وقت بڑے طمطراق کے ساتھ جو  کھوکھلا نعرہ لگایا گیا تھا  کوئی  بھوکا نہیں سوئے گا اس کے خلاف دہلی کے ایک  محنت کش نے  یکم مئی  ہی کو اپنی  جان دے کر  شہادت دی ۔یہ سانحہ اتر پردیش کے شاہجہاں پور میں پیش آیا ۔ لاک ڈاون میں   34گزارنے کے بعد  جب کھانے پینے کے لیے کچھ نہیں بچا تو بہار کھگڑیا کے ۶ مزدور 1300کلومیٹر کے طویل سفر پر سائیکل سے نکل پڑے۔ ابھی انہوں نے ایک تہائی سفر بھی پورا نہیں کیا تھا کہ ان میں سے ایک 28 سالہ دھرم ویر نے دم توڑ دیا ۔ دھرم ویر کے ساتھی رام نواس کے مطابق ان کے پاس صرف دس دن کے گزارے کی جمع پونجی تھی۔ اس کے بعد پاس پڑوس سے مانگ کر پیٹ بھراکئی دنوں تک بسکٹ پر گزارہ کیا اور مجبوراً  بھکمری کے ڈر سے یہ قدم اٹھایا ۔ چار دن تک بھوکے پیاسے شاہجہاں پور پہنچے  تو وہاں ایک مندر میں کھانے کو ملا اس کے بعد دھرم ویر کی طبیعت بگڑی تو اسے لے کر میڈیکل کالج پہنچے جہاں اس نے آخری سانس لی۔  اب یہ حال ہے کہ دھرم ویز کی لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا گیا اور اس کے ساتھیوں کو قرنطینہ میں روانہ کردیا گیا۔ سوال یہ ہے کہ اس بے قصور کی موت کے لیے کون ذمہ دار ہے۔ دھرم ویز جیسے  جتنے بھی لوگ اس لاک ڈاون کے سبب ہلاک ہوئے ان کے لیے صرف اور صرف یہ بے حس    حکومت ذمہ دار ہے؟

لاک ڈوان کے دو ماہ بعد بھی محنت کش  ملک کے مختلف کونوں سے گھر واپس جانا چاہتے ہیں۔ اس دوران ان کی ساری جمع پونجی خرچ ہوچکی ہےایسے  حکومت ہند اور وزارت ریل ان سے  ریل سفر کا کرایہ وصول کر نا نہایت شرمناک حرکت ہے۔یہ وہی سرکار ہے جو  بیرون ملک میں پھنسے ہندوستانیوں کو ہوائی جہازوں سے بلا معاوضہ واپس لاتی ہے ٹرمپ کے استقبال پر سرکاری خزانے سے 100 کروڑ روپےپھونک دیتی ہے مگر اپنے مزدوروں کے لیے اس کا دل تنگ ہوجاتا ہے۔  حکومت کے پاس ایوان بنانے کے لیے ہزاروں کروڈ ہے مگر غریبوں کے لیے  کچھ نہیں ہے۔  وزارت ریل کو  وزیر اعظم کے کورونا فنڈ میں 151 کروڑ روپےعطیہ دینے کے بجائے اس  محنت کشوں کی آمدو رفت پر خرچ کرنا چاہیے۔  ایسے سونیا گاندھی کا اعلان کانگریس کی  مقامی  یونٹ ہر ضرورت مند مزدور کے گھر واپسی کے لئے ریل سفر کا ٹکٹ برداشت کرے گی یہ ثابت کرتا ہے عوام کی ہمدردی کس میں ہے اور دیش بھکتی کا ڈھونگ کرنے والا  اور مگر مچھ کے آنسو بہانے والا کون ہے؟  لیکن اس پر بھی خوب سیاست ہوئی ۔ سوال یہ ہے کہ اگر ٹرین ہی بہت کم  چلے  گی اور اس میں لوگ سفر ہی کم کریں گے تو کیا فرق پڑتا ہے کہ کرایہ کون دے رہا ہے؟ اب تو مزدوروں نے لاک ڈاون کی دھجیاں اڑا کر پیدل اور ٹرکوں میں اپنے گھر جانا شروع کردیا ہے۔ کسی مائی کے لال میں  ہمت نہیں ہے کہ وہ انہیں روک سکے۔  ان سے سرکار اور میڈیا نظر چرا تو سکتی ہے لیکن نظر ملا نہیں سکتی ۔