17 مئی کے بعد کیا ارادہ ہے؟ سونیا گاندھی کا مودی حکومت سے سوال

17 مئی کے بعد کیا ارادہ ہے؟ سونیا گاندھی کا مودی حکومت سے سوال

کانگریس صدر سونیا گاندھی نے بدھ کو کانگریس حکمراں ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ کے ساتھ ویڈیو کانفرنسنگ سے میٹنگ کی۔ اس دوران سونیا گاندھی نے لاک ڈاؤن کو لے کر مودی حکومت پر کئی سوال کھڑے کیے۔

کورونا وائرس کی وجہ سے ہندوستان میں گزشتہ 24 مارچ سے لاک ڈاؤن چل رہا ہے۔ اس کا اثر اب غریب، کسان اور چھوٹے کاروبار پر صاف نظر آنے لگا ہے۔ ملک میں لگے لاک ڈاؤن کے تیسرے مرحلہ کے درمیان کانگریس کی صدر سونیا گاندھی نے کانگریس حکمراں ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ کے ساتھ آج میٹنگ کی۔ اس میٹنگ میں سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ اور سابق پارٹی صدر راہل گاندھی سمیت کئی لیڈر موجود رہے۔ میٹنگ کے ذریعہ کانگریس کے سینئر لیڈروں نے مودی حکومت کی پرزور تنقید کی اور لاک ڈاؤن کے بعد کے حالات پر مودی حکومت کی کوئی پالیسی نہ بنائے جانے پر سوال اٹھائے۔

کانگریس صدر سونیا گاندھی نے وزیر اعظم نریندر مودی کے سامنے سب سے بڑا سوال یہ رکھا ہے کہ آخر 17 مئی کے بعد کیا؟ سونیا گاندھی کا کہنا ہے کہ نہ ہی پیکیج کا اعلان ہوا اور نہ ہی لاک ڈاؤن کو لے کر کوئی منصوبہ بنایا گیا، تو پھر 17 مئی کے بعد لاک ڈاؤن کو لے کر حکومت کیا پالیسی اختیار کرے گی؟

سونیا گاندھی نے میٹنگ کے دوران پہلے تو کسانوں کی تعریف کی اور کہا کہ “سبھی رخنات کے باوجود زبردست گیہوں کی فصل کے ذریعہ فوڈ سیکورٹی یقینی کرنے کے لیے ہم سبھی کسانوں، خصوصاً پنجاب اور ہریانہ کے کسانوں کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔” اس کے بعد انھوں نے مودی حکومت سے پوچھا کہ”17 مئی کے بعد کیا اور کیسے؟ لاک ڈاؤن کتنا طویل چلنے والا ہے۔ اس کا فیصلہ کرنے کے لیے حکومت ہند کیا پیمانہ استعمال کر رہی ہے؟”

ویڈیو کانفرنسنگ میٹنگ میں شامل سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے سونیا گاندھی کی بات کو درست ٹھہراتے ہوئے کہا کہ “جیسا کہ سونیا جی کہہ رہی ہیں کہ لاک ڈاؤن 3.0 کے بعد کیا؟ ہم بھی جاننا چاہتے ہیں کہ حکومت کے پاس آگے کا کیا منصوبہ ہے۔ ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ کو لاک ڈاؤن کے تیسرے مرحلہ کے بعد کی پالیسی معلوم ہونی چاہیے۔”

اس میٹنگ میں کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے کورونا کے انفیکشن میں مبتلا لوگوں کے تعلق سے اپنی بات رکھی۔ خصوصی طور پر انھوں نے کہا کہ کووڈ کے ساتھ لڑائی میں بزرگوں، ذیابیطس اور قلب کے مریضوں کو بچانا بہت ضروری ہے۔ کانگریس کے سینئر لیڈر پی چدمبرم نے اس موقع پر کہا کہ “ریاستوں کو کافی مالی خسارہ ہو رہا ہے، لیکن حکومت ہند کے ذریعہ کوئی پیکیج نہیں دیا جا رہا۔ کئی اخبارات نے ریاستوں کے پاس خزانہ میں کمی کا ایشو اٹھایا ہے لیکن اس طرف کوئی توجہ نہیں دی جا رہی۔”

 

میٹنگ میں راجستھان، پنجاب، چھتیس گڑھ اور پڈوچیری کے وزرائے اعلیٰ نے مرکز سے ابھی تک راحت پیکیج نہ ملنے پر مایوسی کا اظہار کیا۔ راجستھان کے وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت نے کہا کہ “جب تک وسیع راحتی پیکیج نہیں دیا جاتا، اس وقت تک ریاست اور ملک کی سرگرمیاں کیسے چلیں گی؟ ہم نے 10 ہزار کروڑ روپے کا خزانہ گنوا دیا ہے۔ ریاستوں نے راحتی پیکیج کے لیے بار بار وزیر اعظم سے گزارش کی ہے لیکن ہمیں ابھی تک مرکزی حکومت کی طرف سے کوئی رد عمل نہیں ملا ہے۔”

پنجاب کے وزیر اعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ نے اس موقع پر کہا کہ “لاک ڈاؤن سے باہر کیسے آیا جائے اور معاشی حالات کو کیسے سنبھالا جائے، اس سلسلے میں ہم نے دو کمیٹیاں تشکیل دی ہیں۔ فکر کی بات یہ ہے کہ دہلی میں بیٹھے لوگ زون کی تقسیم کر رہے ہیں، اور وہ بھی یہ جانے کہ زمین پر کیا کچھ ہو رہا ہے۔”

چھتیس گڑھ کے وزیر اعلیٰ بھوپیش بگھیل نے میٹنگ میں اپنی بات رکھتے ہوئے کہا کہ “ریاستیں سنگین معاشی بحران کا سامنا کر رہی ہیں۔ انھیں فوری مدد مہیا کرانے کی ضرورت ہے۔ چھتیس گڑھ ایک ایسی ریاست ہے جہاں 80 فیصد چھوٹی صنعتیں پھر سے شروع ہو گئی ہیں اور تقریباً 85 ہزار مزدور کام پر لوٹ آئے ہیں۔”