روزے دار پولس والے  ہمیں ہماری ڈیوٹی پر فخر ہے.. یوسف شیخ

پچھلے 21 سال سے پولس محکمےسےجڑے یوسف شیخ سے ہماری نامہ نگار  رخسانہ شلےدار کی خا ص با ت چیت. 

روزے دار پولس والے
ہمیں ہماری ڈیوٹی پر فخر ہے.. یوسف شیخ
نامہ نگار  رخسانہ شلےدار
آج پوری دنیا میں “کورونا وائرس”  کا کہرام مچا ہوا ہے سب اس خرناک وائرس سے پریشان ہے اور ہر جگہ کرفیو لگا  ہے لوگ باہر بهی نہیں نکل سکتے۔
لیکن کچھ ایسے بھی لوگ ہے جو اپنے خاندان اور اپنی ذات کو چھوڑ چھاڑ کر عوام خدمت اور حفاظت میں رات دن لگے ہوئے ہیں۔ تو آج ہم مہاراشٹر کے شہر شولاپور کے مسلمان پولیس کا انٹرویو لیا ہے جو43ڈگری  دھو پ  میں رمضان کے مہینے میں روزہ رکھ کر لوگوں  کی حفاظت میں لگے ہوئے ہیں۔
43 سالہ پولس نایک یوسف  شیخِ.
پچھلے 21 سال سے پولس محکمےسےجڑے ہیں. ہماری نامہ نگار  رخسانہ شلےدار کی یوسف شیخ سے خا ص با ت چیت.
سوال۔سر…! ابھی سولاپور شہر میں 43 ڈگری  temperature ہے اتنی تیز دھوپ میں اپ  روزہ کی حالت میں آپ lockdown کی خطر ناک ڈیوٹی کس طرح کر پاتے ہیں؟
ج۔ دیکھو سب سے پہلے تو یہ ڈیوٹی ہے.  ہمیں یہ کسی بھی حالت میں پورا کرنا ہی  ہے چاہئے پھر تیز دھوپ ہو یا پھر روزے کی حالت میں ہو. سب سے پہلا فرض ہماری ڈیوٹی ہے.  اس میں کچھ excuses نہیں.ویسے ہمیں فخر ہے کی ہمیں ہمارے دیش کی اور دیش واسیوں کی جان بچانے میں لگے ہیں.
سوال ۔ سر یہ  کورونہ وائرس   اتنی خطرناک بیماری ہے اس میں اپ کو لگاتار باہر رہنا پڑتا ہوگا  تو آپ کو کبھی ڈر نہیں لگا؟
جواب۔ ابھی ڈر تو سبھی کا لگا رہتا ہے۔ کے اپنی وجہ سے اپنی family کو یہ بیماری نہ ہو. لیکن اب مجبوری ہے کرنا تو پڑےگا ہی. لیکن پھر بھی ہمارے آفیسر جو ہے. مطلب above 50 سال کے ہے اُن کو night duty دیتے ہیں اور ہم جیسے Young officers جو 50کے اندر ہے اُن دن duty دی جاتی ہے. اور  جو نوجوان زیادہ زبردستی کرتے ہیں راستے پے اُن پر سختی کرنا ہمارا کام ہوتا ہے اور ہمارے آفیسر ہمیں بار باsanitiser استعمال کرنے کی صلاح دیتے ہیں. اور ہم بھی اس بات کا دھیان رکھتے ہے. اورface mask لگا کے ہی رکھتے ہے. اور hand gloves ڈالےرہتے ہیں.
7) سوال ۔ sir ابھی کورونا وائرس اتنی تیزی سے پھیل رہا ہے  اور آپ ہمیشہon dutyرہتے ہو تو اس بارے میں آپ کے گھر والے کیا سوچتے ہیں؟
جواب ۔ وہی بس وہ ہمیشہ ہمارے لیے دعا کرتے رہتے ہے. اور ہم جب بھی گھر پے جاتے ہیں تو ہم بھی زیادہ precaution لیتے ہیں.  گھر کے پیچھے سے جانا پڑتا ہے. پوری طرح اچھا fresh ہوکے پھر اندر جاتے ہے. اور گھر میں داخل ہونے کی بعد ہم اپنے بچوں کم سے کم 1 2 گھنٹے اپنے قریب نہیں لیتے ہے. اور پھر کھانا وغیرہ کھانے کے بعد پھر سے dutyکے لے نکل جاتے ہے.  ہم یہ نہیں چاہتے کہ ہماری وجہ سے ہمارے بچوں اور فیملی کو اِس بیماری کا انفیکشن ہو.
سوال۔ ڈیوٹی کے وقت آپ کو سحری اور افطار میں پریشانی آتی ہے تو آپ کس طرح adjust کر لیتے ہیں؟
جواب. سحری کی تو ابھی تک کچھ پریشانی نہیں آئی ہے الحمدللہ. اور ہمارے کچھ آفیسر ایسے بھی ہے جو انسانیت والے جو افطار کے وقت ہمیں افطار کا سامان وغیرہ لا کر  دیتے ہے. یا تو ہمیں افطار کے adjust کر کے افطار کے لئے بھیج دیتے ہیں.
9) سوال.. سر جب سے رمضان شروع ہوا ہے آپ نے اپنے سینیر افسر سے  آسان کام دینے یا سہولیات  کی التجا کی ہے؟
جواب ۔ آسان ڈیوٹی تو کسی کو بھی نہیں ہے  اور ہم نے کبھی مطلب التجا بھی نہیں کی ہے. اور یہ ہمارا فرض ہے ہمیں یہ کرنا ہی ہوتا ہے.
10) سوال ۔ سر یہ آخری سوال… سر آپ لوگوں کو  اس کورونا وائرس کے بارے میں پیغام
دینا چاہیں گے؟
جواب۔  ہم تو بس یہی کہینگے گھر سے باہر مت نکلو.  اور ہماری وجہ سے دوسروں کو تکلیف نہیں ہونی چاہئے. اِس بات کا خیال رکھے اور ہم سب کہ گھر بیٹھے ساتھ دے اور اپنے خاندان اور خود کو گھر میں محفوظ رکھے.
جی سر….!!! بہت بہت شکریہ.