کورونا وائرس: ”لوگ سمجھتے ہیں سب ٹھیک ہو جائے گا، کچھ دن رک جائیے پھر دیکھیے گا“


ابھی حالات کا اندازہ نہیں ہے۔ اصل پریشانی تو اب شروع ہونے والی ہے۔
ڈاکٹر اجے کمار

سینئر ڈاکٹر اجے کمار کا کہنا ہے کہ لوگوں کو ابھی حالات کا اندازہ نہیں ہے۔ ابھی ہم صرف ایمرجنسی کیس دیکھ رہے ہیں اور ہماری حالت خراب ہو گئی ہے، اصل پریشانی تو اب شروع ہونے والی ہے۔

ہندوستان میں اب تک کورونا وائرس سے متاثر لوگوں کی تعداد بھلے ہی کم نظر آ رہی ہو، لیکن آگے حالات تشویشناک ہو سکتے ہیں اور اس کا اندیشہ کئی ڈاکٹروں و سائنسدانوں نے ظاہر بھی کر دیا ہے۔ ایک طرف جہاں دنیا کی ایک بڑی یونیورسٹی نے اپنی رپورٹ میں آنے والے خطرے کو لے کر متنبہ کیا ہے، وہیں نالندہ میڈیکل کالج اور اسپتال کے ایک سینئر ڈاکٹر نے بھی کچھ ایسا ہی اندیشہ ظاہر کیا ہے۔

سینئر ڈاکٹر اجے کمار کا واضح لفظوں میں کہنا ہے کہ لوگ صورت حال کو سمجھ نہیں رہے ہیں، حالات آگے بہت خراب ہو سکتے ہیں۔ نیوز چینل این ڈی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر اجے نے کہا کہ لوگوں کو ابھی سمجھ نہیں آ رہا ہے۔ ابھی ایمرجنسی کیس ہی ہم لوگ دیکھ رہے ہیں اور ہماری حالت خراب ہو چکی ہے۔ جو کورونا وائرس کے شکار ہیں ان لوگوں کو لگتا ہے کہ ابھی دو تین دن میں سب ٹھیک ہو جائے گا، لیکن اصل پریشانی تو اب آنے والی ہے۔ جب ایک ہفتہ گزرے گا تو لوگ تکلیف برداشت نہیں کر پائیں گے۔

ڈاکٹر اجے نے بتایا کہ کورونا وائرس کی زد میں آنے کے کچھ دن بعد مریض کو دورہ قلب، سینے میں تکلیف، سانس لینے میں دقت وغیرہ ہونے لگتی ہیں۔ ان مسائل کو مریض کب تک برداشت کرے گا۔ ہمارے یہاں ڈائلیسس ہوتا ہے۔ اس کے ٹیکنیشین کو اسپتال پہنچنے میں اب دقت ہو رہی ہے۔ ایسے ماحول میں آگے ہمیں مزید پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ڈاکٹر اجے عام لوگوں کے رویہ سے بھی کافی پریشان نظر آئے۔ انھوں نے شکایتی لہجہ میں کہا کہ لوگوں نے تالی اور تھالی تو بجا لی، لیکن اسپتال کے اسٹاف کے ساتھ ان کا سلوک اچھا نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ “ایمس اور ملک میں جو دیگر اسپتال ہیں، ان کے اسٹاف کو لوگ گھر خالی کرنے کے لیے کہہ رہے ہیں۔ مکان مالک انھیں دھمکی دے رہے ہیں کہ اگر اسپتال گئے تو گھر خالی کر دو۔ یہ بڑا مسئلہ ہے۔ اس کی وجہ سے ہمارے چوتھے گریڈ کے ملازم اور تیسرے گریڈ کے ملازم جو چھوٹی جگہوں پر رہتے ہیں، ڈر کے مارے کام پر نہیں آ رہے ہیں۔ اس وجہ سے ہمیں کم اسٹاف میں ہی کام چلانا پڑ رہا ہے۔”

ڈاکٹر اجے کا کہنا ہے کہ جس طرح کے حالات پیدا ہو گئے ہیں اس کا حل یہی ہے کہ اب دو تین اسپتالوں کو ملا کر ایک بنا لیا جائے۔ کچھ مقامات پر ایک دو ہی اسٹاف رہ گئے ہیں۔ جیسی رپورٹ سامنے آ رہی ہے اس کے مطابق کورونا وائرس کی زد میں آنے والے لوگوں کا علاج کر رہے ڈاکٹروں کے پاس ضروری حفاظتی اشیاء بھی نہیں ہیں۔ ماسک اور دستانے تک دستیاب نہیں ہیں۔