لاک ڈاؤن کے بعدایک سال کا معصوم تھا بیٹے کے علاج کے لیے ماں 30 کلو میٹر پیدل چل کر پہنچی اسپتال

ملک بھر میں کورونا وائرس سے لوگوں کے من میں خوف پیدا ہو چکا ہے۔ ایسے میں ملک کے گوشے گوشے سے ایسی خبریں آ رہی ہیں کہ لاک ڈاؤن ہونے کے بعد سے لوگوں نے پیدل سفر شروع کر دیا ہے اور وہ شہر سے اپنے گھر کی جانب چل پڑے ہیں۔ اس درمیان لاک ڈاؤن کی وجہ سے اپنے بیمار ایک سال کے معصوم بیٹے کے علاج کے لیے ایک خاتون جمعرات کو تیس کلو میٹر پیدل سفر کر کے اسپتال پہنچی۔ چترکوٹ ضلع کے انچوارا گاؤں کی رہنے والی خاتون مایا دیوی اپنی پوری فیملی کے ساتھ مدھیہ پردیش کے گپت گوداوری کے پاس رہتی ہے۔ دو دن سے اس کے ایک سال کے بیٹے کی طبیعت خراب چل رہی تھی۔
معرات کی صبح جب بچے کی طبیعت زیادہ خراب ہوئی تو بے بس ماں نے بچے کا علاج کرانے کے لیے گپت گوداوری سے چترکوٹ کی 30 کلو میٹر کی دوری پیدل پوری کی اور کروی پہنچی جہاں ایک پرائیویٹ اسپتال میں بیٹے کو علاج کے لیے داخل کروایا۔ مایا دیوی نے جمعہ کو بتایا کہ “بیٹے کی طبیعت بہت زیادہ خراب تھی۔ جب گپت گوداوری سے بیٹے کو لے کر پیدل نکلی تو راستے میں کوئی گاڑی نہیں ملی۔ کئی پولس اہلکاروں سے مدد کی گزارش کی لیکن لاک ڈاؤن کی وجہ سے کسی نے مدد نہیں کی۔ کسی طرح چترکوٹ پہنچ کر بچے کا علاج کروا۔ اب بیٹے کی طبیعت کافی بہتر ہے۔”