کورونا وائرس مسلمانوں، ہندوؤں، مسیحیوں اور یہودیوں کے مذہبی رسم و رواج کی ادائیگی میں کیسے خلل ڈال رہا ہے

خانہ کعبہ آنے والے معترمین کی تعداد میں نمایاں کمی ہو گئی ہے

ورونا وائرس سے پھیلنے والی ہلاکت خیز وبا پر عالمی سطح پر بھڑتی ہوئی تفتیش کے پیش نظر دنیا بھر میں لوگ اپنے معمولات اور طور طریقے تبدیل کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

بہت سے لوگ ہجوم یا عوامی اجتماعات میں شرکت سے گریز کر رہے ہیں اور بہت سے لوگوں نے سفر کرنے کے ارادے منسوخ کر دیے ہیں۔ کئی جگہوں پر لوگ ایک دوسرے سے ملتے وقت ہاتھ ملانے یا بغل گیر ہونے کے بجائے کھونیوں سے کھونیاں یا پیروں سے پیر ٹکرانے پر ہی اکتفا کر رہے ہیں۔

وائرس کو ایک شخص سے دوسرے شخص کو منتقل ہونے سے روکنے کے لیے گرجا گھروں، مندروں، مساجد اور دیگر مذاہب کی عبادت گاہوں میں عبادت کرنے کے روائتی طریقوں اور مذہبی رسومات کو تبدیل کیا جا رہا ہے۔

لیکن عبادت کرنے کے روایتی طریقے تبدیل کرنے سے کیا روح کو تسکین دی جا سکتی ہے؟