ایران کے کورونا مخالف اقدامات، قائد، صدر، عالمی ادارۂ صحت، سبھی قدرداں ہیں

صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے اپنے انسٹاگرام پیج پر لکھا ہے کہ ایران کے ڈاکٹروں اور نرسوں سمیت طبی شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد کی کورونا وائرس کے خلاف جذبہ فداکاری سے لبریز کامیاب مہم، قابل تعریف ہے۔انھوں نے لکھا ہے کہ ایرانی قوم، اس مہم میں ڈاکٹروں اور نرسوں کی فداکاری کو ہرگز فراموش نہیں کرے گی ۔ یاد رہے کہ عالمی ادارہ صحت ڈبلیو ایچ او کے وفد نے ایران کے اسپتالوں کا دورہ کرنے کے بعد کہا ہے کہ ایران، کورونا سے بہت اچھی طرح نمٹ رہا ہے ۔ عالمی ادارہ صحت کے وفد کے سربراہ ریچرڈ برینن نے ایران میں کورونا وائرس کے خلاف مہم اور طبی مراکز کے معائنے کے بعد کہا کہ ہمیں یقین ہے کہ ایران، آسانی سے اس وائرس پر کنٹرول حاصل کر لے گا۔عالمی ادارہ صحت کے وفد نے کورونا وائرس کے خلاف ایران کی مہم کوبہت اہم اور قابل تقلید قرار دیا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے وفد کے سربراہ ریچرڈ برینن نے کہا کہ کورونا وائرس سے نمٹنے کی مہم میں کامیابی کا بنیادی ستون ، عوام اور متعلقہ اداروں کے درمیان تعاون ہے اور ایران میں اس تعاون کی اعلی ترین مثال کا مشاہدہ کیا جارہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایران میں وبائی بیماریوں سے نمٹنے کی کافی توانائی پائی جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران نے مختلف مواقع پر ثابت کیا ہے کہ اس کے اندر بحرانی حالات سے نمٹنے کی بھرپور توانائی موجود ہے۔ قابل ذکر ہے کہ ایران میں کورونا وائرس کے خلاف ہمہ گیر قومی تحریک جنگی پیمانے پر جاری ہے اور ایران کی وزارت صحت، کورونا وائرس کی صورتحال کے بارے میں ہر روز شام کو مفصل رپورٹ جاری کرتی ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق منگل کی شام تک کورونا وائرس میں مبتلا افراد کی مجموعی تعداد آٹھ ہزار بیالیس تھی جن میں جاں بحق ہونے والوں کی مجموعی تعداد دو سو اکیانوے تھی لیکن اس سے نو گنا سے زیادہ ، یعنی دو ہزار سات سو اکتیس افراد صحتیاب ہو کے اسپتالوں سے اپنے گھروں کو جا چکے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ایران میں کورونا وائرس کے خلاف ہمہ گیر مہم کے بہت اچھے اور پائیدار نتائج سامنے آرہے ہیں۔ ایران نے اس وائرس سے نمٹنے میں اپنے کامیاب تجربات سے علاقائی ملکوں کو بھی بہرہ مند کرنے کے لئے اپنی مکمل آمادگی کا اعلان کیا ہے۔ اسی کے ساتھ رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے اس مہم میں دل و جان سے شرکت کرنے والے ڈاکٹروں اور نرسوں کی ایک بار پھر قدردانی کی ہے ۔ رہبر انقلاب اسلامی نے ایران کے وزیر صحت کی اس تجویز کو منظوری دے دی ہے کہ اس مہم میں جاں بحق ہونے والے ڈاکٹروں، نرسوں اور دیگر پیرا میڈکس کو شہید کا درجہ دیا جائے۔ دوسری طرف عراق میں بزرگ مرجع تقلید آیت اللہ العظمی سید علی سیستانی نے فتوی صادر کیا ہے کہ کورونا وائرس پھیلنے کی وجہ سے نماز جماعت کے اجتماعات منعقد نہ کئے جائیں۔ انھوں نے نجف اشرف میں نامہ نگاروں کے اس سوال کے جواب میں کہ کورونا وائرس پھیلنے کی صورت میں نماز جماعت کے بارے میں کیا حکم ہے ، فرمایا ہے کہ سبھی کو کورونا وائرس کی روک تھام کے لئے طبی اصولوں کی پابندی کرنی چاہئے۔