طلاقِ ثلاثہ بل کو صدر جمہوریہ سے بھی ہری جھنڈی مل گئی ، قانون کا درجہ مل گیا

لوک سبھا اور راجیہ سبھا سے پاس ہونے کے بعد ایک بار میں تین طلاق دینے سے متعلق بل کو صدر جمہوریہ نے بھی اپنی منظوری دے دی ہے۔ اب اس بل نے قانون کی شکل لے لی ہے 19 ستمبر سے نافذ العمل ہوگا۔
19 ستمبر 2018 کے بعد جتنے بھی معاملے میں تین طلاق سے متعلق آئے ہیں، ان سبھی کا نمٹارا اسی قانون کے تحت کیا جائے گا۔

صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند نے تین طلاق بل کو منظوری دے دی۔ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے پاس کرانے کے بعد اسے مودی حکومت نے صدر جمہوریہ کے پاس منظوری کے لیے بھیج دیا تھا۔ واضح رہے کہ طلاق ثلاثہ بل پارلیمنٹ کے دیوانوں ایوانوں سے پہلے ہی پاس ہو چکا ہے۔ مودی حکومت نے اس بل کو 25 جولائی کو لوک سبھا میں اور 30 جولائی کو راجیہ سبھا میں پاس کروایا تھا۔

راجیہ سبھا میں بل کی حمایت میں 99 جب کہ مخالفت میں 84 ووٹ پڑے تھے۔ اس سے قبل اپوزیشن کے ذریعہ بل کو سلیکٹ کمیٹی کے پاس بھیجنے کا مطالبہ کیا گیا تھا، لیکن یہ مطالبہ بھی ایوان میں گر گیا تھا۔ ووٹنگ کے دوران بل کو سلیکٹ کمیٹی میں بھیجنے کے حق میں 84 جب کہ مخالفت میں 100 ووٹ پڑے تھے۔
صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند سے منظوری ملنے کے ساتھ ہی اس قانون نے اب تین طلاق کو لے کر 21 فروری کو جاری کیے گئے موجودہ آرڈیننس کی جگہ لے لی ہے۔ بل کے قانون بننے کے بعد یعنی 19 ستمبر 2018 کے بعد جتنے بھی معاملے میں تین طلاق سے متعلق آئے ہیں، ان سبھی کا نمٹارا اسی قانون کے تحت کیا جائے گا۔