ایوان سے اناو تک خواتین کی حالت زار

ایوان سے اناو تک خواتین کی حالت زار

ڈاکٹر سلیم خان

اتر پردیش کے لیے جس دن پہلی خاتون گورنر آنندی بین  پٹیل کا تقرر ہوا اسی روز بی جے پی کے رکن اسمبلی کلدیپ سنگھ سینگر نے جیل میں بیٹھے بیٹھے ان پر عصمت دری کا الزام لگانے والی  دوشیزہ اور اس کے باپ کی پولس میں تھانے میں قتل کی گواہ چاچی  کی گاڑی  پر ٹرک چڑھوا دیا ۔اب و ہ بدقسمت لڑکی تو موت و حیات کی کشمکش میں گرفتار ہے۔  متاثرہ کی ماں بلک بلک کر نامہ نگاروں سے کہہ رہی ہے ۔ ان لوگوں (بی جے پی والوں )نے پہلے میری بیٹی کی آبرو ریزی کی ۔ اس کے بعد میرے شوہر کا قتل کیا ۔میرے دیور کو جیل میں ڈال دیا اور اب میری بہن اور بھاوج کو ہلاک کردیا ۔ میری بیٹی موت سے لڑ رہی ہے مگر مجھے اس سے ملنے نہیں دیا جارہا ہے۔ لوک سبھا  کے اندر  اس  مسئلہ پر احتجاج ہوا  اور حکومت راجیہ سبھا میں طلاق ثلاثہ پر قانون بنا کر اپنئ پیٹھ تھپتھپا   تی رہی ۔ کیا اس سے افسوسناک بات کوئی اور ہوسکتی ہے کہ  اپنے کالے کرتوت کی پردہ پوشی کے لیے کسی غیر ضروری معاملے کو اٹھا کر پوری قوم کی توجہ اس پر مرکوز کردی جائے۔ اپنی ہی قوم کی خواتین کو آبرو سے کھلواڑ کیا جائے۔ ان کو بیوہ کیا جائے اور موت کے گھاٹ اتار جائے اور دیگر خواتین  کے انصاف بحال کرنے کا شور مچایا جائے ۔ افسوس کہ وطن عزیز میں یہ کھیل جاری ہے اور ہندو عوام  اس کو دیکھ  دیکھ کر کوش ہورہی ہے ۔ بی جے پی دولت کے بل پر اپنے مخالفین کو ہمنوا بنا کر یا ایوان سے غیر حاضر رکھ کر اپنی سیاسی روٹیاں سینک رہی ہے۔

 اس قانون کے بن جانے سے مسلم خواتین کو تو اپنے ناپسندیدہ شوہر سے ۶ ماہ  بعد چھٹکارہ مل جائے گا  اوروہ اپنا گھر دوبارہ  بسا نے کے قابل ہوجائیں گی مگر ان ہندو عورتوں کا کیا ہوگا جن کو مودی جیسے شوہروں نے تیس تیس سال سے بغیر طلاق کے معلق کر رکھا ہے۔ کیا  ان کو بھی ایسے شوہروں کے چنگل سے کبھی آزاد کیا جائے گا  جن کے حقوق کی ادائیگی کوئی  نہیں کرتا ؟  اور وہ اپنی نئی زندگی شروع کرنے کے لیے آزاد بھی نہیں ہیں ۔  مسلمانوں نے تو خیر بی جے پی کو نہ ووٹ دیا   تھا اور نہ دیں گے مگر جن ہندووں نے ایسا کیا ہے انہیں سوچنا چاہیے کہ ان کی چہیتی پارٹی نے ہندو خواتین کی فلاح و بہبود کے لیے کیا کیا ہے؟ ایسا کیوں ہے نابالغ بچیوں  کی آبرو ریزی  کے لاکھوں مقدمات عدالتوں میں  زیر سماعت ہیں ۔ سینگر کی دوشیزہ بھی اس وقت آئینی حیثیت سے بالغ نہیں تھی جب اس کے ساتھ یکے بعد دیگرے دو مرتبہ دست درازی ہوئی ۔  برسوں تک فیصلے نہیں ہوتے اور جب ہوتے ہیں تو ہر چار میں سے تین چھوٹ جاتے ہیں اس لیے انتطامیہ خود کیس کو کمزور کردیتا ہے گواہوں کو ڈرا دھمکا کر خرید لیا جاتا ہے۔ جس ملک کے ایوان میں عوام کے نمائندے اپنے ضمیر کا سودہ کردیں یا ڈر جائیں  وہاں عوام کا یہی سب کردینا کیوں کر معیوب ہوسکتا ہے۔

ایوانزیریں  میں جس وقت طلاق ثلاثہ پر بحث ہورہی تھی اور حزب  اقتدار کے دلائل کا کھوکھلا پن ظاہر ہورہا تھا اچانک  اعظم خان کےایک تبصرے پر ہنگامہ کھڑا کرکے نفسِ مسئلہ سے توجہ ہٹانے کی مذموم کوشش کی گئی۔ بات کابتنگڑ  بناکر انہیں اپنا موقف رکھنے سے روک دیا گیا  ۔ لوک سبھا میں  اعظم خان کے بیان پر جو ہنگامہ شروع ہوا تھا وہ پانچ دن بعد غیر مشروط معافی سے ٹھنڈا پڑ گیا ہےلیکن  اس میں شک نہیں کہ اگر وہ ایک بھونڈا شعر درمیان میں نہ سناتے طلاق ثلاثہ پر اچھے نکات پیش کرسکتے تھے ۔  اس لیے آئندہ ان کو احتیاط کرنا ہوگا کیونکہ شاطر دشمن ان کے ہر جملے کو خوردبین سے دیکھتا ہے اور اس غلط فائدہ اٹھانے سے نہیں چوکتا ۔ اس معاملے میں ایوان کی نظامت کرنے والی رما دیوی چاہتی تھیں کہ پانچ سال کے لیے انہیں معطل کردیا جائے ۔  رما دیوی کو پارٹی لائن سے اوپر اٹھ کر ساری خواتین ارکان پارلیمان کی حمایت حاصل ہوگئی  یہاں تک کہ ملائم سنگھ یادو کی چھوٹی بہو اور سماجوادی پارٹی کی رکن  اپرنا یادو نے بھی انہیں معافی مانگنے کا مشورہ دے دیا ۔

تعطیلات کے بعد  لوک سبھا کے اسپیکر اوم بڑلا نے معاملہ رفع دفع کرنے کے لیے اعظم خان کو  اپنے کمرے میں بلایا مصالحت ہوگئی۔ اجلاس کے ابتداء ہی میں اعظم خان نےاعلان کر دیا  کہ ”میرا ارادہ تھا  اور نہ  ہو سکتا ہےپھر بھی  اگر چیئر کو ایسا لگتا ہے کہ مجھ سے کوئی غلطی ہوئی ہے تو میں اس کے لئے معافی مانگتا ہوں’’۔  ویسے رما دیوی کو کیا فرق پڑتا ہے وہ تو  پہلے ہی  کہہ چکی تھیں  کہ اگر اعظم خان اسی وقت معذرت چاہ لیتے تو وہ درگذر کردیتیں مگر خان صاحب باہر نکل گئے اس  لیے غالباً ان کی انا کو ٹھیس  پہنچ گئی اور بات بڑھ گئی۔   اعظم خان کی معافی کے بعد رما دیوی نے کہا‘‘اعظم خان کی عادت بگڑی ہوئی ہے’’اور اکھلیش یادو سے پوچھا  کہ وہ اعظم خان کی حمایت کیوں  کرتے ہیں’’۔

رما دیوی کو اگر خواتین کی عزت و آبرو کا اتنا ہی خیال ہے تو اپنی ہی پارٹی کے رکن پارلیمان ساکشی مہاراج  سے بھی پوچھتیں کہ انہوں نے جیل میں جاکر بی جے پی رکن اسمبلی کلدیپ سینگر سے ملاقات کیوں کی؟ کلدیپ اب بھی نہ صرف بی جے پی میں ہے بلکہ رکن اسمبلی کی حیثیت سے ساری سرکاری سہولیات سے بھی فیضیاب ہورہا ہے ۔ اس کو وہ ساری مراعات اور تحفظات حاصل ہیں جو کسی ایم ایک اے کو ملتی ہیں ۔ رما دیوی کو ساکشی مہاراج سے یہ بھی سوال کرنا چاہیے کہ  متاثرہ خاتون  کی گاڑی  سے ٹرک کو ٹکرا کر اسے رشتے داروں کے ساتھ  ہلاک اور ایک زخمی کرنے کا مشورہ انہوں نے ہی تو نہیں دیا تھا ؟ اس بابت یوگی سرکار کی پولس نے کلدیپ سنگھ سینگر کے خلاف قتل کی ایف آئی آر داخل کرنے کا ناٹک کررہی ہے لیکن جب سارے شواہد مٹا دئیے جائیں گے تو کوئی عدالت سینگر کا کیا بگاڑ سکے گی  جبکہ یہاں معاملہ شعر مارنے کا نہیں بلکہ جان سے مارنے کا ہے ۔ رمادیوی  اور ان کی پارٹی کو کو یہ بتانا ہوگا  کیا صرف ارکان پارلیمان کا عزت و وقار  اہمیت کا حامل ہے اور عام خواتین کی جان بھی کوئی  وقعت نہیں رکھتی؟ کیا آئین کی نظر میں ساری خواتین برابر کا درجہ نہیں رکھتیں ؟ کیا اس کی پامالی پر آواز اٹھانا ارکان پارلیمان کی ذمہ داری نہیں ہے اور مودی  اس ظلم پر ٹویٹ کیوں نہیں کرتے؟

بی جے پی نے اعظم خان کے بہانے خواتین کے احترام وتحفظ  پر شور تو بہت مچایا اور پانچ سالوں تک  معطل کرنے دھمکی بھی دی مگر یہ بھول گئے کہ خود ان کا نامزد کردہ سابق وزیر مملکت برائے خارجہ امود ایم جے اکبر کو وزارت سے ضرور محروم کیا گیا  مگر وہ  اب بھی ایوان پارلیمان میں موجود ہے ۔ اس پر سپریم کورٹ میں آبروریزی کا  مقدمہ چل رہا ہے اس کے باوجود  پارٹی اس کو نکالنے کے بجائے مدافعت کررہی ہے ۔ یہ کون سا انصاف ہے کہ ایک شعر کہنے پر تو آسمان سر پر اٹھالیا جائے اور عصمت دری کے ملزم کو پالا پوسا جائے ۔اس بابت آرٹی آئی کی معرفت معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی گئی تو پتہ ایم جے اکبر پر کارروائی کرنے کے لیے تشکیل دی جانے والی کمیٹی نے کسی سفارش پر عمل نہیں کیا بلکہ سرکار ی طور پراعتراف کیا گیا  کہ اسے تحلیل کردیا گیا ہے۔ کوئنٹ کے ذریعہ اس شرمناک واردات کی ا شاعت  کے بعد سرکار کو عار محسوس ہوئی تو عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے ایک نئی کمیٹی بنا دی گئی  ۔ حکومت اس بابت اگر سنجیدہ ہوتی  تو پہلے ہی ایم جے اکبر کو ایوان سے اور پھر پارٹی سے نکال باہر کردیا جاتا اس لیے کہ وہ  خود ناجائز تعلقات کا اقرار کرچکے ہیں ۔ ان کہنا تو بس یہ  ہے کہ وہ فعل قبیح زور زبردستی سے نہیں بلکہ برضا و رغبت سرزد ہوا تھا ۔ جس پارٹی کا اخلاقی معیار اس قدر پست ہو اس کو دوسروں پر نگشت نمائی  کا اور طلاق ثلاثہ پر مگر مچھ کے آنسو بہانے کا کوئی حق نہیں ہے۔