پربھنی داعش معاملہ ملزم اقبال احمد کے والد نے قانونی امداد کے لیئے گلزار اعظمی سے ملاقات کی جمعیۃ علماء پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا، مراٹھواڑہ جمعیۃ علماء کے وفد نے ممبئی کا دورہ کیا

پربھنی داعش معاملہ
ملزم اقبال احمد کے والد نے قانونی امداد کے لیئے گلزار اعظمی سے ملاقات کی
جمعیۃ علماء پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا، مراٹھواڑہ جمعیۃ علماء کے وفد نے ممبئی کا دورہ کیا
ممبئی 29جولائی
جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی سے پر بھنی جمعیۃ علماء کے ذمہ داران نے ملاقات کرکے ان سے سال 2016 میں شہرپربھنی سے داعش کے ہم خیال ہونے اور دہشت گردانہ کارروائیاں انجام دینے کے الزامات کے تحت گرفتار چار مسلم نوجوانوں میں سے ایک ملزم اقبال احمد کے والد شیخ کبیر نے انہیں دوبارہ قانونی امداد فراہم کرنے کی گذارش کی۔
آج دفتر جمعیۃ علماء مہاراشٹر پہنچے وفد میں قاری عبدالرشید(صدرجمعیۃ علماء ضلع پربھنی)مولانا سید غلام رسول بیتی(نائب صدر جمعیۃ علماء ضلع پربھنی)مولانا سید نصرا للہ حسینی(نائب صدر جمعیۃ علماء مراٹھواڑہ) مولانا عیسی خان کاشفی(خازن جمعیۃ علماء مراٹھواڑہ) مولانا اعجاز خان بیتی(صدر جمعیۃ علماء ضلع ہنگولی)حافظ عبدالحفیظ صاحب (صدر جمعیۃ علماء ضلع ناندیڑ)حافظ محمد جاوید لکی(جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء شہر ناندیڑ)شامل تھے جن کی موجودگی میں شیخ کبیر نے گلزار اعظمی سے کہا کہ ان کے فرزند کی گرفتار ی کے بعد جمعیۃ علماء (مولانا ارشد مدنی) نے انہیں قانونی امداد فراہم کرائی تھی لیکن بعد میں ایڈوکیٹ تہور خا ن پٹھان اور ان کے رفقاء نے انہیں کہا کہ ان کے لڑکے کا مقدمہ ان کے حوالے کردیں وہ اسے ایک سال میں ختم کرادیں گے لیکن آج تین سال سے زائد کا وقفہ گذر جانے کے باوجود معاملہ جوں کا توں بنا ہوا ہے، ابھی تک اس معاملے میں چارج بھی فریم نہیں ہوا اور نہ ہی ان لڑکے کی ضمانت عرضداشت ہائی کورٹ میں داخل کی گئی۔
انہوں نے گلزار اعظمی سے مزید کہا کہ انہوں نے تین سال تک انتظار کیا لیکن جب انہیں محسوس ہوا کہ انہیں سوائے میٹھی باتوں کے کچھ دکھائی نہیں دیا اور نہ ہی کوئی نتیجہ نکلا، جس کے بعد انہوں نے فیصلہ کیاکہ وہ گلزار اعظمی کی سربراہی میں کام کررہی جمعیۃ علماء کے وکلاء سے رجوع ہونا چاہئے جو اس طرح کے معاملات میں ماہر ہیں اور یہ ہی صحیح رہبری اور رہنمائی کریں گے۔
شیخ کبیر نے جب پہلی مرتبہ ان کے لڑکے کی گرفتاری کے بعد گلزار اعظمی سے ملاقات کی تھی تب گلزار اعظمی نے کہا تھا کہ میں کوئی جھوٹا وعدہ نہیں کر ونگا بلکہ قانون کے مطابق ملزمین کے حق میں جو بہتر ہوگا اس کی کوشش کرونگا اور مجھے آپ کو نہیں بلکہ اللہ تبارک و تعالی کو جواب دینا ہے۔
ملزم اقبال احمد کے والد شیخ کبیر نے کہا کہ انہیں امید ہیکہ اب انہیں جلد از جلد انصاف حاصل ہوگا اور میرے بچے کا مقدمہ صحیح ہاتھوں میں گیا ہے۔
انہوں نے گلزار اعظمی سے درخواست کی ہے کہ ان لڑکے کی ضمانت پر رہائی کے لیئے ممبئی ہائی کورٹ سے رجوع ہوں جس پر گلزار اعظمی نے انہیں یقین دلایا کہ ملزم رئیس الدین کی ضمانت عرضداشت پر فیصلہ آجانیکے بعد کوشش کی جائے گی۔انشاء اللہ
واضح رہے کہ پربھنی سے چاروں ملزمین کی گرفتاری کے بعد قومی تفتیشی ایجنسی NIAنے مقدمہ ممبئی منتقل کرنے کی گذارش کی تھی لیکن دفاعی وکلاء (ایڈوکیٹ تہوار پٹھان و ان کے رفقاء)کے اعتراض کے بعد پہلے معاملہ ممبئی ہائی کورٹ میں التواء کا شکار رہا پھر اب سپریم کورٹ میں گذشتہ آٹھ ماہ سے زیر سماعت ہے۔ممبئی ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ این آئی اے کی عدالتیں ممبئی میں ہیں لہذا مقدمہ کی سماعت بجائے ناندیڑ یا اورنگ آباد کے ممبئی میں ہونگی جس کے خلاف ملزم ناصر یافعی نے سپریم کورٹ میں پٹیشن داخل کی ہے جوزیر سماعت ہے۔
جمعیۃ علماء مہاراشٹر