بی جے پی حکومت میں ہجومی تشدد کا سلسلہ جاری، تریپورہ میں ایک اور شخص کا پیٹ پیٹ کر قتل

تریپورہ میں بھیڑ کے ذریعہ بے رحمی کا یہ معاملہ 2 جولائی کا ہے جس کی خبر ملنے کے بعد علاقے کی پولس موقع پر پہنچی اور بھیڑ سے اس شخص کو چھڑا کر اسپتال لے گئی۔ پولس کے مطابق دورانِ علاج اس کی موت ہو گئی۔

بی جے پی حکمراں ریاستوں میں مویشیوں کے نام پر لوگوں کا قتل کرنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ تازہ معاملہ تریپورہ کا ہے جہاں دھلائی ضلع میں ہند-بنگلہ دیش سرحد کے پاس ایک گاؤں میں مویشی چوری کے شبہ میں 38 سالہ ایک شخص کا پیٹ پیٹ کر قتل کر دیا گیا۔ خبروں کے مطابق رائے سیاباری تھانہ علاقہ میں لوگوں نے ایک شخص کو مویشی چوری کے شبہ میں پکڑ لیا اور اس کی پٹائی شروع کر دی۔ بھیڑ نے اس شخص کو اس قدر بری طرح سے پیٹا کہ وہ موت کی نیند سو گیا۔
بھیڑ کے ذریعہ کسی شخص کا پیٹ پیٹ کر قتل کیے جانے کا یہ پہلا معاملہ نہیں ہے۔ اس سے قبل جھارکھنڈ کے سرائے کیلا واقع کھرساواں میں چوری کے شبہ میں بھیڑ نے 24 سال کے مسلم نوجوان کو اتنا پیٹا تھا کہ اس کی موت ہو گئی تھی۔ تبریز انصاری نام کے نوجوان کو بھیڑ نے کئی گھنٹوں تک پیٹا تھا۔ اس دوران اس سے ’جے شری رام‘ کا نعرہ بھی لگوایا گیا تھا۔ تبریز کو 18 جون کو پولس کے حوالے کیا گیا تھا۔ پولس نے نوجوان کو کورٹ میں پیش کیا، جہاں سے عدالت نے نوجوان کو عدالتی حراست میں بھیج دیا تھا۔ نوجوان کو 22 جون کو سنگین حالت میں اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا، جہاں علاج کے دوران اس کی موت ہو گئی تھی۔

معاملہ 2 جولائی کا ہے۔ واقعہ کی خبر ملنے کے بعد مقامی پولس موقع پر پہنچی اور بھیڑ سے اس شخص کو چھڑا کر اسپتال لے گئی۔ پولس نے بتایا کہ متاثرہ شخص کو اسپتال لے جایا گیا جہاں اس نے دم توڑ دیا۔ پولس نے کہا کہ ’’متاثرہ بدھی رام، مانیہ کمار پارا گاؤں کا رہنے والا تھا۔ پوسٹ مارٹم کے بعد مہلوک کی لاش ان کے اہل خانہ کے حوالے کر دی گئی ہے۔‘‘ پولس نے پورے معاملے کی جانچ کیے جانے کی یقین دہانی کرائی ہے۔