ظالم ڈرپوک ہوتا ہے وہ مظلوم کے نعش سے بھی ڈرتا ہے! حضرت مولانا ابو ظفر حسان ندوی

تعزیتی نشسث ‘ بیاد حافظ محمد مرسی کے موقعے پر ممتاز معززین شہر کا اظہار خیال !

‘ تعزیتی نشسث ‘ بیاد حافظ محمد مرسی کے موقعے پر ممتاز معززین شہر کا اظہار خیال !

حافظ ڈاکٹر محمد مرسی کی عدالتی حراست میں موت دراصل حراستی قتل ہے ۔ وحدت اسلامی ممبئی یونٹ کی آجانب سے ج بروز سنیچر منعقدہ تعزیتی نشست بمقام مراٹھی پترکار سنگھ میں معززین شہر نے شہید محمد مرسی کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا ۔ جس کی صدارت مفکر اسلام حضرت مولانا ابو ظفر حسان ندوی اظہری صاحب نے کی ۔
نشست کا آغاز محترم رضوان صدیقی صاحب کی تلاوت کلام سے ہوا ۔ جناب عادل کھوت صاحب نے پروگرام کی غرض و غایت بیان کی ، بعد ازاں مولانا شاہد ناصری ( ایڈیٹر مکہ میگزین ) نے فرمایا کہ حافظ مرسی عصری تعلیم حاصل کرنے کے باوجود آخر وقت تک آپ پر صبغتہ اللہ کا رنگ غالب رہا ، مزید فرمایا کہ مصر کی سرزمین انبیاء کرام کی سرزمین رہی ہے اور اسی سنت کو حافظ مرسی نے تازہ کیا ہے ۔ اس کے بعد شیخ سلیم صاحب ( صدر ویلفیئر پارٹی مہاراشٹر ) نے اپنی تقریر میں خلافت کے خاتمے کے بعد مسلم دنیا کی تقسیم پر روشنی ڈالی ، عرب بہاراں کے نتیجے میں پہلی مرتبہ عرب ملکوں میں جمہوری اقتدار کا ۔موقعہ ملا ، اور صاف و شفاف الیکشن کے زریعے مرسی صاحب نے حکومت سنبھالی ۔ اس کے بعد ابراہیم خلیل عابدی (وحدت اسلامی ،ممبئی )نے اپنی گفتگو میں ہندوستان اور مصر کے تعلق کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان پہلا وہ ملک ہے کہ جس نے محمد مرسی کے منتخب ہونے کے بعد انھيں ملک کے دورے کی دعوت دی ۔ لوکل اسٹیبلشمنٹ ، ریجنل اسٹیبلشمنٹ اور عالمی اسٹیبلشمنٹ یہ تین عناصر تھے جو محمد مرسی کے خلاف سازش میں شریک تھے ۔ آج کتے بلیوں کے حقوق ہے ، شاتم رسول کے حقوق ہے ، مگر جائز طریقے سے منتخب ہوئے صدر کے لئے کوئی حقوق نہیں ۔ بعد ازاں رکن مسلم پرسنل لا بورڈ کے رکن حضرت مولانا محمود دریابادی نے خطاب کرتے ہوئے محمد مرسی کو تاریخی قائد قرار دیا اور کہا کہ ڈاکٹر مرسی مصر کے اول انتخابی صدر رہے ہیں ۔ ڈاکٹر مرسی نے بدعنوان لیڈروں کا احتساب کیا ۔ مولانا نے ظالموں کی سخت الفاظ نے مذمت کی ۔

صدارتی خطاب کرتے ہوئے حضرت مولانا ابو ظفر حسان ندوی صاحب نے فرمایا کہ ہم حافظ مرسی کی تعزیت نہیں بلکہ خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے جمع ہوئے ہیں ۔ آپ نے فرمایا کہ آج دہشت گردی کی تعریف یہ ہے کہ برسراقتدار طبقہ جس کو دہشت گرد قرار دے وہ دہشت گرد ہے ، حقیقتاً آج کا سب بڑا دہشتگرد امریکہ ہے ۔ نبیوں کو قتل کیا گیا ، یوسف علیہ السلام کو اسیر زنداں کیا گیا ، حضرت حسین رضی اللہ تعالی کو مظلومانہ طریقے سے شہید کیا گیا اور اللہ دیکھ رہا تھا ، اللہ ظالموں ڈھیل دیتا ہے اور اہل جق کو سرخرو کرتا ہے ۔ محمد مرسی بھی مرے اور السیسی بھی مرے گا ، مگر مرسی ہمیشہ یاد رکھے جائے گے ۔ اپنا تجربہ بیان کرتے ہوئے مولانا نے فرمایا کہ مصر کی عوام خداپرست ہے اور دین پسند ہے ۔
نشست کی نظامت جنابِ عادل کھوت صاحب نے کی ۔ عوف اور راشد نے ولولہ انگیز ترانہ پیش کی ۔ آخر میں مولانا ابو ظفر صاحب کی دعا پر نشست کا اختتام ہوا ۔