کیا وزیراعظم مودی طلاق ثلاثہ بل پر اپوزیشن کی بات کو اہمیت دیں گے؟ : ڈاکٹر محمد منظور عالم نئی دہلی.

18/جون /2019 , وزیراعظم نریندر مودی کا یہ بیان بہت اہم ہے کہ “جمہوریت کی مضبوطی کیلئے مضبوط اپوزیشن کا ہونا ضروری ہے” . یہی سچائی ہے اور حقیقت بھی یہی ہے کہ اپوزیشن کی مضبوطی سے جمہوریت توانا اور فعال رہتی ہے. عوام کے مسائل اجاگر ہوتے ہیں اور سیاست میں لوگوں کی دلچسپی بھی بڑھتی ہے تاہم سوال یہ ہے کیا وزیراعظم مودی صاحب اپنے ان جملوں کو عملی جامہ پہنائیں گے اور واقعی وہ سترہویں لوک سبھا کے پہلے اجلاس میں اپنے دیئے گئے بیان پر قائم رہیں گے جس میں ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ “اپوزیشن کے لوگ نمبر کی فکر چھوڑ دیں ملک کے عوام نے انہیں جو نمبر دیا ہے وہ دیا ہے لیکن ہمارے لیے ان کا ہر لفظ با معنی ہے. ان کا ہر جذبہ اہمیت رکھتا ہے”  ان خیالات کا اظہار آل انڈیا ملی کونسل کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹر محمد منظور عالم نے کیا. انہوں نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ طلاق ثلاثہ بل پر بی جے پی مسلسل بضد ہے اور اب رواں سیشن میں اسے پیش کیا جائے گا جب کہ مسلم عوام اس کے بالکلیہ خلاف ہیں. اپوزیشن پارٹیوں نے بھی اس کی مخالفت کرتے ہوئے کئی طرح کی ترمیم کا مطالبہ کررکھا ہے. خود این ڈی اے میں شامل کئی پارٹیاں اس پر بی جے پی کا ساتھ نہیں دے رہی ہیں تو کیا نریندر مودی اس معاملے میں اپوزیشن کی ترمیمی سفارشات کو اہمیت دیں گے. ان کے ضروری اور اہم مطالبات کو تسلیم کریں گے یا پھر اکثریت کے زعم میں اپوزیشن کی بات کو اہمیت دیئے بغیر بل پاس کریں گے جس سے کوئی بھی مطمئن اور خوش نہیں ہے. خاص طور پر مسلمان اسے اپنے مسلم پرسنل لا میں واضح مداخلت مان رہے ہیں اور اپوزیشن کا بھی یہی احساس ہے کہ یہ بل مسلم خواتین کے خلاف اور مسلم پرسنل لا میں مداخلت پر مبنی ہے.  جو کچھ بھی ہے اس معاملے میں ہندوستانی عوام اور دنیا کے سامنے ایک مرتبہ پھر یہ حقیقت سامنے آجائے گی کہ نریندر مودی واقعی اپوزیشن کو اہمیت دینا چاہتے ہیں اور اپنے بیان پر اس بیان پر وہ اٹل ہیں یا یہاں بھی انہوں محض جملہ بازی کی ہے ان کے بیان اور عمل میں کوئی مطابقت نہیں ہے اور اپوزیشن کی ان کے یہاں کوئی اہمیت نہیں ہے.