ماہ رمضان کا سبق نقطہ نظر :ڈاکٹر محمد منظور عالم

ماہ رمضان کا سبق
نقطہ نظر :ڈاکٹر محمد منظور عالم
رمضان المبارک کا مقدس مہینہ ہم سے رخصت ہورہاہے ۔ ایک ماہ تک اپنی عظمت ،رحمت اور برکت کی بارش برسانے کے بعد یہ مہینہ گیارہ ماہ کیلئے ہمیں الوداع کہہ رہاہے ۔ قابل مبارکباد ہیں وہ تمام نفوس جنہوں نے اس ماہ کو پایا ۔ عبادت وریاضت کا اہتمام کیا ۔ روزہ رکھنے اور نماز تروایح پڑھنے کی سعادت حاصل کی ۔ بلاشبہ رمضان سال کے گیارہ ماہ کے مقابلے میں بے پناہ خصوصی اہمیت کا حامل ہے ۔ اللہ تبارک وتعالی نے روزہ ، تراویح جیسی عبادتوں کے ساتھ اس ماہ کو شب قدر کی دولت سے بھی نوازاہے جو امت محمدیہ کا اختصاص ہے ۔ شب قدر امت محمدیہ کیلئے ایک عظیم رات ہے ۔اس رات کی عظمت سے فکر انسانی کو واقف کروانے کیلئے اللہ رب العزت قرآن کریم میں ارشاد فرماتے ہیں ” ( لَیلَة± القَد رِخَیر±مِّن اَلفِ شَھر) ترجمہ۔ شب قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔“(القرآن)
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی اسرائیل کے چار حضرات ، حضرت ایوب علیہ السلام ، حضرت زکریا علیہ السلام ، حضرت حزقیل علیہ السلام ، حضرت یوشع بن نوع علیہ السلام کا ذکر فرمایا کہ ان حضرات نے اسیّ اسیّ برس اللہ تعالیٰ کی عبادت کی اور پلک جھپکنے کے برابر بھی اس کی نافرمانی نہیں کی ، اس پر صحابہ کرام کو تعجب ہوا۔ فورا ہی حضرت جبرئیل علیہ السلام حضور علیہ الصلوٰة والسلام کے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ آپ کی امت کو ان حضرات کے اسیّ اسیّ برس عبادت کرنے پر تعجب ہو رہا ہے ، اللہ تعالیٰ نے اس سے بہتر چیز بھیجی ہے۔چنانچہ آپ نے سورة القدرپڑھ کر سنائی اور فرمایا یہ اس سے بہتر ہے جس پر آپ اور آپ کی امت کو تعجب ہورہا ہے۔یہ سن کر نبی علیہ الصلوة والسلام اور صحابہ کرام خوش ہو گئے۔(الدر المنثور)۔یعنی ایک ہزار سال تک کی عبادت سے بھی اس ایک رات کی عبادت کی برابری نہیں ہو سکتی ، اگر مسلمان تھوڑی سی بھی کوشش کر لیں تو اس رات انکی مغفرت کا، بخشش کا سامان بھی ہوجاتا ہے اور دنیا اور آخرت بھی درست ہو جاتی ہے۔ یہی وہ رات ہے جب ہم اپنے رب کو منا بھی سکتے ہیں اور منوا بھی سکتے ہیں۔اسی رات میں لوح محفوظ سے قرآن کریم کو روئے زمین پر اتارا گیا۔اسی رات میں حضرت آدم علیہ السلام کا مادہ جمع ہونا شروع ہوا۔ اسی رات میں حضرت عیسٰی علیہ السلام کو آسمان پر اٹھایاگیا۔ اسی رات کو بنی اسرائیل کی توبہ قبول کی گئی۔اسی رات میں آسمان کے دروازے کھلے رہتے ہیں۔اسی رات کو آسمان سے فرشتے اتر کر اللہ کے نیک بندوں (مومنین)کو سلام پیش کرتے ہیں، ان سے مصافحہ کرتے ہیں، ان کیلئے دعاء خیر کرتے ہیں اور انکی دعاو¿ں پر آمین کہتے ہیں اور یہی اس رات کی افضلیت کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ مسلمان خوش نصیب ہیں جنہیں اللہ تعالی ایسی عظیم رات عطاءفرمائی ہے ۔
ماہ رمضان المبارک میں اللہ تعالی ہمیں پڑوسیوں کے حقوق سمجھنے کا موقع دیتاہے ۔ ماہ مبارک میں غریبوں ،محتاجوں اور ضرورت مندوں کی ضروریات کا احساس ہوتاہے اور یہ مطالبہ کرتاہے کہ ہم پڑوسیوں ،غریبوں اور ضرروت مندوں کا خیال رکھیں ۔ ان کی ضروریات پوری کریں ۔ زیادہ سے زیادہ اللہ کے راہ میں خرچ کریں ۔
ماہ مبارک ہمیں احتساب کی بھی دعوت دیتاہے رمضان بتاتاہے کہ ایک انسان کو اپنی زندگی کاجائزہ لینا چاہیئے ۔ خامیوں ،کوتاہیوں کا احتساب کرنا چاہیئے ۔ اپنی زندگی کے بارے میں ہمارا اپنا احتساب سب سے اہم ہے ۔
رمضان المبارک یقین کا درس دیتاہے ۔ مسلمانوں کا ایمان اور یقین مضبوط ہوتاہے ۔ ایک مسلمان جب بظاہر کسی بھی طرح کی ممانعت اور رکاوٹ کے باوجو د بھوک اورپیاس کی شدت برداشت کرکے روزہ رکھتاہے تو اس کا یقین دوبالاہوجاتاہے ۔ اللہ تعالی کی قربت میں مزید اضافہ ہوتاہے ۔ اہل ایمان کی خصوصیات میں یہ وصف بہت نمایاں ہے کہ جب انسان کمزور ہوتاہے ۔ کسی طرح کے آلام ومصائب کا شکار ہوجاتاہے تو اس وقت اللہ تعالی پر ایمان ویقین کئی گنا زیادہ بڑھ جاتا ہے ۔ کامیابی کی تمام امیدیں اللہ تعالی وابستہ ہوتی ہیں ۔ ایمان کی تازگی ،بھروسہ میں اضافہ اور یقین کی دولت سے مالا مال ہوجانے کے بعد قوت فیصلہ میں اضافہ ہوجاتاہے ۔ مشکلات سے نکلنے اور صحیح سمت پر گامزن ہونے کیلئے شعورکا ادارک ہوتاہے او راس طرح انسان کامیابی کی منزلیں طے کرتاہے ۔
حالیہ رمضان میں عبادت کے ساتھ سیاست سے بھی ہم سب کی دلچسپی وابستہ رہی ۔کیوں کہ ہندوستان کے پانچ سالوں کی تقدیر کافیصلہ اسی ماہ مبارک میں ہوا ۔23مئی مطابق 17 رمضان المبارک کو آنے والے نتیجہ سے کسی حدتک ملک کے سیکولر طبقہ کو مایوسی ہوئی لیکن دوسری طرف ماہ مبارک نے ہمیں حوصلہ بخشا۔ بہتر راہ نکالنے کی تجویز دکھا ئی کہ ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے ۔ اس کا آئین اور دستورجامع اور مستحکم ہے ۔ جمہوری نظام میں آئین کی بالادستی اور قوانین کی حکمرانی ہوتی ہے ۔ وہاں کسی کا ذاتی فرمان نہیں چلتاہے بلکہ ملک کا سربراہ اور وزیر اعظم بھی آئین کے ماتحت اور اس کا فرماں بردار ہوتاہے ۔ اس لئے حکومت سیکولر پارٹیوں کی ہو یا شدت پسند سیاسی جماعت کی وہ آئین کے مطابق اپنا نظام چلانے کیلئے پابندہے ۔ پارٹی اور تنظیم کی ذمہ داری ہے کہ وہ آئین کی پاسداری کرے ۔ ملک کو دستور کے مطابق چلائے اس کے ساتھ اس مبارک ماہ سے سبق سیکھتے ہوئے ہمیں اپنے کردار وعمل سے یہ ثابت کرناہے کہ مسلمان آئین اور دستور کے پابند ہوتے ہیں ۔ ہم وہ لوگ ہیں جو آئین کی بالادستی چاہتے ہیں ۔ ہم ان لوگوں میں سے نہیں جو آئین اور دستور کی تباہی وبربادی کے درپے ہوتے ہیں کیوں کہ جس ملک میں آئین کی بالادستی ختم ہوجاتی ہے وہاں جنگل راج نافذ ہوجاتاہے جہاں غنڈہ گردی ، دہشت گردی ،غریبوں پر ظلم اور کمزوروں کوستائے جانے کے علاوہ کچھ اور نہیں ہوتا۔
ماہ مبارک نے ہماری یہ تربیت کی ہے کہ ہم جذبات پر قابور کھیں ۔ شعوراور دانشمندی سے کام لیں ۔ جذبات سے کھیلنے والوں کے بہکاوے میں نہ آئیں ۔ جذباتیت کا جواب سنجیدگی سے دیں ۔ اپنے حسن اخلاق ،اعمال اور کیریکٹر سے سبھی کا دل جیتیں ۔ گفتار اور کردار سے دوسروں کو متاثر کریں ۔ میٹھی زبان استعمال کریں ۔ اپنے حسن عمل اور طرزندگی سے دنیا کو قائل کرنے اور دشمنوں کے دل میں جگہ بنانے کی کوشش کریں ۔اخوت اور بھائی چارہ کو فرو غ دیں ۔ انسانیت کی بنیاد پر کمزوروں ،مظلوموں اور دبے کچلے لوگوں کا ساتھ دیں ۔ معاشرہ میں یہ احساس پیدا کریں کہ سفید اور کالے ،مالدار اور غریب ،مردو وعورت سبھی اللہ تعالی کی نظر میں برابر ہیں ۔ سبھی کو یکساں حقوق حاصل ہیں ۔کسی کو کسی پر کسی طرح کی برتری اور فضیلت حاصل نہیں ہے ۔ فضیلت اور کامیابی کا مدار صرف تقوی ہے ۔یہ ہماری سب سے بڑی کامیابی ہوگی۔
ماہ مبارک اختتا م پذیر ہورہاہے ۔خوشیوں اور مسرتوں کے ساتھ عید سعید آگئی ہے ۔اللہ تعالی نے ہماری عبادت اور محنت کو قبول کرتے ہوئے ہمیں عید الفطر کی خوشیوں سے سرفراز کیاہے ۔ عید الفطر کے اس حسین موقع پر ہم عہد کریں کہ ہم پورے سال ایسا ہی خوشگوار ماحول بنائے رکھنے کی کوشش کریں گے ۔ دانشمندی اور حکمت کے ساتھ آگے بڑھتے رہیں گے ۔ ماہ رمضان کے مثبت اثرات کو اگلے گیارہ ماہ تک اپنی زندگی میں برقرار رکھیں گے ۔اس مہینہ سے ہم نے جو کچھ سیکھاہے عملی زندگی میں اس کا مظاہرہ کریں گے اور رمضان میں ہونے والی روحانی ،اخلاقی ،نفسیاتی تربیت کے ساتھ اپنی زندگی بسر کریں گے ۔
آپ سب کو عید سعید کی پرخلوص مبارکباد ۔