برقعہ کا مسئلہ :شیوسینا اپنی اوقات میں رہے ، نتائج اچھے نہیں ہوں گے :شمشیر خان پٹھان

ممبئی :عوامی وکاس پارٹی کے صدر اور سابق اسسٹنٹ کمشنر آف پولیس شمشیر خان پٹھان نے برقعہ پر پابندی لگانے کے شیوسینا کے مطالبہ پر سخت تنقید کرتے ہوئے یہ کہا کہ شیوسینا اپنی اوقات میں رہے اور مسلم خواتین کے برقعہ کو ہاتھ لگانے کی کوشش نہ کرے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ سری لنکا میں جو بم دھماکہ ہوئے اس کی ہم سخت لفظوں میں مذمت کرتے ہیں اور سوشل میڈیا پر جن لڑکوں کو بم دھماکہ کے اشیا ٔ لے جاتے ہوئے دکھایا گیا وہ کوئی برقعہ پہنے ہوئے نہیں تھے اگر کوئی اکّا دکّا خاتون گناہ گار ہے تو اس کا ٹھیکرا تمام مسلم خواتین پر نہیں پھوڑا جا سکتا ۔ بھارت کی پردہ نشین خواتین نے آج تک کبھی بھی برقعہ کی آڑ میں دہشت گردانہ کارروائی نہ کی ہے اور نہ کریں گی ۔ جبکہ کئی ہندو لڑکیاں اور عورتیں خاص کر ناگپور کی طرف اور مہاراشٹر کے دیگر علاقوں میں موٹر سائیکل میں سفر کرتے وقت دھوپ میں اپنا پورا چہرہ ڈھانپ دیتی ہیں جو ایک قسم کا برقعہ ہوتا ہے ۔ شیوسینا نے ووٹ کی سیاست کے تحت مسلم خواتین پر برقعہ اوڑھنے پر پابندی لگانے کی بات کی ہے اور پرگیہ ٹھاکر جو دہشت گرد ہے اس نے اس بات کی تائید کی ہے ۔ جو مسلم قیادت شیوسینا میں کام کر رہے ہیں انہیں فوراً ایک جگہ جمع ہو کر ادھو ٹھاکرے سے معافی منگوانی چاہیئے ورنہ شیوسینا سے استعفی دے دینا چاہیئے ۔ شمشیر خان پٹھان نے برقعہ پر پابندی کا شیوسینا کے مطالبہ پر سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس سے نہ صرف مہاراشٹر بلکہ پورے ملک میں مذہبی اور سماجی ہم آہنگی کو شدید نقصان پہنچے گا ۔ انہوں نے کہا کہ پردہ ایک عظیم روایت ہے جو صرف مسلمانوں تک ہی محدود نہیں ہے ادھو ٹھاکرے اس ملک کی تہذیب سے نا آشنا ہیں اترپردیش اور بہار میں مسلم خواتین ہی نہیں بلکہ ہندو خواتین بھی اپنے جسم کو نظر بد سے بچانے کیلئے ساتر لباس کے ساتھ ساتھ لمبا گھونگھٹ بھی کاڑھتی ہیں اور اسلام میں تو پردے کی روایت ہے پردے پر پابندی کا مطالبہ مسلمانوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے وہیں مہاراشٹر سے قریب کی ریاست گجرات کے بیشتر علاقوں میں خواتین گھونگھٹ میں رہتی ہیں تو پھر کیا ادھو ٹھاکرے ان کے گھونگھٹ پر بھی پابندی کا مطالبہ کریں گے ۔شمشیر خان پٹھان نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ شیوسینا کے مسلم اراکین کا ایمان جگ جائے اور شیوسینا کو سبق دیں نا کہ بے شرموں کی طرح ان کے پیچھے نعرے بازی کرتے رہیں ۔ شمشیر خان پٹھان نے آخر میں شیوسینا کو تنبیہ دی کہ اگر ہماری خواتین کے برقعہ پر ہاتھ ڈالا گیا تو نتائج بہت برے ہوں گے اور تمام مسلمان اس مسئلے کو لیکر راستے پر اتر جائے گا ۔