ایک سعید اوررخصت ہوئے!شریک غم ۔ محمد شاہدالناصری الحنفی ۔ بانی وصدرادارہ دعوتہ السنہ ویلفر ٹرسٹ کاندیولی ممبئ مہاراشٹرا۔


تقریبا نماز عشاء کے قریب اچانک یہ روح فرساخبرملی کہ حضرت مولانا غلام محمدصاحب وستانوی رئیس جامعہ اشاعت العلوم اکل کوا کے بڑے صاحبزادے مولاناسعیداحمد وستانوی بھی طویل علالت کے بعد راہی ملک بقاء ہوگئے۔۔اناللہ واناالیہ راجعون ۔
واقعی یہ صدمئہ جانکاہ اس لئے ثابت ہوا کہ نفاق وشقاق کے اس ٹکسالی دورمیں یہ نوجوان واقعی سعید تھا ۔ خاکسارسے کئ ملاقاتیں تھیں ۔پہلی ملاقات تو ادارہ دعوتہ السنہ مہاراشٹرا کے کل ہندمسابقئہ قرآن مجید کی تقریب حج ہاؤس ممبئ میں ہوئ تھی ۔ اس وقت یہ مرکزی ادارہ اکل کوا میں نہیں تھے بلکہ اس کی کسی شاخ میں تھے۔ حج ہاؤس میں مجھے بتایاگیا کہ یہ مولاناسعید صاحب شیخ وستانوی کے بڑے صاحبزادے ہیں ۔ سلام کلام کی نوبت آئ ۔ پہلی ملاقات میں بڑے متواضع اورخلیق معلوم ہوئے ۔ بوقت لقاء اظہارتبسم اور عاجزی وفروتنی کامظاہرہ ۔اورحددرجہ سادگی ۔ٹیپ ٹاپ اورشاہانہ لباس سے عاری منظر کودیکھ کرمیں دنگ رہ گیا۔ دل سے دعا نکلی کہ اللہ پاک نظربد سے حفاظت فرمائے ۔ ورنہ مشاہبرعلماء کے صاحبزادوں کاحال امراء کے صاحبزادوں سے کم برانہیں ہوتاہے گرچہ بسااوقات صاحبزادہ عالم دین بھی ہوتاہے ۔ اس کے بعد پھر کئ ملاقاتیں ہوئیں ۔یونائیڈڈ مسافرخانہ ممبئ سنٹرل میں اورجامعہ اشاعت العلوم میں بھی ۔ ہرملاقات میں پرتپاک انداز برقراررہا ۔اورتواضع وعاجزی اورانکساری کامظاہرہ بھی جو ان کی فطری سعادت کی بین علامت تھی ۔ آج جب اس حادثئہ فاجعہ کی اطلاع ملی تودل بہت رنجورہوا ۔
زمانئہ قحط السعداء والصالحین میں ایسے نوجوان صالح سے بہت ساری امیدیں امت کی وابستہ تھیں لیکن قضاء وقدرکے فیصلوں پرکس کی مجال کہ لب کوجنبش دے ۔ جو خالق تھا سعیدکا اورحوخلاق ہے ہم سب کا اس کاجو فیصلہ جس کیلئے ہوگا وہ نافذ ہوکر رہتاہے۔ رضیت باللہ ربا وبالاسلام دینا وبمحمد نبیا ورسولا۔
سرتسلیم خم ہے جومزاج یارمیں آئے۔
اللہ پاک مرحوم کی بال بال مغفرت فرمائے۔ان کے عظیم القدر والدین مکرمین اور اہل وعیال ودیگرپسماندگان کوصبرجمیل مرحمت فرمائے آمین ۔
خاکسار اس غمناک موقع پر حضرت مولاناغلام محمدوستانوی صاحب مدظلہ اوراخی الصالح مولانا حذیفہ وستانوی زیدفضلہ کی خدمت میں تعزیت مسنونہ پیش کرتے ہوئے غم میں شریک ہوتاہے۔
ادارہ دعوتہ السنہ میں ایصال ثواب کااہتمام کیاجارہاہے ۔ ارباب مدارس وعامتہ المسلمین سے ایصال ثواب کی التماس ہے ۔